Published On: Wed, Sep 4th, 2013

جولین اسانژکی گرفتاری برطانیہ کی سفارتی خودکشی ہوگی،ایکواڈور

wiki-leaks-300x188جولین اسانژ کو سیاسی پناہ دینے والے ملک ایکواڈور کے صدر رافائل کوریا کا کہنا ہے کہ اگر برطانیہ نے ان کے ملک کے سفارتخانے میں داخل ہونے کی کوشش کی تو وہ سفارتی خودکشی کرئے گا، ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدام سے برطانیہ دنیا بھر میں اپنے سفارتخانوں کو خطرے میں ڈال دے گا۔ یہ بات انہوں نے ریاستی ٹی وی پر دیئے گئے ایک بیان میں کہی۔ وکی لیکس کے بانی جولین اسانژ جون سے لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے میں پناہ لئے ہوئے ہیں، گزشتہ جمعرات کو انہیں باضابطہ طور پر سیاسی پناہ دینے کا اعلان کیا گیا۔ اس سے پہلے ایکواڈور کے صدر کہہ چکے ہیں کہ اگر برطانوی حکومت اس بات کی ضمانت دے کہ انہیں ’کسی تیسرے ملک‘ کے حوالے نہیں کیا جائے گا تو انہیں برطانوی حکام کے حوالے کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ سویڈن کی حکومت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ وہ ایک ایسے معاملے میں ضمانت نہیں دے سکتی جس کا فیصلے عدالت میں ہوگا۔ وکی لیکس کے بانی جولین اسانژ مجرمانہ جنسی حملے کے الزامات میں ایک مقدمے میں برطانوی حکام کو مطلوب ہیں جن سے وہ انکار کرتے ہیں۔
ایکواڈور نے جولین اسانژ کو گزشتہ جمعرات کو سیاسی پناہ دینے کا اعلان کیا تھا تاہم برطانیہ کا موقف ہے کہ وہ اسانژ کو ملک چھوڑنے کا محفوظ راستہ فراہم نہیں کرے گا۔ صدر رافائل کوریا نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے کو اقوام متحدہ کے سامنے لے جانے پر بھی غور کر رہے ہیں۔ اسانژ کو خدشہ ہے کہ اگر انہیں سویڈن کے حوالے کیا گیا تو انہیں ممکنہ طور پر امریکہ بھیجا جا سکتا ہے جہاں ان پر وکی لیکس پر امریکی خفیہ دستاویزات افشاء کرنے سے متعلق الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جاسکتا ہے اور انہیں سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔ ایکواڈور کا موقف ہے کہ جولین اسانژ کو سویڈن کے حوالے کرنے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>