Published On: Sat, Jun 29th, 2013

مصر: حکومت مخالف مظاہرے جاری، امریکی سفارتی عملہ واپس

Share This
Tags

_clashes_in_port_said_egypt(بی بی سی نیو ز)

مصر میں صدر محمد مرسی کے اقتدار کے ایک سال کے خاتمے پر ملک میں ہونے والے مظاہرے جاری ہیں۔ صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپوں کے بعد امریکہ نے اپنے شہریوں کو مصر کا غیر ضروری سفر کرنے سے منع کیا ہے جبکہ قاہرہ میں امریکی سفارت خانے کے غیر ضروری عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔
امریکہ کے محکمہّ خارجہ نے مصری نژاد امریکیوں سے بھی کہا ہے کہ وہ محتاط رہیں۔
امریکی حکومت کی جانب سے صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین کےدرمیان جاری مظاہروں میں تشدد بڑھنے کے بعد یہ اعلان سامنے آیا ہے۔
مصر میں ہونے والے حالیہ مظاہرں میں اب تک ایک امریکی شہری سمیت تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
امریکی محکمہّ خارجہ نے کہا ہے کہ مصر کے سیاسی اور سماجی حالات کشیدہ ہونے کی وجہ سے امریکی شہری مصر کا غیر ضروری سفر مت کریں۔
جمعے کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق ’غیر ہنگامی عملے اور خاندان کی واپسی کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ مصر سے واپس آ جائیں‘۔
مصر کے صدر مرسی کے استعفٰی کا مطالبہ کرنے والے مظاہروں میں تیزی آئی ہے اور اُن کے مخالفین نے اتوار کو صدر مرسی کے اقتدار کو ایک سال مکمل ہونے پر ایک بڑے مظاہرے کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ صدر کے حامیوں نے اُن کے استعفٰی کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔
دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ قاہرہ کا مرکزی ہوائی اڈہ پر مسافروں کی بھیٹر ہے اور یورپ، امریکہ اور خلیجی ممالک جانے والے تمام پرازویں پر بہت رش ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے کبھی مصر سے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا اخراج نہیں دیکھا گیا۔
گزشتہ روز مصر کے شمالی شہر سکندریہ میں سیاسی مظاہروں میں دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق مرنے والا ایک شخص امریکی تھا۔ مصر میں حکام کا کہنا ہے کہ جھڑپوں کی تصویر کھینچتے کے دوران مبینہ طور پر امریکی شہری کو سینے میں خنجر مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے مصر میں مظاہروں میں امریکی شہری کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
سکندریہ میں ہسپتال ذرائع کے مطابق مظاہروں میں درجن سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
مصر میں برسراقتدار جماعت اخوان المسلمین کے خلاف پرتشدد مظاہروں کی روک تھام کے لیے حکام نے پولیس کے علاوہ فوج کے ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی لی جا رہی ہے۔
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامی کے شہر کی مرکزی مسجد کے باہر جمع ہیں۔
اس سے قبل اپنی صدارت کے ایک سال کے موقع پر صدر مرسی نے کہا تھا کہ ملک میں جاری بے اطمینانی کے اظہار سے ’مصر کے مفلوج ہونے کا خطرہ‘ ہے۔
مرسی 30 جون 2012 کو انتخاب میں کامیابی کے بعد مصر کے پہلے اسلامی صدر بنے تھے۔
ان کی صدارت کا ایک سال سیاسی بے اطمینانی اور معیشت میں گراوٹ کی زد میں رہا۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>