Published On: Mon, Jul 29th, 2013

’پاکستان کی 10 فیصد آبادی ہیپاٹائٹس کا شکار‘

دنیا میں ہیپاٹائٹس ڈے پر ایک رپورٹ کےمطابق پاکستان کی 10 فی صد آبادی ہیپاٹائٹس یعنی یرقان کا شکار ہے جن میں سے زیادہ تر کو ہیپاٹائٹس بی اور سی ہے جو جان لیوامرض ہیں۔
ایک عالمی تنظیم ورلڈ ہیپاٹائٹس الائنس کے مطابق دنیا بھر کے ہیپاٹائٹس بی اور سی کے پچاس کروڑ مریضوں میں سے چالیس کروڑ کا مرض تشویشناک حد تک بگڑ چکا ہے۔
طبی ماہرین کا کہناہے کہ بی اور سی ایک خاموش قاتل ہیں اور مریض کو عموماً اس وقت ہی علم ہوتا ہے جب وہ اتفاقاً ٹسٹ کروالیں یا جگر تشویشناک حد تک خراب ہوجائے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر اظہار چودھری نے کہا: ’پاکستان میں ہیپاٹائٹس اے تو گندے پانی پینے اور ناقص خوراک کی وجہ سے ہوتا ہے لیکن بی اور سی ہونے کی زیادہ تر وجوہات انتقال خون اور انجکشن کے لیے ایک ہی سرنج کا بار بار استعمال اور گاؤں کے اس حجام کے استرے کی دھار ہے جو ایک ہی بلیڈ سے پورے گاؤں کے لوگوں کی شیو بنا دیتاہے۔اس کے علاوہ عطائی ڈاکٹر اور وہ دندان ساز بھی ذمہ دار ہیں جو اپنے آلات کو جراثیم سے پاک نہیں رکھتے۔‘
جگر کے امراض کے معروف ڈاکٹر محی الدین کا کہنا ہے: ’دنیا بھر کے سائنسدان آج تک ہیپا ٹائٹس سی کی ویکسین نہیں بنا سکے ہیں البتہ ہیپا ٹائٹس بی کی ویکسین ہوتی ہے اور پاکستان میں سرکاری اور نجی سطح پر یہ دستیاب بھی ہے لیکن اس کے باوجود آبادی کے ایک بڑے حصے نے یہ ویکسنیشن نہیں لے رکھی ہے۔‘
ڈائریکٹر ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام پنجاب ڈاکٹر سید اسلام ظفر کا کہناہے کہ جب مریض کا جگر سکڑ چکا ہو یا اس کا کینسر ہوجائے تو پھر بچنے کی امید کم ہوتی ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کے مرنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ مستند علاج کرانے سے پہلے عطائی حکیموں اور عطائی ہومیو ڈاکٹروں کے چکر میں پانچ سات سال گنوا دیتے ہیں اور جب ہسپتال پہنچتے ہیں تو وہ ان کی آخری سٹیج ہوتی ہے۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>