Published On: Fri, Jul 26th, 2013

مور کے حسین پروں کا راز

peacock_304x171_bbc_nocreditامریکہ میں ماہرین نے مورنیوں کی آنکھوں کی حرکت سے معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ انہیں مور کے رنگین پروں میں کیا حُسن دکھائی دیتا ہے۔
نر مور اپنے رنگین پروں کی حرکت سے مادہ کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ماہرین نے مادہ موروں کی آنکھوں پر کیمرے لگا کر معلوم کرنے کی کوشش کی کہ نر مور جب اپنی دم پر رنگین پروں کو پنکھے کی طرح پھیلاتے ہیں اس وقت مادہ کا دھیان کس طرف ہوتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج ’جرنل آف ایکسپیریمنٹل بائیالوجی‘ میں شائع کیے گئے ہے۔
مادہ مور کی آنکھ کا پیچھا کرنے والے کیمرے کی ریکارڈنگ سے معلوم ہوا ہے کہ ان کی توجہ حاصل کرنا بہت مشکل کام ہے، اور اس کے لیے نر مور کو بہت محنت کرنی پڑتی ہے، جس میں اپنے رنگین پر پھیلا کر ان کو مخصوص انداز میں ہلانا بھی شامل ہے۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مادہ مور نر مور کے پروں میں خاص طور پر کس چیز کو تلاش کرتی ہے۔ ان کی آنکھوں کی حرکت بتاتی ہے کہ مادہ مور نر مور کے پروں کے پھیلاؤ اور ان پر بنے آنکھ نما نقوش سے متاثر ہوتی ہے۔
مور کے پر اِرتقاء کے اُس عمل کی شاید بہترین مثال ہیں، جس کے بارے میں چارلز ڈارون نے کہا تھا کہ اس کے ذریعے جانوروں میں کوئی ایسی خوبی پیدا ہو جاتی ہے جس کا مقصد صرف جنسِ مخالف کو متاثر کرنا ہوتا ہے۔
موروں پر اس تحقیق میں شامل ڈاکٹر جیسیکا یارزنسکی نے بتایا کہ جانوروں کی بہت سی اقسام نے اپنے اندر ایسی خوبیاں پیدا کی ہیں جو ان کی بقاء کے لیے ضروری نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلکہ مور کے پر تو کسی دوسرے جانور کے حملے کی صورت میں فرار مشکل بنا دیتے ہیں۔
موروں پر اس تحقیق کے دوران دیکھا گیا کہ مادہ کی نگاہیں مسلسل ارد گرد کے ماحول اور نر کے پروں پر ہوتی ہیں، اور شاید ایسا ضروری بھی ہے کیونکہ اگر وہ مکمل طور پر ماحول سے دھیان ہٹا لیں تو باآسانی کسی جانور کی خوراک بن سکتی ہیں۔
نر مور کے لیے ضروری تھا کہ ان کے پر اتنے بڑے ہوں کہ مادہ کی پوری توجہ حاصل کر سکیں۔

 (بی بی سی نیو ز)

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>