Published On: Fri, Sep 27th, 2013

الطاف حسین اور تاج برطانیہ کی مشکل

4pakistan-UK-flagدو دہائیوں سے برطانیہ میں مستقل رہائش پذیر پاکستانی سیاستدان الطاف حسین ان دنوں لندن کی میٹروپولیٹن پولیس، جسے نیو سکاٹ لینڈ یارڈ بھی کہا جاتا ہے، کی تحقیقات کا موضوع ہیں۔ یہ تحقیقات ستمبر دوہزار دس میں الطاف حسین کی تنظیم متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماء ڈاکٹر عمران فاروق کے لندن میں قتل سے شروع ہوئیں اور اب ایسا لگتا ہے کہ ان کا دائرہ وسیع ہوتا جارہا ہے۔

اٹھارہ جون کو پولیس نے لندن کے دو رہائشی پتوں پر چھاپہ مارا اور کئی گھنٹوں تک تلاشی کا عمل جاری رہا۔ان دو رہائشی جائیدادوں میں سے ایک کی ملکیت الطاف حسین کے نام تھی، جسے انہوں نے اپنے ایک حالیہ خطاب میں تسلیم بھی کیا ہے۔

اس کارروائی میں لندن پولیس کے جن شعبوں نے حصہ لیاان میں ’سیریس اینڈ آرگنائزڈ کرائم ایجنسی‘ کے اہلکار بھی شامل تھے۔ یہ ایجنسی ’منی لانڈرنگ‘ یعنی کالے دھن کو سفید کرنے کے الزام کی تحقیقات کرتی ہے۔اخباری اطلاعات کے مطابق پولیس نے ان چھاپوں کے دوران بھاری تعداد میں نقد رقم بھی قبضے میں لی ہے۔

ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں پولیس نے دسمبر دوہزار بارہ میں ایم کیو ایم کے لندن دفتر کی بھی تلاشی لی تھی۔ عمران فاروق کے قتل پر اگرچہ الطاف حسین لائیو ٹی وی پر کافی دلگرفتہ نظر آئے تھے اور ان کے چار پانچ ساتھی انہیں مسلسل سنھبالنے کی کوشش کر رہے تھے، مگر وہ تھے کہ غم سے نڈھال ہو جارہے تھے، لیکن لندن پولیس کی اب تک کی کارروائیوں کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ اس قتل کی تحقیقات الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے گرد ہی گھوم رہی ہیں، اوراب منی لانڈرگ تحقیقات کا اس میں اضافہ ہوگیا۔

عمران فاروق کا شمار ایم کیو ایم کے بانی ارکان میں ہوتا تھا، وہ رکن قومی اسمبلی بھی رہے اور اپنی جماعت کے پارلیمانی رہنماء بھی۔ریکارڈ پر اگرچہ اس کے کوئی شواہد نہیں لیکن کہا جاتا ہے کہ آخری دنوں میں وہ الطاف حسین سے ہٹ کے کوئی سیاسی فیصلہ کرنے والے تھے۔

لندن پولیس کی حالیہ کارروائی کے بعد الطاف حسین نے ایک بار پھر ایم کیوایم کی رہبری سے مستعفی ہونے کا ٹیلیفونک اعلان کیا( جو کہ حسب معمول واپس بھی لے لیا گیا ہے)اور اس خطاب کے دوران کچھ دلچسپ باتیں بھی کیں۔ مثلاً یہ کہ ان کے خلاف کوئی عالمی سازش کی جارہی ہے یا یہ کہ ان کے خلاف سازشیں ختم کرنا برطانیہ کے اپنے مفاد میں ہے۔اسی طرح انہوں نے کہا کہ اگر وہ اختلاف رائے برداشت نہ کرتے تو ایم کیو ایم حقیقی کے آفاق احمد اور عامر خان آج زندہ نہ ہوتے۔

