Published On: Fri, Jul 26th, 2013

احتساب اور انتخاب!

rubina-faisal-canada92سالہ Mayor Hazel McCallion کو آج اونٹاریو سپریم کورٹ نے conflict of interestکے مقدمے سے آذاد کر دیا ۔ کون نہیں جانتا کہ وہ مسسز ساگا کی مسلسل35سال سے مئیر ہیں۔ جب 56سال کی تھیں اور پہلی دفعہ مسسز گا کی مئیر بنیں تو اگلے ہی سال ایک تباہ کن مواد سے بھری ٹرین کے derailہونے کا واقعہ ہوا ۔ ان کی ٹانگ پر موچ تھی اس کی پروا کئے بغیر پورے شہر کو لوگوں سے خالی کروایااور جہاں بہت ذیادہ نقصان کا امکان تھا ، وہاں ایک بھی جان ضائع کروائے بغیر انہوں نے شہر کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ۔ الیکشن کی مہم بغیر خرچے کے چلانے والی ،نو ے فی صد ووٹ لے کر ہر دل عزیز لیڈر جو اب تک مسلسل مئیر کے عہدے پر فائزے ہے، مسسز ساگا میں ٹورسٹ کے لئے باعث کشش ، آئرن لیڈی ، جس کے خلوص ایمانداری اور محنت کی وجہ سے مسسز ساگا آج debt free شہر ہے ۔جس نے سیا ست کو عبادت سمجھ کے کیا ،جس کے دم سے جرمنی اور بے تحاشا دوسری کمپنیوں کے بزنس کینڈا میں آئے ،مگر 2007سے مذکورہ بالا مقدمہ بھگت رہی ہیں جس پر 2.5ملین خرچہ ہوا مگر یہ احتساب یا سوال جواب ہونا ضروری تھا ۔ وہ اس میٹنگ میں موجود تھیں جس میں رہائشی زمین کو کمرشل بنانے کا فیصلہ ہو رہا تھا اور ان کے بیٹے چونکہ رئیل اسٹیٹ کی بزنس میں ہیں اس لئے بالواسطہ اپنے بیٹے کو فائدہ تو نہیں پہنچا دیا ؟ہم پکے مسلمان ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے باسی ایک دوسرے سے یہی پوچھتے رہتے ہیں کہ یہ کافر ملک ترقی کیوں کر رہے ہیں ؟ان کے اداروں کے ہاتھ پائوں کان آنکھیں سب آزاد ہیں ۔ اور کوئی بھی عہدے دار آنا کانی کرے تو اسے کان سے پکڑ کر لائن حاضر کرتے ہیں ۔ پاکستان میں تو conflict of interest جیسا مخفی جرم تو کسی کھاتے میں ہی نہیں ، بلکہ وہاں تو لوگ سیاست میں آتے ہی اس لئے ہیں کہ ذاتی بزنس کو فروغ دیا جائے ۔ بجٹ میں دودھ کی قیمت نہ بڑھی ہوتی تو مجھے کبھی نہ پتہ چلتا کہ شریف انڈسٹری کے فارم ہائوسز بھی ہیں ۔یہ معمولی بات نہیں کیوں کہ اس سے ہونے والا فائدہ لاکھوں کروڑوں میں ہے ۔

مانٹریال کے موجودہ مئیر Michael Applebaum,کو آج 14چارجزجن میں رشوت ، بے ایمانی ، سازش وغیرہ شامل ہیں پر گرفتار کر لیا گیا ہے ۔سپیش پولیس کے انچارچ Robert Lafreniereنے پریس کانفرس میں کہا :The message is clear – all actions that compromise the integrity of the state are unacceptable to the public,” ۔۔۔مذید کہا : “No one is above the law and you can’t hide from the law,”
ہم ایک دوسرے سے حیران ہو کر پوچھتے رہتے ہیں یہ کافر ملک ترقی کیسے کر رہے ہیں ؟

کیونکہ یہاں مہران بنک کیس بند نہیں ہوتے ، منی لانڈرنگ کے ثبوت کے باوجود لوگ صدر اور وزیر ِ اعظم نہیں بنتے ۔ ECLمیں نام ہو ، پاور پلانٹ کیس میں گھپلے کئے ہوئے ہوں ، سپریم کورٹ چارج کر دے اور پھر سپریم کورٹ کے آرڈر ماننے سننے والا کوئی نہ ہو ۔۔بلکہ وہ لوگ اس ترتیب سے آپ پر مسلط کئے جائیں کہ بڑا چور صدر ، تھوڑا کم اور ذرا شرمیلا چور وزیرِ اعظم ۔۔کاش اسلام کو فتوئوں ، اقلیتوں سے نفرتوں اور مولوی کا ذریعہ معاش ہی نہ بنا لیا جاتا ، بلکہ اس کے اندر دئے گئے انصاف ، احتساب اور عدل کی رسی کو بھی تھاما جاتا ۔

