Published On: Fri, Jun 28th, 2013

قرآن کی آن لائن تعلیم پر برطانیہ میں تشویش!

online_quran(بی بی سی نیو ز)

برطانیہ میں رہنے والے بہت سے مسلمان اپنے بچوں کی اسلامی تعلیم کے لیے آن لائن کا رخ کر رہے ہیں۔
بی بی سی ایشیئن نیٹ ورک کی نمائندہ راحیلہ بانو بتاتی ہیں کہ اس سے بعض حلقوں میں یہ تشویش پیدا ہوئی ہے کہ سکائپ کے ذریعے قرآن پڑھنا سیکھنے والے بچوں کو برطانیہ سے باہر موجود گروہ شدت پسندی کے نظریات سکھا سکتے ہیں۔
ابھی اس ضمن میں کوئی سرکاری اعداد و شمار تو موجود نہیں ہیں کہ آن لائن کے ذریعے کتنے لوگ قرآن پڑھ رہے ہیں۔ لیکن یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پانچ سے سولہ سال کی عمر کے کم سے کم 100 بچے آن لائن اسلامی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
روایتی طور پر بچوں کو سکول کے بعد مدرسے بھیجا جاتا رہا ہے، جہاں وہ عربی لکھنا پڑھنا سیکھتے ہیں۔ اس کے بعد قرآن پڑھنا سیکھتے ہیں۔
اس کے لیے کئی بار مسجد اور اسلامی مراکز سے منسلک کیا جاتا ہے۔ کئی بار گھر پر ٹیوشن لگا کر اس کی تعلیم دی جاتی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں تقریباً ڈھائی لاکھ مسلم بچے اس قسم کے 2000 سے زیادہ تعلیمی اداروں میں اپنی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
راحیلہ بانو بتاتی ہیں کہ آٹھ سال کا حمزہ کئی سال سے اپنے کمرے میں کمپیوٹر کے ذریعے قرآن پڑھنا سیکھ رہا ہے۔ اس دوران اس کی والدہ اس کی نگرانی کرتی ہیں۔ اس نے تین سال پہلے فیض قرآن آن لائن اکیڈمی کے کورس میں داخلہ لیا تھا۔
حمزہ کو ہر ہفتے آدھے گھنٹے کی تین نششتوں میں شامل ہونا ہوتا ہے۔ اسے آن لائن تعلیم دینے والے مولوی لاہور میں واقع مرکز سے اسے تعلیم دیتے ہیں۔
سکائپ کے ذریعے پڑھائی تو ہوتی ہے لیکن اس میں کوئی ویڈیو نہیں ہوتی۔ اس میں ایسا سافٹ ویئر ضرور ہے جو قرآن کے صفحات کو ظاہر کرتا ہے۔ حمزہ اسے دیکھتے ہوئے پڑھتا ہے، جب وہ غلط تلفظ کرتا ہے تو مولوی اسے ٹھیک کرتے ہیں۔
حمزہ کے والد فواد رانا کے مطابق یہ ایک بہترین طریقہ تعلیم ہے۔ ان کا خاندان برمنگھم کے بیرونی علاقے میں رہتا ہے اور نزدیکی اسلامی مرکز ان کے گھر سے کئی میل کے فاصلے پر ہے۔
فواد رانا کہتے ہیں ’اگر ہم اسے مدرسہ لے جاتے تو ٹریفک میں دو گھنٹے لگتے۔ جب وہ واپس لوٹتا تو کھانے کا وقت ہو جاتا۔ ایسے میں یہ سروس اچھی ہے۔ پیسے بھی زیادہ نہیں دینے پڑ رہے ہیں اور ہم اس کی اس وقت کی نگرانی بھی کر لیتے ہیں۔‘
فواد رانا خوش ہیں کہ ان کا پانچ سال کا بیٹا حمزہ قرآن کو عربی زبان میں پڑھ لیتا ہے۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>