کچھ عرصہ قبل لندن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک پاکستانی صحافی کے تلخ سوال پر انہوں نے اس سے اس کے قد کاٹھ بارے جوابی سوال کر ڈالا تھا تاکہ بقول ان کے اس کے سائز کی ’بوری‘ تیار رکھی جائے۔کراچی میں سیاسی مخالفین کو قتل کرنے کے بعد بوری میں بند کرکے پھینکنے کا رواج ہے۔ مذکورہ صحافی کو الطاف حسین نے کیمرے کے سامنے یہ تک کہہ دیا کہ ’پاکستان تو تم جاتے ہی ہوگے‘۔

الطاف حسین اور ایم کیو ایم پر مخالفین جو الزامات لگاتے ہیں ان کی آڑ میں وہ چاہے اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں سہی لوگوں اور حکومتوں کو دھمکانے سے چوکتے نہیں۔

عمران فاروق کے قتل کے بعد جب لندن پولیس تیزی دکھا رہی تھی تو اٹھائیس ستمبر دو ہزار دس کو کراچی میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی امریکی سزا کے خلاف بہت بڑی ریلی کر کے الطاف حسین نے مغربی اسٹبلیشمنٹ کے سامنے اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا تھا۔ حالانکہ وہ جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں شریک اقتدار تھے جب ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو مبینہ طور پر امریکی حکام کے حوالے کیا گیا تھا۔

الطاف حسین ایک شاطر سیاستدان ہیں جو پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور معاشی طورپر کلیدی اہمیت کے حامل کراچی پر فولادی گرفت رکھتے ہیں، وہ جب چاہیں کراچی میں پہیہ جام کرا سکتے ہیں۔ پاکستان کا خودساختہ آزاد میڈیا بھی ان سے کنی کترا کے چلتا ہے۔ اگر کبھی کوئی ایسی خبر دینی ہی پڑ جائے جس سے ’الطاف بھائی‘ کی ناراضگی کا احتمال ہو تو ان کے نام کی بجائے کہا جاتا ہے ’بیرون ملک مقیم ایک بااثر پاکستانی سیاستدان‘۔

ملک کے صدر اور فوج کے سربراہ کے بارے میں سب کچھ کہا اور لکھا جا سکتا ہے لیکن الطاف بھائی کے بارے میں نہیں کیونکہ تمام بڑے میڈیا ہاؤسز کے صدر دفاتر کراچی میں ہیں۔

تو کیاایسے میں برطانوی پولیس، چاہے اس کی شہرت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، عمران فاروق قتل کیس کی تین سال سے جاری تحقیقات اور منی لانڈرنگ معاملات کو جلد نبٹا لے گی؟ خاص طور پر جب دوہزار چودہ میں افغانستان سے نیٹو افواج نے براستہ کراچی ہی واپس جانا ہو۔

اورالطاف حسین لگی لپٹی رکھے بغیرکہہ بھی رہے ہوں کہ ’برطانوی پولیس نہ سہی میرے لوگ تو مجھے چیف مانتے ہیں‘۔

مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں الطاف حسین کی سیاسی طاقت تو کچھ گہنا گئی ہے لیکن ان کی ’بندوق اور احتجاج‘ کی طاقت کو ابھی زنگ نہیں لگا۔

تاج برطانیہ کے لیے یہ یقیناًایک مشکل صورتحال ہے۔ ایک طرف ملک میں صدیوں کے عمل سے قائم کیے گئے اداروں کے وقار کا سوال ہے تو دوسری طرف خارجی مسائل درپیش ہیں۔ یہ وہ کشمکش ہے جس کا سامنا نو آبادیاتی عزائم رکھنے والے داخلی طور پر ہر مہذب ملک کو کرنا پڑتا ہے۔

اس لیے آنے والے دنوں میں پتہ چل جائے گا کہ پلڑا اصولوں کا بھاری ثابت ہوتا ہے یا مصلحت کا۔
_____________
ندیم سعید

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>