Published On: Wed, Sep 18th, 2013

موبائل فون پر ہنگامی پیغامات بھیجنے کا نظام

Science & Technology 01برطانیہ میں سیلاب، صنعتی حادثات اور دوسرے خطرات سے دوچار علاقوں میں موبائل فون کے ذریعے ہنگامی پیغامات بھیجنے کے نظام کو ٹیسٹ کیا جائے گا۔
حکومت کی جانب سے شمالی یارک شائر کے علاقے ایزنگ وولڈ، سوفولک میں لیزٹن اور گلاسکو میں پائلٹ پراجیکٹوں کی جانچ پڑتال میں یہ اندازہ لگایا جائے گا کہ عوام کا اس ہنگامی پیغامات کی ترسیل پر کیا ردِ عمل ہے۔
آنے والے موسمِ خزاں میں پچاس ہزار افراد کو ہنگامی پیغام موصول ہوگا جس میں یہ نشاندہی کی گئی ہوگی کہ یہ ٹیسٹ پیغام ہے۔
یہ ٹیسٹ اس مہینے شروع ہو جائیں گے جو اکتوبر اور نومبر تک جاری رہیں گے۔
جن لوگوں کو پیغامات بھیجے جائیں گے ان سے اس نظام کے بارے میں رائے لی جائے گی اور لوگوں کی مقامی سطح پر گروپ مباحثوں میں حصہ لینے کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
اس نظام کے ٹیسٹ کے بارے میں رپورٹ سنہ 2014 کے اوائل میں متوقع ہے جس کے بعد وزرا اس نظام کو لاگو کرنے کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔
کابینہ کے دفتر کے وزیر کلوئی سمتھ نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر اس نظام کو رائج کیا گیا تو اسے صرف ’حقیقی ہنگامی‘ حالات میں استعمال کیا جائے گا۔
تجرباتی طور پر لوگوں کے موبائل پر دو طریقوں سے پیغامات ترسیل کیے جائیں گے۔
ایک تو روایتی طریقے سے لوگوں کو ایس ایم ایس بھیجا جائے گا جبکہ دوسرا طریقہ سیل براڈ کاسٹ ٹیکنالوجی کا استعمال ہے جو ایک مختص نیٹ ورک جس پر کال یا ایس ایم ایس نہیں ہوتا چلتا ہے۔
سیل براڈکاسٹ کے ذریعے پیغامات صرف موبائل کمپنیاں بھیج سکتی ہیں جبکہ ایس ایم ایس کوئی بھی بھیج سکتا ہے جس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی شخص کسی اور کے نام پر پیغام بھیج سکتا ہے۔
امریکہ، نیدرلینڈ او آسٹریلیا ہنگامی پیغام رسانی کا اسی قسم کا نظام استعمال کرتے ہیں لیکن ٹیکنالوجی کے ایک ماہر کا خیال ہے کہ ہیکرز اس نظام کو ہدف بنا سکتے ہیں۔
سوفوس کمپنی میں ڈیٹا سکیورٹی کے مشیر چسٹر ویزنیوسکی نے کہا ’کوئی بھی ایسی چیز جو قومی پیغامات رسانی کے نظام کو ظاہر کرتا ہے ہیکرز کے نشانہ پر ہوگا‘۔
انھوں نے حکومت اقدام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ’وہ اپنے آپ کو خطرات کی نظر کر رہے ہیں‘۔
ان دعوؤں کا جواب دیتے ہوئے کلوئی سمتھ نے بتایا کہ حکام ٹیسٹ کے دوران اس نظام کے’ کسی بھی قسم کے غلط استعمال پر نظر رکھیں گے‘۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>