Published On: Mon, Jul 22nd, 2013

ہوٹل، بینکاری، ٹیلی کام و آٹو موبائل سمیت 20 شعبوں کے آڈٹ کا فیصلہ

Share This

fbrاسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے پاور کمپنیوں، بینکوں، سیمنٹ فیکٹریوں، شوگر ملوں، ٹیکسٹائل اور سروسز سیکٹر سمیت 20 شعبوں کے صنعتی یونٹس و ٹیکس دہندگان کا انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس آڈٹ کرنے کے لیے نیشنل آڈٹ پلان 2013-14 متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے سینئر افسر نے ہفتہ ک’’ کو بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے نیشنل آڈٹ پلان 2013-14 کا ابتدائی مسودہ تیار کرلیا ہے جو حتمی منظوری کے لیے ایف بی آرکی بورڈ ان کونسل کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق آڈٹ پلان کے ابتدائی مسودے میں آڈٹ کے لیے 20 شعبوں کی نشاندہی کر کے ان کے آڈٹ کی تجویز دی گئی ہے اور اس کے لیے فیلڈ فارمشنز کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کے مذکورہ سینئر افسر نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی جانب سے فیلڈ فارمشنز کے لیے نیشنل آڈٹ پلان کے تحت ان شعبوں کے یونٹس اور ٹیکس دہندگان کے آڈٹ کے حوالے سے طریقہ کار اور دیگر قواعدو ضوابط بھی تیار کیے جارہے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ ایسوسی ایشن آف پرسنز کو آڈٹ کے لیے منتخب کرنے کے لیے الگ سے معیار مقرر کرنے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ انفرادی ٹیکس دہندگان کے لیے الگ سے اور کمپنیوں کے لیے الگ سے معیار کرنے کاجائزہ لیا جا رہا ہے، اسی طرح صنعتی یونٹس اور سروسز فراہم کرنے والے اداروں کے آڈٹ کے لیے انتخاب کے حوالے سے بھی جدا معیار مقرر کیے جانے کا امکان ہے اور ان معیارات پر جو پورے آئیں گے انہیں آڈٹ کے لیے منتخب کرکے آڈٹ کیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی طرف سے نیشنل آڈٹ پلان کے تحت جن بیس شعبوں کی آڈٹ کے لیے نشاندہی کی گئی ہے ان میں ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹس، فرٹیلائزر سیکٹر، بینکنگ، آٹو موبائل، پاور کمپنیاں، سروسز سیکٹر، زرعی ادویہ، فارماسوٹیکل، بیوریجز، پیپر اینڈ پیپر بورڈ، ٹیلی کام سیکٹر، شوگر مینوفیکچررز، آئرن اینڈ اسٹیل مینوفیکچررز، لیدر، ٹیکسٹائل، الیکٹرانکس مصنوعات سمیت دیگر شعبے شامل ہیں، بورڈ ان کونسل کی منظوری کے بعد ایف بی آر ٹیکس دہندگان کا آڈٹ شروع کرے گا۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>