2008میں برنارڈمیڈوف وال سٹریٹ کا وائیٹ کالر مجرم ،جس نے ponzy scheme کے ذریعے لوگوں سے تقریبا 5 بلین ڈالرزاکھٹے کئے ،امریکی قانون میں جو سزا دہشت گرد یا غدار کو دی جاتی ہے 150سال کی سزا ،وہ اس معاشی جرم کرنے والے کو دی گئی ، کہا گیا کہ اس نے گو کسی کو جان سے نہیں مارا مگر لوگوں کی ساری زندگی کی کمائی چھین کر انہیں ذندہ درگور کر دیا گیا ،یہ قتل سے بھی بڑا جرم ہے ،اس لئے اسے عیش و آرام سے جینے کا کوئی حق نہیں ، باقی کی زندگی جیل میں ڈرگ ڈیلرز کے درمیان ،جیل کے قوانین کے مطابق گذرے گی ۔اس موقعہ پر نیویارک کے فیڈرل جج Denny Chinکے سنہری حروف میں لکھے جانے کے لائق الفاظ یہ تھے :

ـ”Here the message must b sent that Mr Madoff’s crimes were extra ordinarly evil and that this kind of irresponsible manipulation of the system is not merely a bloodless financial crime that takes place just on paper,but it is instead..on that takes a staggering human toll”

ایک عام شہری عورت نے اس فیصلے کے بعد بڑی حقارت سے زمین پر تھوکتے ہوئے کہا تھا یہ اس لئے لوگوں سے پیسے چھینتا رہا کہ یہ اور اس کی بیوی عیش سے زندگی گذار سکیں ؟۔۔ برنارڈ میڈوف کی بیوی نے کہا یہ وہ شخص نہیں جس سے میں نے شادی کی تھی ۔ پھر جون 2012میں اس کے بھائی پیٹر میڈوف نے بھی اس فراڈ میں برنارڈ کا ساتھ دینے پر اعترافِ جرم کیا ۔ اور یوںجب غلط طریقے سے بلین ڈالرز بنانے والے جیل میں عام مجرم کی طرح پہنچ کر ٹوائلٹ بھی صاف کر رہے ہیں اور فرش پر گیلی ٹاکی بھی مار رہے ہیں تو کون اس نظام ِ عدل سے پنگا لینے کا سوچے گا ؟

بر وقت احتساب کے ساتھ ساتھ اس بات پربھی بار بار اور بے تحاشا زور دینے کی ضرورت ہے کہ عہدوں پر انتخاب معیار کے مطابق ہو ۔رشوت ، سفارش اور اقرباء پروری سے کی گئی تعیناتیاں شائد جسمانی اور معاشی قتل سے بھی بڑے جرُم ہیں ۔کیونکہ یہ وہ دروازہ ہے جس سے ہر قسم کے موذی کیڑے رینگ رینگ کر جسم پر چڑھ جاتے ہیں ۔ایک زہریلا کیڑا ادارے کو ڈستا جائے گا اور ادارہ وہ زہر پورے ملک میں پھیلا دے گا۔ ورنہ ہم 15جون کو منہ میں انگلی دابے قائد ِ اعظم کی رہائش کو تباہ ہوتے نہ دیکھ رہے ہوتے ،معصوم کالج کی بچیوں کو ڈولی میں بٹھانے کی بجائے ان کے جنازے نہ گن رہے ہوتے ۔15 جون کو ہی انگلینڈ میں ہونے والی چیمپئن ٹرافی میں انڈیا سے شرمناک شکست پر دکھ دل سے نہ پھر رہے ہوتے ۔ کوئی تو اس وجہ کو دُور کر نے کی کوشش یا ہمت کرے جس نے ہماری سیکورٹی سے لے کر ہماری تفریخ سب کو قتل کر کے رکھ دیا ہے اور ہماری بھُوک اور ذہنی انتشار کو بڑھا دیا ہے ۔

روبینہ فیصل ( کینڈا )
rubyfaisal@hotmail.com

About the Author

-

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>