Published On: Fri, Sep 20th, 2013

کراچی آپریشن کا پہلا مرحلہ خوش اسلوبی سے اختتام پزیر ہونے کو ہے،چوہدری نثار

politics 03وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نی کہاہے کہ طالبان سے مذاکراات اور کراچی کی صورتحال پر لڈو نہیں کھیل رہے۔کراچی آپریشن کا پہلا مرحلہ خوش اسلوبی سے اختتام پزیر ہونے کو ہے ۔ کراچی میں اوسطا یومیہ ہلاکتیں سولہ سے اٹھارہ ہوتی تھیں جو کم ہو کر اوسطا ایک سے تین ہوگئی ہیں۔طالبان سے مذاکرات کے لیے بھی ہوم ورک کر لیا ہے، اپر دیر میں فوجی افسران پر دہشتگردی کے حملے سے دھچکہ لگا ہے۔ کراچی کی صورتحال پر قومی اسمبلی میں اپنے بیان کے دوران چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ کراچی آپریشن کے حوالے سے وفاقی اور سندھ حکومت میں مکمل کوآرڈینشن ہے ۔وفاقی اور صوبائی حکومت اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے۔ وزیراعلی سندھ کی کپتانی میں کراچی آپریشن سے متعلق امور خوش اسلوبی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔اب تک رینجرز کے چار سو اور پولیس کے ایک ہزار ٹارگٹ آپریشن ہو چکے ہیںایک یا دو ہفتے میں پہلا مرحلہ ختم ہونے کے بعد کراچی آپریشن کے دوسرے اور تیسرے مرحلہ کا آغاز ہوگا۔وفاقی حکومت تمام اقدامات اٹھانے کے باوجود کراچی آپریشن کا کریڈت نہیں لے رہی۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے حالات آسان نہیں ہیں۔کراچی آپریشن کے لیے حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کی گئی تھی ۔اب بھی سیاسی جماعتوں کی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہوں۔کراچی میں امن لائیں گے، کراچی کے معاملہ پر سیاست گناہ عظیم ہوگا۔ کراچی کے معاملہ پر سیاست کرنے والا قوم کے سامنے بے نقاب ہوجائے گا۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہکراچی کے بارے انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس دیکھ کر سر پکڑلیا تھا۔کراچی میں لوگوں نے رستے بنا لیے ہیں گری ہوئِ دیواریں کھڑی کر رہے ہیں۔سچ اور بہتری کی بنیاد پر معاملہ آگے لے کر چلنا چاہتا ہوںمہاجر لبریشن آرمی سے متعلق رپورٹس سابق حکومت کے دور کی ہیں۔مہاجر لبریشن آرمی کے بارے نکتہ ٹھوس شواہد نہ ہونے کے باعث واپس لیا۔ اس کے تانے بنے ایم کیوایم سے نہیں کہیں اور ملتے تھے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں ابھی دس فیصد سے بھی کم کام ہوا ہے۔کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں کمی ہوئی ہے۔ انٹیلی جنس اداروں کو متحرک اور فعال بنانے کے نتیجہ میںمری اور لاہور سے لوگ گرفتار کیے گئے ہیں۔مجرم اب کراچی سے بھاگ رہے ہیںمجرموں کے لیے کراچی ہی نہیں پاکستان میں کوئی جگہ نہیں رہے گی۔ کراچی کے بارے سیاسی جماعتوں کی متفقہ پالیسی چلتی رہی تو دیرپا امن آئے گا ۔ا نہوں نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات کے لیے بھی ہوم ورک کیا ہے ۔کل جماعتی کانفرنس حکومتی ہوم ورک کا نتیجہ تھی ۔کل جماعتی کانفرنس نے ہمیں مذاکرات کا اختیار دیا گیا، اب کوئی ہمیں سیز فائر کے مشورے نہ دے۔ اگر ہر کوئی بولے گا تو کل جماعتی کانفرنس کے اتفاق رائے پر اثر پڑے گا۔انہوں نے بتایا کہ کل وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوگا اور وہ وفاقی وزرائ[L:4 R:4] کی قومی اسمبلی سے غیر حاضری کا معاملہ وہاں اٹھائیں گے۔وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے معاملے پر کوئی ہمیں سیزفائر کے حوالے سے مشورہ نہ دے۔ قومی قیادت ہر اختیار حکومت کو دے چکی ہے۔ غیرذمہ دارانہ بیانات کی وجہ سے اس عمل کو دھچکا لگا ہے ہر کوئی بولے گا تو آل پارٹیز کانفرنس کے اتفاق رائے میں خلل پڑ سکتا ہے۔ کراچی کے حوا لے اہداف باقی ہیں۔ تیسرے مرحلے میں سخت کارروائی ہوگی۔ کراچی میں آپریشن کی وجہ سے250 ملزمان بھاگ کر شمالی وزیرستان ایجنسی میں داخل ہوگئے۔چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ کراچی سے دہشت گرد بھاگ رہے ہیں پاکستان مین اب ان دہشت گردوں کو کہیں جگہ نہیں ملے گی ٘جمعرات کو قومی اسمبلی میں مختلف اراکین کے سولات کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے اقدام پر کرچی میں اپریشن کا فیصلہ کیا گیا ۔سندھ حکومت، ایم کیو ایم کی قیادت اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیا گیا ہے ان سے مسلسل رابطوں میں ہیں ماضی کے برعکس کراچی کے معاملے پر اپوزیشن سے رابطوں کو بڑھایا ہے ۔ حکومت کراچی آپریشن کی نگرانی اور کوآرڈینیشن کا فریضہ انجام دے رہی ہے کراچی کے حالات آسان نہیں ہیں سندھ حکومت کیساتھ ملکر آپریشن کی تفصیلات طے کی گئیں۔ صوبہ بھی اور وفاق بھی اپنی ذمہ داری پوری کررہا ہے آپریشن اور اور امن کے حوالے سے سیاست نہیں ہے ایسا کرناگناہ عظیم ہوگا۔ سندھ حکومت کو کہا ہے کہ کراچی میں اچھا کام ہوا تو کریڈٹ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ لے لیں منفی کام ہوتو ہم پر ڈال دیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کی کپتانی میں آپریشن ہورہا ہے۔ یہ جو ری پبلکن آرمی کا نام انٹیلی جنس رپورٹ میں تھا حساس معاملہ تھا اس لئے عدالتی رپورٹس سے اسے واپس لیا غلطی کے اعتراف پر الزام در الزام کیا درست ہے۔ سچائی کی بنیاد پر معاملات کو آگے لے کر جانا چاہتے ہیں یہ ری پبلکن آرمی کا نام بار بار کیوں لیا جاتا ہے یہ میرے نامہ اعمال میں پڑ گیا ہے اس حوالے سے انٹیلی جنس رپورٹس پرانی ہیں اس وقت نوٹس میں کیوں نہیں لایا گیا تھا۔ انٹیلی جنس نے ایک اور تنظیم کی نشاندہی کی ہے اس تنظیم کے تانے بانے کے بارے میں شواہد ملے ہیں تاہم انہوں نے بتایا کہ کراچی میں400 ٹارگٹڈ آپریشن ہوئے ہیں یہ رینجرز نے کئے ہیں۔ پولیس1000 آپریشن کرچکی ہے یہ اغواء برائے تاوان، دہشتگردی ، ٹارگٹ کلرز کیخلاف کارروائی کے حوالے سے الگ ہیں گزشتہ15 دن قبل ہلاکتیں18,16 تھیں آپریشن کے حوالے سے 10 فیصد کام ہورہا ہے پورے پاکستان میں دہشتگردوں کی گرفتاریوں کیلئے انٹیلی جنس ایجنسیاں کارروائیاں کررہی ہیں۔ دہشتگرد کراچی سے بھاگ رہے ہیں انشاء اللہ ان کیلئے پورے پاکستان میں جگہ نہیں ہوگی کراچی سے بھاگے250 لوگ شمالی وزیرستان میں داخل ہوئے 14جنوبی وزیرستان سے گرفتار ہوئے۔ لاہور سے بھی گرفتاریاں ہوئیں۔ انہوں نے کہاکہ طالبان سے مذاکرات کیلئے ہوم ورک کیا ہے۔ تمام رہنماؤں کو متحد کیا3 سالوں کے اعمال نامے کا ذمہ دار ہمیں تو نہ ٹھہرایا جائے۔ طالبان سے مذاکرات ہوں کراچی کے حالات یا امن وامان کی مجموعی صورتحال اہم معاملہ ہے اس پرلڈو نہیں کھیل رہے ہیں کارروائی کررہے ہیں کراچی میں اپ ڈاؤن آئے گا۔ کوشش کریں گے ڈاؤن نہ آئے خیر اور امن دونوں آئینگے جو اس میں خلل ڈالے گا جو سیاست لائے گا وہ پاکستانی قوم کے سامنے بے نقاب ہوگا۔ یہ پاکستان کی بقاء کا معاملہ ہے امن وامان کی صورتحال ماتھے پر داغ ہے اہداف باقی ہیں۔ کراچی میں تیسرے مرحلے میں سخت کارروائی ہوگی۔ طالبان سے بات چیت کا معاملہ اے پی سی سے نہیں کئی ماہ پہلے شروع ہوا۔ انہوں نے دیربالا میں فوجی قافلے دہشتگردوں کے حملے بارے کہاکہ جنرل اگلے موچوں کا دورہ کررہا تھا موسم کی خرابی پر گاڑی میں وہاں گیا۔فوجی قافلے میں جرنیل کی گاڑی سب سے آگے تھی۔ دھماکے میں یہی گاڑی نشانہ بنی جس میں وہ شہید ہوگئے کوئی ہمیں سیزفائر کی تجاویز نہ دے۔ اے پی سی میں اختیار حکومت کو دیا گیا ہے۔بیانات سے عمل کو دھچکا لگا ہے۔ فوج سمیت سب سے رابطے کریںگے۔ پاکستان کی آزادی وخودمختاری، عزت ووقار کیساتھ اس معاملے کو دیکھا جائیگا۔ اگر ہر کوئی بولے گا تو اے پی سی کے اتفاق میں خلل پڑسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایوان میں معاملات کا جواب دینے کے حوالے سے ہماری طرف سے کمزوری ہے تنقید درست ہے پاکستان ایوان کے مضبوط ہونے سے مضبوط ہوگا ملک کا استحکام ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ جمعہ کو کابینہ کا اجلاس ہے ان معاملات پر بات ہوگی۔ وزراء کی عدم موجودگی کا معاملہ بھی زیربحث آئیگا۔ کسی کو غلط بیانی سے ارکان کے جذبات کو مجروح کرنے کا اختیار نہیں۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>