Published On: Mon, Jul 22nd, 2013

نابینا پن کے علاج میں ’اہم پیش رفت‘

121226174218_retina-3041( بی بی سی نیو ز)

برطانوی سائنس دانوں نے کہا ہے کہ انھوں نے نابینا پن کے علاج میں اہم پیش رفت حاصل کر لی ہے۔
نیچر بایوٹیکنالوجی نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آنکھ کے اس حصے کو سٹیم سیل کی مدد سے تبدیل کیا جا سکتا ہے جو روشنی محسوس کرتا ہے۔
یونیورسٹی کالج آف لنڈن کے مورفیلڈ آئی ہاسپیٹل کی تحقیقاتی ٹیم نے کہا ہے کہ یہ ’اہم پیش رفت‘ اور ’بہت بڑی کامیابی‘ ہے۔
پردۂ بصارت پر موجود فوٹو ریسیپٹر نامی خلیے روشنی پڑنے پر متحرک ہو جاتے ہیں اور روشنی کو الیکٹریکل سگنل میں تبدیل کرتے ہیں جسے دماغ کو بھیج دیا جاتا ہے۔
تاہم نابینا پن کی بعض اقسام میں یہ خلیے مر جاتے ہیں۔ ان بیماریوں میں سٹارگارٹ اور بڑھاپے کی وجہ سے ہونے والا میکیولر ڈی جنریشن شامل ہیں۔
اس سے پہلے ان خلیوں کے امدادی خلیوں کو سٹیم سیلز تھراپی کی مدد سے تبدیل کیا جا سکتا تھا، لیکن لندن کی اس ٹیم نے دکھایا ہے کہ خود ان فوٹو ریسیپٹر خلیوں کو تبدیل کیا جا سکتا ہے، جس سے نابیناپن دور ہو سکتا ہے۔
ان سائنس دانوں نے تجربہ گاہ میں پردۂ بصارت بنانے کی نئی تکنیک دریافت کی ہے۔ اس میں ہزاروں سٹیم سیل حاصل کیے جاتے ہیں اور انھیں اس طرح سے انگیخت کیا جاتا ہے کہ وہ فوٹو ریسیپٹر خلیوں میں ڈھل جائیں۔ اس کے بعد ان خلیوں کو نابینا چوہوں کی آنکھوں میں نصب کر دیا جاتا ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ خلیے آنکھ کے اندر موجود خلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
تاہم اس تکنیک کا موثرپن ابھی تک کم ہے۔ اگر آنکھ میں دو لاکھ خلیوں انجیکٹ کیے جائیں تو ان میں سے صرف ایک ہزار کے لگ بھگ ہی کام کرتے ہیں۔
تحقیق کے سربراہ پروفیسر روبن علی نے بی بی سی کو بتایا: ’اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوٹو ریسیپٹروں کو سٹیم سیلز سے لے کر آنکھ کے اندر ٹرانسپلانٹ کیا جا سکتا ہے، اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ عمل انسانوں میں کیسے کیا جائے۔‘
وہ کہتے ہیں: ’یہی وجہ ہے کہ ہم اس قدر پرجوش ہیں۔ اب پانچ سال کے اندر اندر انسانوں پر تجربات شروع کیے جا سکتے ہیں۔‘
یونیورسٹی کالج لنڈن کے پروفیسر کرس میسن نے بی بی سی کو بتایا: ’میرا خیال ہے کہ انھیں نے بہت اہم پیش رفت حاصل کی ہے۔ لیکن انسانوں پر تجربات شروع کرنے کے لیے اس کی کارکردگی ابھی کم ہے۔‘

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>