Published On: Fri, Oct 4th, 2013

دہشت گرد میری جان کے دشمن ہیں: زرداری

asif zardariسابق صدر نے اپنی ذاتی سکیورٹی رکھنے کی درخواست دی تھی
پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ دہشت گرد ان کی جان کے دشمن ہیں اس لیے ان کے حفاظتی انتظامات سخت کرنے کی اجازت اور ہدایت دی جائے۔
سندھ ہائی کورٹ نےسابق صدرآصف علی زرداری کو اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لیے حفاظتی انتظامات مزید سخت کرنے کے لیے کالے شیشوں والی بلٹ پروف گاڑی اور ایک سو اسلحہ لائسنس حاصل کرنے کی اجازت دی ہے۔
وہ یہ سارے انتظامات ذاتی اخراجات پر کریں گے۔
اس سلسلے میں سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے ایک قریبی معاون ابو بکر زرداری اور وکیل فاروق ایچ نائیک کےتوسط سے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔
اس درخواست میں موقف اختیار کیاگیا تھا کہ پاکستان کے چاروں صوبوں میں امن و امان کی صورتحال کافی خراب ہے اور دہشت گرد آئے دن کسی نہ کسی سیاسی رہنما پر حملہ کرتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے سربراہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ سابق صدر ہونے کے باوجود انہیں صرف دوگن مین فراہم کیےگئے ہیں، اس لیےانھیں خطرہ ہے کہ دہشت گرد کسی وقت بھی انہیں نشانہ بنا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ کیونکہ یہ قوتیں محترمہ بےنظیر بھٹو کو شہید کر چکی ہیں، اس لیے انھیں بھی ایسے ہی خدشات کا سامنا ہے‘۔
سابق صدر نے درخواست میں مزید کہا تھا کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں دہشت گردی کے خلاف کئی اقدامات کیے تھے جس کی وجہ سے غیرجمہوری قوتیں اوردہشت گرد ان کی جان کے دشمن ہیں۔
درخواست میں استدعاکی گئی ہے کہ حکومت کو ہدایت کی جائے کہ انہیں کالے شیشوں والی بلٹ پروف گاڑی اور ذاتی خرچ پر سکیورٹی رکھنےکی اجازت دی جائے تا کہ وہ اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔
دوران سماعت یہ موقف اختیار کیا گیا کہ سکیورٹی سابق صدر کا آئینی حق ہے۔
سینیٹ کے سابق چیئرمین، سابق وزیرِ قانون اور آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کےجسٹس فیصل عرب اور جسٹس صلاح الدین پہنور پر مشتمل بینچ نے درخواست منظور کرتے ہوئے سابق صدر کو کالے شیشوں والی بلٹ پروف گاڑی اور ذاتی خرچ پر سکیورٹی گارڈز رکھنے کی اجازت دے دی ہے‘۔
عدالت نےسابق صدر کوخصوصی سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والےاداروں کو بھی ہدایت کی ہے۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>