Published On: Tue, Oct 8th, 2013

سچ بولنے کی دوا

Science & Technology 03یہ دوا دنیا میں کئی تفتیشی ادارے استعمال کرتے ہیں
مائیکل موزلی نے اس دوا کا تجربہ ماہرین کی زیر نگرانی کیا
فلموں اور ٹی وی ڈراموں میں سوڈیم تھیوپینٹل کو اکثر ایک ایسی دوا کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس کی خوراک پلا کر قیدیوں سے صحیح معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔
سائنس کے نامہ نگار مائیکل موزلی نے ایک ذاتی سائنسی تجربے کے بعد کہا ہے کہ سچ بولنے پر مجبور کرنے کی کوئی قابل اعتماد دوا ابھی نہیں بنائی جا سکی ہے۔
ہماری روزہ مرہ زندگی میں جھوٹ اور سچ میں امتیاز کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
جھوٹے کا پتہ لگانے کے بارے میں کئی روایات ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جھوٹ بولتے وقت جھوٹا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے سے گریز کرے گا، اپنے پاؤں ہلائے گا یا پھر اپنی ناک کھجائے گا۔ اس کے باوجود ہم اکثر جھوٹ بولتے ہیں اور ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کب ہم سے جان بوجھ کر دیدہ دانستہ جھوٹ بولا جا رہا ہے۔
بے شمار تجزیوں کے بعد یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ پشیہ وار لوگ جیسا کہ پولیس کے تفتیشی افسران جھوٹوں کا پتہ لگانے میں کسی عام شخص سے بہتر نہیں ہوتے۔ لہذا یہ بات کسی طور پر بھی حیران کن نہیں ہے کہ سائنسدان ایک عرصے سے اس بات کی کوشش میں ہیں کہ کوئی ایسی دوا ایجاد کی جائے جس سے انسان سے سچ اگلوایا جا سکے۔
اس طرح کی دواؤں میں سب سے پرانی اور مقبول دوا سوڈیم تھیوپینٹل ہے۔ گو کہ یہ سنہ انیس سو تیس میں بنائی گئی تھی لیکن یہ آج بھی بہت سی جگہوں اور صورتوں میں استعمال کی جاتی ہے اور چند ملکوں میں اسے پولیس اور فوج کے تفتیشی ادارے بھی استعمال کرتے ہیں۔
میرے لیے یہ کافی حیران کن بات تھی لیکن میں اس بارے میں شک میں بھی مبتلا تھا کہ سوڈیم تھیو پیٹل جسے بنیادی طور پر ایک بے ہوشی طاری کرنے والی یا درد سے نجات کی دوا کے طور پر بنایا گیا تھا لوگوں سے سچ اگلوانے میں مدد گار ہو سکتی ہے۔ اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ ادویات کی تاریخ کے بارے میں اپنی سیریز کے دوران اس دوا کا بھی تجربہ کروں۔
سوڈیم تھیوپیٹل دواوں کے ’برابیٹیوریٹس‘ گروپ سے تعلق رکھتی ہے جس کو انیس پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں لوگ پرسکون نیند کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اب اسے اس مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا ہے کیونکہ لوگ اس کے عادی ہو جاتے ہیں اور یہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ مارلن منرو باربیٹوریٹس کی دوا زیادہ مقدار میں لینے سے ہی ہلاک ہوئی تھیں۔
میں نے سوڈیم تھیوپیٹل کی ایک ہلکی خوارک لینے کا فیصلہ کیا اور اس دوران ’اینس تھیسیا‘ کے ایک ماہر ڈاکٹر اہم اعضاء کی نگرانی کرتے رہے۔ باربیٹوریٹس آپ کے اعصابی نظام کو سست کر دیتی ہے اور ذہن کے ایک حصے سے پیغامات کی دوسرے حصوں تک ترسیل کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔
آپ کے سوچنے کی رفتار کم ہو جاتی ہے حتی کہ آپ پر غنودگی طاری ہو جاتی ہے۔ تھیو پینٹل سے یہ عمل بہت تیزی سے ہوتا ہے۔
مشاہدے سے معلوم ہوا اس کے دوا کے اثر میں جب انسانی نیم غنودگی کی حالت میں ہوتا ہے وہ بولنے لگاتا ہے اور جب دوا کا اثر ختم ہوتا ہے تو اس کو یاد نہیں رہتا ہے کہ وہ نیم غنودگی کی حالت میں کیا کہتا رہا ہے۔
اس بنا پر فیصلہ کیا گیا کہ اس دوا کو سچ اگلوانے کی دوا کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ایک واقعی کارگر دوا ہے؟
یہ سوچ کے کہ میں سائنس کے نامہ نگار مائیکل موزلی کے بجائے میں ایک سرجن ڈاکٹر مائیکل موزلی ہوں۔ ہم نے بڑی ہلکی خوراک سے شروع کیا۔ فوری طور پر میں سر چکرانے لگا اور نشہ کی کیفت طاری ہو گئی۔ لیکن کیا اس وجہ سے میں سچ بولنے پر مجبور ہوا؟
انگریزی کی ایک مشہور کہاوت ہے کہ وائن میں سچ ہوتا ہے۔ الکحل یا شراب میں بھی اس طرح کا اثر ہوتا ہے۔ شراب بھی ذہن کے ان حصوں پر اثر انداز ہوتی ہے جہاں سے ہم اپنی سوچ اور فکر کو کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ ہمارے تحفظات ختم کر دیتی ہے اور سوچنے سمجھنے کے عمل کو بھی سست کر دیتی ہے جس سے واضح طور پر سوچنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ایک رومی تاریخ دان کےمطابق جرمن قبائل شراب پی کر اپنی کونسل کے اجلاس کیا کرتے تھے کیونکہ ان کے خیال میں نشے کی حالت میں جھوٹ بولنا مشکل ہو جاتا ہے۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>