Published On: Mon, Jul 1st, 2013

امریکہ پر جاسوسی کے نئے الزامات

afpgetty_nocreditامریکہ کے خفیہ ادارے کے جاسوسی کے پروگرام میں فرانس، یونان اور اٹلی کو ’ہدف‘ بنایا گیا ہے۔
برطانوی اخبار گارڈین میں شائع ہونی والی دستاویز میں یہ انکشاف کیا گیا ہے۔
امریکہ کے خفیہ ادارے یا نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی اس دستاویز کے مطابق یورپی ممالک کے بجائے جاسوسی کے آپریشن میں امریکہ کے دیگر اتحادیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
جرمنی کے سپیگل میگزین میں شائع ہونے والی خبر میں انکشاف کیا گیا تھا کہ امریکہ نے یورپی یونین کے دفاتر کی جاسوسی کی ہے جبکہ یورپی رہنماؤں نے امریکی حکام سے اس الزام کی مکمل وضاحت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ دستاویزات امریکہ خفیہ ایجنسی کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنورڈن منظر عام پر لائے ہیں۔ جو امریکی حکومت کو مطلوب ہیں اور ان دنوں روس کے دارالحکومت ماسکو کے ہوائی اڈے پر ہیں۔
ایڈورڈ سنورڈن نے ایکواڈور میں پناہ کی درخواست بھی دی ہوئی ہے۔
جرمن میگزین میں شائع ہونے والے الزامات کے بعد یورپی یونین، فرانس اور جرمنی کے حکام نے خبردار کیا تھا کہ الزامات درست ثابت ہونے پر امریکہ کے ساتھ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔
امریکی حکومت اور نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے کہا کہ وہ سفارتی ذرائع سے ان الزامات کا جواب دیں گے۔
گارڈین اخبار میں شائع ہونے والی سنہ 2010 کی دستاویز کے مطابق انتالیس سفارت خانے اور مشنز کو نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے ’ہدف‘ قرار دیا ہے۔
اس دستاویز میں غیر معمولی جاسوسی کے طریقوں کی تفصیلات موجود ہیں جن میں بگ لگانا، کیمونیکیشن کو سننا وغیرہ شامل ہیں۔
دستاویز میں اقوام متحدہ میں فرانس اور جرمنی کے مشن اور واشنگٹن میں اٹلی کے سفارت خانے میں غیر قانونی آپریشنز کے خفیہ نام بھی درج ہیں۔
جاسوسی کا ہدف بنائے جانے والی فہرست میں جاپان، میکسکو، جنوبی کوریا، ترکی اور بھارت بھی شامل ہیں۔
جرمنی کے رسالے کے مطابق اسے ملنے والی خفیہ امریکی دستاویز سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے واشنگٹن میں یورپی یونین کے دفتر کے کمپیوٹر نیٹ ورکس کی جاسوسی کی اور نیویارک میں اقوام متحدہ کی عمارت میں واقع یورپی یونین کے دفاتر سے بھی خفیہ طور پر معلومات حاصل کرتی رہی۔
ادھر فرانس کے وزیر خارجہ لورونگ فیبیوس نے کہا ہے کہ اگر یہ دعویٰ درست ہوا تو خفیہ نگرانی کا یہ عمل قطعی طور پر ’ناقابل قبول‘ ہوگا۔
جرمنی کی وزیر انصاف نے کہا ہے کہ یہ سرد جنگ کی یاد دلانے والا رویہ ہے۔
یورپی پارلیمینٹ کے صدر مارٹین شُلٹس نے کہا کہ اگر حقیقت میں یہ الزام سچ ہوا تو امریکہ کو بہت ساری چیزوں کا جواب دینا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے دھچکہ لگا ہے، فرض کریں کہ اگر یہ سچ ہوا تو پھر تو مجھے ایسا محسوس ہوگا کہ یورپی باشندے اور یورپی ادارے کے نمائندے کی حیثیت سے میرے ساتھ وہی برتاؤ ہوا ہے جو دشمن کے ساتھ ہوتا ہے۔ کیا باہمی اعتماد پر مبنی تعمیری تعلقات کی یہ بنیاد ہوتی ہے۔ میرے خیال میں نہیں۔ اس لیے یہاں برسلز میں امریکہ کے سفارتخانے سے میرا پہلا سوال یہی ہوگا کہ کیا یہ سچ ہے؟ اور اگر یہ سچ ہے تو کیوں؟ انہیں اس کی وجہ بتانا ہوگی۔‘
یورپی پارلیمینٹ کے صدر مارٹین شُلٹس نے مزید کہا کہ اگر یورپی یونین کے دفاتر کی جاسوسی کا یہ الزام درست ہوا تو اس کے کچھ نتائج بھی ہوں گے۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>