Published On: Tue, Jul 30th, 2013

پی او اے تنازع، پاکستان ہاکی ٹیم کی بین الاقوامی رکنیت کو خطرہ

Pakistan-Hockey-Shakeel-Abbasiلاہور: پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو تسلیم نہ کرنے کی صورت میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کی بین الاقوامی رکنیت معطل ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ شرکت کی تصدیق کیلیے پیر کی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد کامن ویلتھ گیمز کا حصہ بننا ممکن نہیں رہے گا،اس صورت حال میں آئی ایچ ایف کوئی حتمی اقدام اٹھانے پر مجبور ہوسکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں متوازی اولمپک ایسوسی ایشنز کا تنازع کھیلوں اور کھلاڑیوں کے مستقبل سے کھیلنے لگاہے، انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی طرف سے تسلیم کی جانیوالی پی او اے (عارف حسن گروپ) سے بغاوت کرنے والی چند اسپورٹس فیڈریشزکو معطل کیا جاچکا،اب پی ایچ ایف بھی اس فہرست میں شامل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ فیڈریشن کے حکام عبوری کمیٹی کے تحت منتخب پی او اے (اکرم ساہی گروپ) کے ساتھ ہیں،اسی لیے انھوں نے کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کیلیے عارف حسن کو کوائف جمع کروانے کے بجائے پاکستان اسپورٹس بورڈ سے ہی این او سی لینے کیلیے رجوع کیا، میگا ایونٹ میں شرکت کی تصدیق کیلیے پی او اے کی طرف سے بھیجی گئی ای میلز کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ عارف حسن کا کہنا تھا پی ایچ ایف پیر تک مطلع کردے تو کامن ویلتھ گیمز کے منتظمین سے قومی ہاکی ٹیم کی شمولیت ممکن بنانے کی کوشش کرسکتے ہیں، فیڈریشن حکام نے اپنی ضد پر قائم رہتے ہوئے ایک بار پھر مسئلہ حل کرنے کیلیے پی ایس بی اور بین الصوبائی رابطہ کمیٹی کو ہی خط ارسال کیا جن کو کامن ویلتھ گیمز کے منتظمین تسلیم نہیں کرتے۔ سیکریٹری آصف باجوہ کا کہنا تھا کہ عارف حسن کی پی او اے کو حکومت تسلیم نہیں کرتی، ہم کیسے رابطہ کریں، ایونٹ میں حصہ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ اب حکومت نے کرنا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف باجوہ بین الاقوامی تنظیموں کے قوانین تو مانتے ہیں لیکن جب معاملہ کامن ویلتھ گیمز کا آتا ہے تو آئی او سی کی تسلیم شدہ پی او اے کو جواب دینے کے بجائے حکومت سے رابطہ کر لیتے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ پی او اے کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے آئی ایچ ایف پی ایچ ایف کی رکنیت معطل کر سکتی ہے، شرکت کی تصدیق کیلیے پیر کی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد کامن ویلتھ گیمز کا حصہ بننا ممکن نہیں رہے گا،اس صورت حال میں آئی ایچ ایف کوئی حتمی اقدام اٹھانے پر مجبور ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب پی او اے عارف حسن گروپ کا کہنا ہے کہ کامن ویلتھ گیمز میں قومی ہاکی ٹیم کی شرکت اولمپکس اور دیگر ایونٹس کی تیاری کیلیے خاصا مددگار ثابت ہوسکتی تھی، آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ، ملائیشیا جیسی مضبوط ٹیموں کے خلاف کھیل کر اپنی خامیاں اور خوبیاں جاننے کا موقع ملتا، ہالینڈ، جرمنی اور اسپین کو چھوڑ کر تمام ٹاپ رینک سائیڈز پر مشتمل ایونٹ میں شرکت سے محرومی پاکستان کیلیے نقصان دہ ہوگی،ایک عہدیدار کے مطابق سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پی ایچ ایف مقابلوں میں شمولیت ممکن بنانے والے اقدامات سے گریز کا راستہ کیوں اپنا رہی ہے، شاید حکام خود ہی ایونٹ میں شامل نہیں ہونا چاہتے، بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت اسی پی او اے کے بینر تلے ہوسکتی ہے جسے انٹرنشنل اولمپک کمیٹی تسلیم کرتی ہے، دیگر کسی قسم کا کوئی حربہ کارگر ثابت نہیں ہوسکتا، پی ایچ ایف اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہی تو قومی ٹیم کو کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکے گا۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>