Published On: Fri, Aug 30th, 2013

نوجوان برطانوی مُسلمانوں کی تعمیری سرگرمیاں

Share This
Tags

Flag of Great Britain English Flagsبرطانیہ کی مُسلم آبادی میں 50 فیصد سے زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے جن میں سے بہت سوں کو یہ لگتا ہے کہ وہ ایک ایسی دنیا کے ساتھ نبرد آزما ہیں جو اُنہیں ہدفِ تنقید بناتی اور ایسے سماج دُشمن یا فسادی عناصر سمجھتی ہے جو معاشرے کی تعمیروترقی میں کوئی پیداواری کردار ادا نہیں کرتے۔ حالیہ برسوں میں ان نوجوانوں نے یہ محسوس کیا ہے کہ انہیں ان بدگمانیوں کو دُور کرنے کے لئے کام کرنے اور اپنا نقطۂ نظر بیان کرنے کے لئے دوسروں کے ساتھ مشغولیت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

2009 میں میں نے اسلامی فاؤنڈیشن کے پالیسی ریسرچ مرکز کے لئے “دیکھا گیا لیکن سُنا نہیں گیا: نوجوان برطانوی مُسلمانوں کی آوازیں” کے عنوان سے ایک رپورٹ لکھی تھی۔ یہ مرکز ریسرچ، پالیسی مشاورت اور برطانوی مُسلمانوں سے متعلق موضوعات میں مہارت رکھتا ہے۔ اس رپورٹ میں نوجوان برطانوی مُسلمانوں کو درپیش بعض چیلنجوں کا جائزہ لینے کے علاوہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ ان کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں اور کِس طرح کے مثبت کاموں میں مصروف ہیں۔

عمومی سوچ کے برخلاف برطانوی مُسلم نوجوان مقامی سے لے کر قومی اور بین الاقوامی ہر سطح پر مثبت سرگرمیوں کے ذریعے مذہبی کمیونٹیز کے درمیان تعلقات استوار کرنے کے لئے سخت محنت کر رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں وہ بین العقائد یوتھ کور، ٹونی بلیئر فیتھ فاؤنڈیشن کے فیتھ ایکٹ فیلوز اور مسیحی مُسلم فورم کے سرگرم رُکن بن گئے ہیں۔ آخرالذکر کے سرپرستِ اعلیٰ آرچ بشپ آف کنٹربری رووَن ولیمز ہیں۔

آرٹ کے ذریعے مُسلم یہودی تعاونِ کا پلیٹ فارم فراہم کرنے والے ادارے ایم یو جے یُو کریو اور لندن میں قائم خیال تھئیٹر کمپنی جو تعلیمی تھئیٹر کے لئے مسلمانوں اور غیر مُسلموں کو یک جا کرتی ہے، نے برطانیہ میں بین العقائد تعلقات کی تعمیر کے لئے تخلیقی طریقے اختیار کرنے کے حوالے سے معیار بہت بلند کر دیا ہے۔ ان اداروں کا نصب العین بطور انسان دوسروں کا احترام کرنے میں لوگوں کی مدد کرکے مذہبی گروہوں کے مابین رکاوٹوں کو توڑنا اور باہمی مسائل کے بارے میں آگاہی دینا ہے۔ یہ اور مقامی سطح پر اس قسم کے بہت سے دیگر پروگرام نوجوان شرکأ میں نہ صرف جدّت پسندی بلکہ اس ذمہ داری کا احساس بھی پیدا کرتے ہیں کہ انہیں آگے بڑھنا اور بین العقائد تفہیم کو فروغ دینے کے لئے کام جاری رکھنا چاہیے۔

تاہم میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ ایک ہم آہنگ اور متحرک کمیونٹی اور اُس فعال کردار کے بارے میں مُطمئِن ہونے کے لئے جو برطانیہ کی مُسلم آبادی ادا کر سکتی ہے، ہمیں مذہبی اور طبقاتی خطوط پر مزید بہت کچھ کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے ہمیں ایسے تخلیقی نوعیت کے منصوبوں کی ضرورت ہے جن کا برطانوی مُسلمان خصوصاً نوجوان حصّہ بن سکیں۔ جن منصوبوں کا اُوپر والی سطور میں ذکر کیا گیا ہے وہ اس قسم کی تخلیقی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں جس کا بین العقائد دنیا میں اکثر فقدان رہتا ہے۔ بیشتر نوجوانوں کے لئے یہ ایک ایسی رکاوٹ ہے جو بین العقائد کام کا حصّہ بننے کی راہ میں آڑے آتی ہے۔

