Published On: Tue, Aug 6th, 2013

چھوٹے تاجروں نے فی الفور بلدیاتی انتخابات کا مطالب

Share This

election-ندھ تاجر اتحاد کے رہنماؤں نے کراچی میں گزشتہ روز ہونے والی بارش کے بعد شہر میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں اور تباہی کی ذمہ دار صوبائی حکومت کو قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی سمیت صوبے بھر میں فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کرائیں جائیں۔ کراچی میں بارشوں سے ہونے والی تباہی کے باعث تاجروں کو 3 ارب روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے اور عید کے تہوار کے حوالے سے تاجروں نے جو مال اسٹاک کیا اس کے نقصان کا تخمینہ ابھی نہیں لگایا جاسکا۔ اتوار کو سندھ تاجر اتحاد اور اس میں شامل تاجروں کا ہنگامی اجلاس چیئرمین جمیل احمد پراچہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اتحاد کے جنرل سیکرٹری اسماعیل لال پوریہ، کاشف صابرانی، سلیم میمن، حبیب شیخ، راشد علی شاہ، مقصود احمد، سیف الامین، جاوید عبداللہ، سلیم بٹلہ، محمد ارشد اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس کراچی میں بارش کے بعد کی صورتحال اور بارش کی تباہ کاریوں اور اس سے تاجروں کو درپیش مشکلات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جمیل احمد پراچہ نے کہ ہے کہ ماہ جون اور جولائی کے درمیان مون سون بارش کوئی نیا سلسلہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت جو ماضی کی حکومت کا تسلسل ہے وہ اس تمام صورت حال کی براہ راست ذمے دار ہے۔ انہوںنے کہا کہ آج اگر کراچی سمیت صوبے بھر میں بلدیاتی نظام ہوتا اور عوامی نمائندوں کو اختیارات دیے گئے ہوتے تو صورت حال اس قدر بھیانک نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال کے دوران کراچی کے کسی بھی علاقے میں قائم برساتی نالوں کی نہ تو صفائی کی گئی اور نہ ہی مون سون کی بارشوں سے قبل کسی قسم کے کوئی احتیاطی اقدامات کیے گئے، جس کے نتیجہ میں کراچی میں صرف 100 ملی میٹر بارش نے جہاں 25 سے زائد قیمتی انسانی جانوں کو نگل لیا وہاں تاجر برادری کو اربوں روپے کے نقصان سے بھی دوچار کردیا ہے۔ ان رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی سمیت صوبے بھر میں فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کرائیں جائیں اور عوام کے منتخب نمائندوں کو نچلی سطح تک اختیارات دیے جائیں۔ کراچی میں بارشوں سے ہونے والے تباہ کاریوں کے ذمہ داران صوبائی حکومت کے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔ تاجروں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے اور جو جو علاقے ابھی تک پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں وہاں ہنگامی بنیادوں پر ریلیف کا کام کیا جائے۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>