Published On: Mon, Sep 23rd, 2013

ٹوئٹر سٹاک مارکیٹ میں پیش کرنے کا منصوبہ

science 01ٹوئٹر سٹاک ایکسچینج پر جاتے ہوئے فیس بک کے مثال سے سبق سیکھے گا

مائکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال سماجی رابطوں کی سائٹ فیس بک کے سٹاک مارکیٹ یعنی بازارِ حصص میں اترنے کے بعد سے وہ اس میدان میں اترنے کے لیے کافی سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔
بازارِ حصص میں شامل ہونے کے لیے ضروری کاغذی کارروائی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ٹوئٹر کو چلانے والی کمپنی نے ٹوئیٹ میں کہا کہ ’ہم نے اپنے مجوزہ آئی پی او (یعنی ابتدائی عوامی پیشکش) کے لیے سیکیوریٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن میں ایس-1 رازدارانہ فارم جمع کروا دیا ہے۔‘

جیک ڈورسی، بز سٹون اور ایوان ولیمز کے ذریعہ سنہ 2006 میں قائم کی جانے والی ٹوئٹر کمپنی کی مالیت سرمایہ کار دس ارب امریکی ڈالر بتاتے ہیں۔
ٹوئٹر نے اس پیش کش کے وقت اور قیمت کے بارے میں مزید کچھ نہیں بتایا۔
اشتہارات کی مشاورت کے ادارے ای مارکیٹر کے مطابق ٹوئٹر سنہ 2013 میں تقریباً 58 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی کمائی کرنے کی راہ پر ہے۔
واضح رہے کہ جب کوئی کمپنی امریکی ضابطہ کاروں کے ہاں مجوزہ آئی پی او کے لیے اپنے کاغذات داخل کردیتی ہے اس کے بعد اسے ایک ایسی مدت گزارنی ہوتی ہے جس میں اسے خاموش رہنا ہوتا ہے اور وہ اس بارے میں میڈیا سے بات نہیں کر سکتی۔

اس بارے میں امریکی قانون ساز ادارے ایس ای سی کی ویب سائٹ کے مطابق جس کمپنی کو ’ابھرتی ہوئی کمپنی‘ کے درجے میں رکھا جاتا ہے اور اگر اس کی آمدنی ایک ارب ڈالر سے کم ہے تو وہ کمپنی اپنے عوامی حصص کے لیے خفیہ دستاویز کمیشن میں داخل کر سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ٹوئٹر نے اپنے اشتہارات کو فروغ اور تقویت دینے کے لیے موبائل پر مرکوز اشتہاری کمپنی موپب کو اطلاعات کے مطابق 35 کروڑ ڈالر میں خرید لیا ہے۔
ای مارکیٹر کے کلارک فریڈرک سین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’شروع سے ہی ٹوئٹر کم و بیش موبائل پر مبنی پلیٹ فارم رہا ہے اس لیے کمپنی اسی کے اردگرد تجربات کرتی رہی ہے۔ بالآخر انھوں نے اپنے موبائل صارفین کی مالی اہلیت پر بھروسا کرکے اچھا کام کیا ہے۔‘
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ آئی پی او کے لیے داخل درخواست کا وقت یہ واضح کرتا ہے کہ کمپنی مزید ترقی اور توسیع چاہتی ہے اس کے ساتھ ہی وہ اپنے ان سرمایہ کاروں کو بھی فائدہ پہنچانا چاہتی ہے جنھوں نے ان کی کمپنی میں ایک ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>