Published On: Thu, Aug 29th, 2013

مالی سال 2012-13: بجٹ خسارہ 18 کھرب 34 ارب روپے تک پہنچ گیا

rupeesوفاقی حکومت پاکستان کی طرف سے انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے حتمی اقتصادی اعدادوشمار میں 15 ارب روپے سے زائد کا ہیر پھیر کیا گیا۔ یہ انکشاف وزارت خزانہ کی طرف سے سال 2012-13 کے جاری کردہ حتمی اقتصادی اعدادوشمارکی رپورٹ میں کیا گیا۔ وزارت خزانہ کے مطابق 2012-13 میں صوبوں کے 54 ارب روپے کے سرپلس بجٹ کے باعث ملک کا مالیاتی خسارہ 8.2 فیصد کے بجائے 8 فیصد رہا۔ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ مالی سال مالیاتی خسارہ بڑھ کر 18 کھرب34 ارب ہوگیا، اس دوران دفاعی اخراجات 5 کھرب 40 ارب 59 کروڑ 50 لاکھ روپے رہے، وفاقی و صوبائی سطح پر مجموعی طور پر 29 کھرب 82 ارب 43 کروڑ 60 لاکھ روپے کی وصولیاں کی گئیں جو ملکی جی ڈی پی کے 13 فیصد کے برابر ہے جبکہ اخراجات 48 کھرب 16 ارب 30 کروڑ روپے رہے جو جی ڈی پی کا 21 فیصد ہیں، 2012-13 کے دوران ملکی و غیر ملکی قرضوں اور ان پر عائد سود کی واپسی کی مد میں 9 کھرب90 ارب 96 کروڑ 70 لاکھ اداکیے گئے، 2012-13 کے دوران جی ڈی پی کا مجموعی حجم 22909 ارب روپے رہا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال 29 کھرب 82 ارب 43 کروڑ 60 لاکھ روپے کی وصولیوں میں سے ٹیکس ریونیو 21 کھرب 99 ارب 23 کروڑ 20 لاکھ روپے رہا جس میں سے وفاقی سطح پر 2049 ارب روپے اور صوبائی سطح پر 151 ارب روپے جمع ہوئے جبکہ نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 7 کھرب 83 ارب 20 کروڑ 40 لاکھ روپے حاصل کیے گئے، مجموعی ٹیکس ریونیو میں سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 1936 ارب وصول کیے جن میں سے انکم ٹیکس 7 کھرب 35 ارب 75 کروڑ 80 لاکھ، سیلز ٹیکس 8 کھرب 41 ارب 32 کروڑ 40 لاکھ، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 1 کھرب 24 ارب 34 کروڑ 90 لاکھ اور کسٹمز ڈیوٹی 2 کھرب 39 ارب 60 کروڑ 80 لاکھ روپے شامل ہے۔دستاویز کے مطابق گزشتہ مالی سال پراپرٹی ٹیکس سے 6 ارب 73 کروڑ، اشیا و خدمات پر ٹیکس سے 9 کھرب 65 ارب 67 کروڑ 30 لاکھ، اسٹمپ ڈیوٹی 18 ارب 30 کروڑ 60 لاکھ اور موٹر وہیکل ٹیکس سے 13 ارب 97 کروڑ 50 لاکھ روپے ملے۔ دستاویز کے مطابق 2012-13کے دوران ترقیاتی اخراجات 7 کھرب 77 ارب 9 کروڑ 60 لاکھ روپے رہے جس میں پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت 6 کھرب 95 ارب 8 کروڑ 10 لاکھ روپے کے ترقیاتی اخراجات کیے گئے جن میں سے وفاقی پی ایس ڈی پی کے تحت 3 کھرب 23 ارب 54 کروڑ 70 لاکھ جبکہ صوبائی پی ایس ڈی پی کے تحت 3 کھرب 71 ارب 53 کروڑ 40 لاکھ روپے کے اخراجات کیے گئے۔ اس کے علاوہ 2002-13 کے دوران ملکی و غیر ملکی قرضوں اور ان پر عائد سود کی مد میں مجموعی طور پر 9 کھرب 90 ارب 96 کروڑ 70 لاکھ روپے ادا کیے گئے جن میں سے ملکی قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگیاں 9 کھرب 20 ارب 35 کروڑ30 لاکھ روپے رہیں جو ملکی جی ڈی پی کے 8 فیصد کے برابر ہیں جبکہ غیرملکی قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگیاں 70 ارب 61 کروڑ40 لاکھ روپے رہیں جو جی ڈی پی کے 0.4 فیصد کے برابر ہیں۔ دستاویز کے مطابق 2012-13کے دوران اخراجات جاریہ 36 کھرب 60 ارب 43 کروڑ 40 لاکھ روپے رہے، بجٹ فنانسنگ 18 کھرب 86 ارب 59 کروڑ 90 لاکھ روپے کی حاصل کی گئی جبکہ بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلیے بیرونی ذرائع سے کوئی فنانسنگ حاصل نہیں کی گئی بلکہ 1 ارب 67 کروڑ 60 لاکھ روپے واپس کیے گئے۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>