Published On: Mon, Jul 15th, 2013

برطانوی فوجیوں میں خودکشی کا رحجان

Share This
Tags

130714021305_dan_collins_uk_army_afghanistan_304x171_bbc_nocredit(بی بی سی نیو ز)

افغانستان میں دو ہزار بارہ کے دوران خودکشی کرنے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد طالبان سے لڑائی میں مرنے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔
بی بی سی کے پروگرام پینوراما کے مطابق گذشتہ برس ڈیوٹی پر معمور 21 برطانوی فوجیوں نے خودکشیاں کیں جبکہ 29 سابق برطانوی فوجیوں نے بھی خود کو ہلاک کیا۔
بعض فوجیوں کے اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ اِن فوجیوں کو مناسب مدد اور حمایت فراہم نہیں کی گئی۔ جبکہ وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ خودکشی کا ہر واقعہ ایک سانحہ ہے۔
پینوراما پروگرام نے فریڈم آف انفارمیشن کے قانون کے تحت وزارتِ دفاع کو درخواست بھیجی تھی جس کے بعد یہ معلومات فراہم کی گئیں۔
وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ عام لوگوں کے مقابلے میں فوج میں خودکشی اور پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آڈر ( پی ٹی ایس ڈی ) یعنی شدید صدمے کے بعد پیدا ہونے والے نفسیاتی مرض کی شرح کم ہے۔
ڈیوٹی پر معمور سات فوجیوں کی خودکشی کی تصدیق کی جا چکی ہے جبکہ مزید 14 فوجیوں کی ہلاکتوں کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔
برطانوی حکومت سابق فوجیوں میں خودکشی کی شرح کو ریکارڈ نہیں کرتی لیکن پینوراما پروگرام نے اپنے طور پر اِس بات کو ثابت کیا ہے کہ 2012 میں کم از کم 29 سابق فوجیوں نے خود کو ہلاک کیا۔ اِس سلسلے میں تمام تفتیشی افسران کو خطوط لکھے گئے جن میں خودکشی کرنے والے حاضر سروس اور سابق فوجیوں کے ناموں کے بارے میں پوچھا گیا۔ اِس کے علاوہ اخباروں میں شائع ہونے والی رپورٹوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ڈین کولنز خود کشی کرنے والے فوجیوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے 2009میں ہلمند میں پینتھرز کلا نامی آپریشن میں حصہ لیا تھا۔ اُن کی والدہ ڈینا کولنز کا کہنا ہے کہ اُن کا بیٹا جنگ کا شکار ہوا۔
ڈین کولنس دو مرتبہ طالبان کی گولیوں کا نشانہ بنے لیکن بچ گئے۔ بعد میں وہ سڑک کے کنارے نصب بم کی زد میں آ گئے اور ان کی ٹانگ ضائع ہو گئی۔ اِس دھماکے میں اُن کے دوست ایلسن اُن سے چند گز کے فاصلے پر ہلاک ہوگئے۔
ڈین کولنز کی والدہ نے اپنے بیٹے کی افغانستان میں تعیناتی کے دوران اُن کی شخصیت میں تبدیلی محسوس کی۔ ’فون پر اُن کی گفتگو کا انداز تبدیل ہو گیا۔ مجھے یاد ہے ایک مرتبہ انہوں نے کہا کہ ماں یہ جگہ زمین پر جہنم ہے اور میں یہاں سے بس نکلنا چاہتا ہوں۔‘
افغانستان میں چھ مہینے کی ڈیوٹی کے بعد ڈین کولنز واپس آ گئے اور اپنی گرل فرینڈ وکی روچ کے ساتھ رہنے لگے۔
روچ کہتی ہیں کہ انہوں نے ڈین میں کئی باتیں محسوس کیں۔ انہیں ڈراؤنے خواب آتے تھے۔
’یہ بالکل واضح تھا کہ وہ ذہنی طور پر اب بھی اُنھی حالات میں رہ رہے تھے۔‘
فوج میں اُن کا معائنہ کیا گیا اور تشخیص ہوئی کہ وہ پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آڈر نامی ذہنی بیماری کا شکار ہیں۔
دس ماہ کے مسلسل علاج کے بعد انہیں کہا گیا کہ وہ اب ٹھیک ہیں اور جلد ہی ڈیوٹی پر جانے کے قابل ہو جائیں گے۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>