Published On: Tue, Jun 18th, 2013

’برطانیہ جاسوسی کے معاملے پر وضاحت کرے

pa_nocreditترک حکومت نے برطانیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اخباری خبر کے بعد ’سرکاری اور اطمینان بخش وضاحت‘ کرے جس میں کہا گیا تھا کہ برطانوی حکومت نے لندن میں جی 20 کے سربراہی اجلاس کے دوران مندوبین کی جاسوسی کی تھی۔
ترکی کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ یہ دعویٰ پریشان کن ہے کہ اس دوران ترک وزیرِخارجہ کی فون پر کی گئی گفتگو ریکارڈ کی گئی تھی، اور اگر اس بات میں ذرا برابر بھی سچ ہے تو یہ ایک سکینڈل ہے۔
گارڈین اخبار نے کہا تھا کہ افشا شدہ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ کے انٹیلی جنس ادارے نے مندوبین کی کمپیوٹروں کی نگرانی کی تھی اور ان کے فون ریکارڈ کیے تھے۔
برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
اسی دوران شمالی آئرلینڈ میں جی ایٹ کا اجلاس جاری ہے جس میں دنیا کے آٹھ بڑے ملکوں کے رہنما حصہ لے رہے ہیں۔
گارڈین اخبار نے کہا تھا کہ برطانیہ کی سائبر جاسوسی کے ادارے جی سی ایچ کیو نے چار برس قبل جی 20 کے دو سربراہی اجلاسوں کے دوران بیرونی سیاست دانوں کی جاسوسی کی تھی۔
اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ افشا شدہ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانوی انٹیلی جنس اداروں نے مخصوص انٹرنیٹ کیفے قائم کر رکھے تھے تاکہ اجلاس میں شامل افراد کی ای میلز پڑھی جا سکیں۔
اخبار نے لکھا تھا کہ اس کارروائی کی منظوری اس وقت کے وزیرِاعظم گورڈن براؤن کی حکومت میں اعلیٰ سطح پر دی گئی تھی اور حاصل شدہ معلومات کو وزیرں تک پہنچایا گیا تھا۔
برطانوی دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ ترکی نے اس معاملے پر برطانوی سفیر سر ڈیوڈ ریڈاوے سے بات کی ہے۔
ایک ترجمان نے کہا: ’طے شدہ روایت کے تحت ہم انٹیلی جنس کے معاملات پر تبصرہ نہیں کرتے۔‘
تاہم انھوں نے کہا کہ سفیر کو ترک وزارتِ خارجہ میں طلب نہیں کیا گیا تھا بلکہ یہ بات ان سے فون پر کی گئی۔
خفیہ نگرانی کی یہ تفصیلات ان دستاویزات میں موجود تھیں جو سنوڈن نے فراہم کی تھیں اور جن میں امریکی خفیہ ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے کارروائیوں کے بارے میں کئی انکشافات موجود تھے۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>