Published On: Tue, Aug 6th, 2013

پرآسائش بیت الخلا پر سائبر حملوں کا خطرہ

toilet_app304-1سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ سمارٹ فون ایپ سے کنٹرول ہونے والے پرآسائش بیت الخلا پر سائبر حملے ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔
اس بیت الخلا کو جاپانی کمپنی لائکسیل نے تیار کیا ہے جسے’مائے ساتس‘ نامی انڈرائیڈ فون ایپ کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔
خوردہ مارکیٹ میں پانچ ہزار چھ سو چھیاسی امریکی ڈالرز میں فروخت ہونے والے اس بیت الخلا میں خودکار فلش، پاخانے کی جگہ دھونے کے لیے سپرے، موسیقی اور خوشبو کا خراج کے نظام ہوتے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس میں یہ خامی ہے کہ کوئی بھی جس کے پاس یہ ایپ ہو اس بیت الخلا کے کسی نظام کو بھی استعمال کر سکتا ہے۔
ٹرسٹ ویو سپائڈر لیبارٹریز کے سکیورٹی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ اس بیت الخلا کو بلو ٹوتھ کے راستے ایپ کے ذریعے ہدایت ملتی ہیں لیکن ہرماڈل کا پن کوڈ چار صفر (0000) ہے جسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
ماہرین کا کہنا ہے ’حملہ آور بیت الخلا کو غیر متوقع پر کھولنے اور بند کرنے، پاخانے کی جگہ دھونے والی سپرے اور ڈرائر کو استعمال کرکے مالک کو پریشان کر سکتا ہے‘۔ادھر سکیورٹی کے ماہر گراہم کلیولے کا کہنا ہے کہ بلو ٹوتھ کی رینج کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے حملہ آور کو بیت الخلا پر قریب سے حملہ کرنا ہوگا۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’ ایک مذاق کرنے والا شخص اپنے پڑوسی کے بیت الخلا میں غیر متوقع طور پر پانی بہا کر اور گرم ہوا چھوڑ کر انھیں یہ اس سوچ پر مجبور کر سکتا ہے کہ ان کی بیت الخلا میں ’جن‘ ہیں۔ لیکن یہ سوچنا مشکل ہے کہ کوئی سائبر جرائم پیشہ فرد بیت الخلا کے نظام میں اس خامی کو استعمال کرنے میں دلچسپی رکھے گا‘۔
(بی بی سی نیو ز)

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>