Published On: Mon, Jul 1st, 2013

ہفتہ رفتہ، بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں تیزی، مقامی قیمتوں میں استحکام

Cottonکراچی: پاکستان سے بھارت کے لیے روئی کی برآمدات، مون سون سیزن کے آغازسے پھٹی کی آمد کم ہونے کے باعث گزشتہ ہفتے مقامی کاٹن مارکیٹس میں اگرچہ استحکام رہا لیکن بین الاقوامی سطح پرروئی کی قیمتوں میں تیزی کا رحجان غالب رہا۔ گزشتہ ہفتے پاکستان اورامریکی کاٹن ایکسپورٹس سے متعلق حوصلہ افزا رپورٹوں کے اجرا نے عالمی سطح پر روئی کی قیمتوں میں دوبارہ تیزری کا رجحان پیدا کیا، پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے)کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے بتایا کہ ڈالر کے مقابلے میں بھارتی روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی کے بعد بھارت سے چین کو سوتی دھاگے کی برآمدات میں غیر معمولی اضافے کے رجحان کے باعث بھارت میں روئی کی قیمتیں کافی زیادہ ہونے سے گزشتہ ہفتے کے دوران بھارت میں پاکستان سے روئی کی درآمدات شروع کر دی ہیں اور اطلاعات کے مطابق صرف تین روز کے دوران بھارتی درآمد کنندگان نے پاکستان کے مختلف شہروں سے روئی کی تقریباً 3ہزار 500بیلز کے سودے کیے ہیں اور توقع ہے کہ رواں ہفتے کے دوران بھی بھارتی ٹیکسٹائل ملز مالکان کی جانب سے پاکستان سے روئی کی خریداری جار ی رہے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر بھارتی روئی درآمد کنندگان پاکستان سے 84سینٹ فی پائونڈ (سی اینڈ ایف انڈیا) تک خریداری کر رہے ہیں جو پاکستانی روپوں میں تقریباً 6ہزار 900روپے فی من بنتے ہیں جبکہ توقع کی جارہی ہے کہ رواں ہفتے کے دوران پاکستان سے برآمد ہونے والی روئی کی قیمت میں اضافے کا رجحان سامنے آ سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں توانائی کے غیر معمولی بحران کے باعث سوتی دھاگے کے برآمدی آرڈرز پاکستان ٹیکسٹائل ملز مالکان کی جانب سے بروقت ڈیلیور نہ ہونے سے چینی ٹیکسٹائل ملز مالکان پاکستان کی بجائے بھارت سے سوتی دھاگے کی درآمد کو ترجیح دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کی نئی فصل کی قیمتیں جو ریکارڈ مندی کے بعد 6ہزار300روپے تک گر گئیں تھیں دوبارہ 6ہزار 500روپے فی من تک پہنچ گئیں جبکہ نیو یارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈیلیوری روئی کے سودے 1.05سینٹ فی پائوند مندی کے ساتھ 91.20سینٹ فی پائونڈ، اکتوبر ڈیلوری روئی کے سودے معمولی مندی کے ساتھ85.61سینٹ فی پائونڈ، انڈیا میں روئی کی قیمتیں ریکارڈ 1ہزار450روپے فی کینڈی کے ساتھ41ہزار650روپے فی کینڈی، چائنہ میںجولائی ڈلیوری روئی کے سودے90یوآن فی ٹن اضافے کے ساتھ20ہزار 25یوآن فی ٹن جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ 200روپے فی من کمی کے بعد6ہزار300روپے فی من تک گر گئے۔انہوں نے بتایا کہ کاٹن جنرز کو گزشتہ سیزن کی اسٹاک میں پڑی ہوئی روئی فروخت کرنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ مون سون کی صورت میں اس روئی کی فروخت میں آسانی پیدا ہو سکتی ہے، احسان الحق نے بتایا کہ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق پاکستان کے بیشتر کاٹن زونز میں جولائی کے پہلے ہفتے سے ستمبر تک بارشیں ہونے کے امکانات ہیں جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سے کپاس کی فصل شدید متاثر ہونے سے کپاس کی ملکی پیداوار میں کمی کے ساتھ ساتھ پھٹی کی آمد میں بھی کمی واقع اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کے بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث آئندہ کچھ عرصے کے دوران روئی کی قیمتوں کا تیزی کا رجحان سامنے آ سکتا ہے تاہم اس کا زیادہ انحصار توانائی کی فراہمی سے مشروط ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی حکام نے سیزن 2013-14 کے لیے پھٹی کی امدای قیمت میں 100 روپے فی 100 کلو گرام بڑھانے کا اعلان کیا ہے اور نئی پالیسی کے تحت سیزن 2013-14 کے لیے بھارت میں پھٹی کی امدادی قیمت شارٹ اسٹیپل پھٹی کے لیے3ہزار700روپے فی کوائنٹل(2ہزار445 پاکستانی روپے فی 40کلو گرام)اور لانگ اسٹیپل پھٹی کی امدادی قیمت 2ہزار640روپے فی کوائنٹل (2 ہزار 640 پاکستانی روپے فی40کلو گرام) مقرر کی ہے۔ انہوں نے بتایا کاٹن کارپوریشن آف انڈیا(سی سی آئی)نے 2012-13 میںجب پھٹی کی قیمتیں امدادی قیمت سے کم ہو گئیں تھیں تو ا پنے کسانوں کو فائدہ پہنچانے سی سی آئی نے ان سے 58ہزار79.50ملین روپے مالیتی پھٹی کی 22 لاکھ65ہزار روئی کی بیلز کے برابر پھٹی خریدی تھی جس کی کھلی مارکیٹ میں فروخت کے بعد سی سی آئی کو 7ہزار 194.1ملین روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا تاہم گزشتہ ہفتے بھارتی حکومت نے کیبنٹ کمیٹی کی درخواست پر یہ رقم سی سی آئی کو ادا کر دی جس سے بھارتی حکومت کا اپنے کسانوں سے حسن سلوک کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جبکہ پاکستان میں نہ تو پچھلے کچھ سالوں سے پھٹی کی امدادی قیمت کا اعلان کیا جا رہا ہے جبکہ پھٹی کی قیمتیں کم ہونے کی صورت میں کسانوںسے پھٹی کی خریداری کو کسانوں کا ایک خواب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی حکومت نے بنگلہ دیش میں ملازمین کو بہتر سہولتیں نہ دینے کا جواز بنا کر بنگلہ دیشی ٹیکسٹائل درآمدت کو ڈیوٹی کا استثنٰی بھی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>