Published On: Fri, Sep 13th, 2013

فون ہیکنگ سکینڈل، لیز ہنٹن بھی مستعفی

bartania newsبرطانیہ میں ٹیلی فون ہیکنگ سکینڈل کے بعد نیوز کارپوریشن کے ایک اعلی عہدیدار لیز ہنٹن بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ اس سے پہلے میڈیا گروپ نیوز انٹرنیشنل کی چیف ایگزیکٹو ریبیکا بروکس بھی اپنے عہدے سے الگ ہو گئی تھیں۔ لیز ہنٹن نے نیوز کارپوریشن کے ساتھ تقریبا پچاس سال تک کام کیا ہے۔ وہ سال انیس سو پچانوے سے دو ہزار سات تک نیوز انٹرنیشنل کے سربراہ تھے اور اسی دور میں نیوز آف دی ورلڈ میں فون ہیکنگ کا معاملہ سامنے آیا۔ لیز ہنٹن جو وال سٹریٹ جرنل کے پبلشر بھی ہیں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جب نیوز آف دی ورلڈ کی کہانی سامنے آئی تو اس وقت میں نے نیویارک میں اسے افسوس کے ساتھ دیکھا۔ معصوم لوگوں کو جو تکلیف پہنچی وہ ناقابل تصور ہے۔برطانیہ میں ٹیلی فون ہیکنگ سکینڈل کے بعد لیز ہنٹن مستعفی ہونے والے سب سے اعلی عہدیدار ہیں۔ دریں اثنا نیوز کارپوریشن کے مالک روپرٹ مرڈوک نے فون ہیکنگ سکینڈل میں ان کے اخبار نیوز آف دی ورلڈ کی جانب سے سکول جانے والی لڑکی برطانوی لڑکی جو قتل ہو گئی تھیں کا فون مبینہ طور پر ہیک کرنے پر ان کے اہلخانہ سے ذاتی طور پر معافی مانگی ہے۔ اس سے پہلے روپرٹ مرڈوک کی نیوز ایجنسی نے بی سکائی بی سیٹلائٹ ٹی وی نیٹ ورک کو خریدنے کا ارادہ ترک کر دیا تھا۔یہ اعلان ایسے میں کیا گیا ہے جب برطانوی پارلیمان میں موجود تمام جماعتوں نے ایک ایسی تحریک کے حق میں ووٹ دینے کا فیصلہ کیا جس میں فون ہیکنگ سکینڈل کے سامنے آنے کے بعد روپرٹ مردوک کو بی سکائی بی کی خریداری کا ارادہ ترک کرنے کو کہا گیا تھا۔ دوسری جانب امریکہ میں تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی ان الزامات کی تحقیقات کر رہا ہے کہ نیوز کارپوریشن کے صحافیوں نے نائن الیون کے متاثرین کے فون ہیک کیے ہیں۔ تحقیقات کا یہ فیصلہ امریکی ارکان سینیٹ اور ایک سینیئر ریپبلکن سیاستدانوں کے مطالبے پر کیا گیا۔ نیویارک سے ریپبلکن کانگریس مین پیٹر کنگ نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر رابرٹ مولر کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان الزامات کی تحقیقات کرائی جائیں کے رپرٹ مرڈوک کے اخبار نیوز آف دی ورلڈ سے منسلک افراد نے نائن الیون کے متاثرین کے فون ہیک کرنے کی کوشش کی ہے۔ نیوز آف دی ورلڈ کو فون ہیکنگ کے الزامات سامنے آنے کے بعد گزشتہ ہفتے بند کر دیا گیا تھا۔ ایف بی آئی کے ذرائع نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ وہ اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ نیوز آف دی ورلڈ کی طرف سے نائن الیون کے متاثرین کے فون بھی ہیک تو نہیں کیے گئے۔ رپرٹ مرڈوک اور ان کے صاحبزادے جیمز مرڈوک منگل کے روز برطانوی دارالعوام کی کلچر اور میڈیا کے بارے میں قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش ہو ہونگے۔ ابتدائی طور پر دونوں نے کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے معذوری ظاہر کی تھی لیکن جن کمیٹی نے ان کے سمن جاری کیے تو وہ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے پر تیار ہو گئے۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>