دیگر منصوبے مثلاً بے گھر لوگوں کو کھانا فراہم کرنا، جیسا کہ برطانیہ کی اسلامی سوسایٹی کر رہی ہے، اور نوجوان نسل کے رہنماؤں کو مہارتوں کی فراہمی، تجربات اور قائدانہ کیریئر میں ترقی کے لئے مصروفِ کار سہ عقیدہ فورم کے اَنڈر گریجویٹ پارلیمینٹورز پروگرام برطانیہ کے نوجوانوں کو فوری صِلہ عطا کرتے ہیں، یعنی وہ خود کو مُفید سمجھتے ہیں اور اپنے اچھّے کام کے فوری نتائج دیکھ سکتے ہیں۔

دیگر تمام نوجوانوں کی طرح مُسلم نوجوان بھی خود اعتمادی کی کمی جیسے مسائل کے ساتھ نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، خصوصاً جب ذرائع ابلاغ کی تمام تر منفی توجہ ان کے تشخّص اور مذہبی کمیونٹی پر مرکوز ہے۔ لیکن اس قسم کے منصوبوں پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے کام کرنا جن سے وسیع تر کمیونٹی کا بھلا ہوتا ہو، ایک جیسی سوچ رکھنے والے لوگوں کو مذہبی حد بندیوں سے بالاتر ہو کر اکٹھا کرتا اور اپنی صلاحیتوں، بین الشخصی مہارتوں اور حرکیات کو آزمانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ رابطے استوار کرنے میں کامیاب ہونے والے لوگ بعد میں دوسروں کے لئے قابلِ تقلید نمونہ بن جاتے ہیں۔

میرے خیال میں دو شعبے ایسے ہیں جو تقریباً بالکل غیر متحرک ہیں: اوّل، مذہب میں داخلی سطح پر مکالمہ یعنی مُختلف مُسلم کمیونٹیز کے مابین گفت وشنید جو ایک ایسی چیز ہے جو کِسی بھی مذہبی کمیونٹی کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ دوسرا شعبہ دھرمی عقائد کے پیروکاروں ــ دوسرے لفظوں میں ہِندوؤں اور سِکھوں ــ اور مُسلمانوں کے درمیان مکالمے کا ہے۔

زیادہ تر جگہوں پر ان عقائد سے وابستہ افراد کے گروہوں کے مابین کوئی مکالمہ نہیں ہے اور اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ یہ کمیونِٹیز انتہائی چھوٹی ہیں۔ لیسسٹر جیسے علاقوں میں جہاں ان میں سے ہر عقیدے کے پیروکاروں کی خاصی تعداد موجود ہے، مُسلمانوں اور دھرمی عقائد سے وابستہ افراد کے مابین مکالمہ ابھی تک کافی کامیاب رہا ہے لیکن ابھی مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ کمیونِٹیز زیادہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کر سکیں۔ لیسسٹر جیسے علاقوں میں بین العقائد سرگرمیوں کی کامیابی اس قسم کے کام کو نوجوانوں کے لئے مزید دلچسپ اور بامعنی بنانے میں پنہاں ہے۔

کمیونٹی اور عقیدے کی حرکیات نوجوانوں کو وراثت میں ملی ہیں اور اس کے ساتھ ہی ان پر ایک ایسا ماحول تخلیق کرنے کی ذمہ داری بھی عائد ہوئی ہے جس میں مختلف مذہبی گروہ 21 ویں صدی کے چیلنجوں مثلاً ماحولیاتی تبدیلی اور غُربت وغیرہ کا مقابلہ کرنے کے لئے مِل کر کام کر سکیں۔ عالمگیریت کے اِس دور میں جب خبر بہت تیزی سے سفر کرتی ہے، بہت سے بین الاقوامی واقعات کمیونٹی کی مضبوطی کا امتحان لے سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا آپ کی کمیونٹی اس امتحان میں کامیاب ہونے کی سکت رکھتی ہے؟َ اور اس کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے آپ نے کیا کِیا ہے؟

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>