Published On: Fri, Sep 20th, 2013

سینکڑوں بچے آن لائن بلیک میلنگ کا نشانہ

science 0517 سالہ برطانوی نوجوان ڈینیئل پیری نے بلیک میلنگ سے تنگ آ کر خودکشی کر لی تھی
برطانیہ میں بچوں کے استحصال کے واقعات پر نظر رکھنے والے ادارے نے کہا ہے کہ ملک میں سینکڑوں بچوں کو آن لائن بلیک میلنگ کے ذریعے جنسی حرکات کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
چائلڈ ایکسپلائٹیشن اینڈ آن لائن پروٹیکشن سنٹر کے مطابق مجرم خود کو بچہ ظاہر کر کے بچوں سے آن لائن ملتے ہیں اور انھیں مائل کرتے ہیں کہ وہ جنسی نوعیت کی تصاویر انھیں دے دیں۔ اس کے بعد وہ بچوں کو دھمکی دیتے ہیں کہ یہ تصاویر ان کے خاندان کے افراد یا دوستوں تک پہنچا دی جائیں گی۔
سی ای او پی کے مطابق گذشتہ دو برسوں میں پیش آنے والے 12 ایسے واقعات میں 424 بچوں کو اس طریقے سے بلیک میل کیا گیا، جن میں سے 184 بچوں کا تعلق برطانیہ سے تھا۔
ادارے کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو اینڈی بیکر کا کہنا ہے کہ جنسی استحصال کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔
انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کام چار منٹ میں مکمل ہو سکتا ہے۔ اس کا آغاز اس جملے سے ہو سکتا ہے: ’ہائے، کیا آپ برہنہ ہونا چاہتے ہیں؟‘
سائبر بلیک میلنگ کا شکار بننے والے کئی بچے خودکشی کر چکے ہیں، جن میں ایک 17 سالہ برطانوی لڑکا بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ سات نے اپنے آپ کو سنگین نقصان پہنچایا ہے، جن میں سے چھ کا تعلق برطانیہ سے ہے۔
بیکر نے کہا: ’ہم انٹرنیٹ کے ایک بہت چھوٹے سے تاریک گوشے کا ذکر کر رہے ہیں، اور یہ وہ جگہ ہے جس کی نگرانی کی ضرورت ہے۔‘
اس سال جولائی میں 17 سالہ ڈینیئل پیری نے خودکشی کر لی تھی۔ بلیک میلروں نے پہلے انھیں جھانسا دیا کہ وہ ایک امریکی لڑکی سے چیٹنگ کر رہے ہیں، اور پھر ان سے مطالبہ کیا کہ وہ ہزاروں پاؤنڈ رقم ادا کریں۔
انھیں دھمکی دی گئی تھی کہ ان کی ویڈیو چیٹنگ ان کے دوستوں اور خاندان کے افراد کو دکھائی جائے گی۔
سی ای او پی کے مطابق بلیک میلروں کا تعلق چار براعظموں سے ہے اور پانچ ایسے واقعات ہوئے ہیں جن میں مجرم برطانیہ سے کارروائی کر رہے تھے۔
بیکر نے کہا کہ آٹھ برس تک کی عمر کے بچوں کو ’غلامانہ حرکتوں‘ کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔ جنسی حرکات کے علاوہ ان بچوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ آپ کو نقصان پہنچائیں۔ اس کے علاوہ ان سے رقم بٹورنے کی بعض کوششیں بھی ہوئی ہیں۔
سی ای او پی کی آپریشنز مینیجر سٹیفنی میک کورٹ کہتی ہیں کہ برطانوی بچوں کو نشانہ بنانے کی ’سب سے پہلی وجہ تو انگریزی زبان ہے، کیوں کہ یہ بہت مقبول زبان ہے۔ اس کے علاوہ مجرم سمجھتے ہیں کہ برطانوی معاشرہ بہت آزاد خیال ہے، اس لیے وہ برطانوی بچوں کو زیادہ آسانی سے نشانہ بنا سکتے ہیں۔‘
سی ای او پی پولیس کا ذیلی ادارہ ہے اور یہ بچوں کو جنسی بدسلوکی سے بچانے کے لیے کام کرتا ہے۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>