Published On: Tue, Sep 10th, 2013

قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ کریں گے نہ قومی سلامتی پر سیاست کی جائے گی ،نواز شریف

Nawaz-Sharifوزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ کریں گے نہ کوئی قومی سلامتی ، معیشت ، دہشت گردی توانائی کے بحران پر سیاست کی جائے گی ۔ پاکستان دہشت گردی کی گرفت میں ہے ۔ نئی صبح کا آغاز کرنا ہے دہشت گردی کے معاملے پر نفاق کا مظاہرہ کیا تو یہ سب کے لئے گھاٹے کا سودا ہو گا ۔ہم مذاکرات کے ذریعے دہشت گردی کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنا چاہتے ہیں طالبان سے مذاکرات میں سنجیدہ ہیں ۔چیلنجز سے نمٹنے کے لئے سیاسی رہنماؤں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے متفقہ فیصلوں اور مسائل کے حل سے جمہوریت پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہو گا ۔ قیام امن کے لئے تمام صوبوں سے بھرپور تعاون کریں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں وزیر اعظم ہاؤس میں قومی سلامتی کے معاملے پر کل جماعتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کانفرنس میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ ، پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے چیئرمین سینیٹر راجہ ظفرالحق ، پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمینٹرینز کے چیئرمین مخدوم امین فہیم ، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ، متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار ، حیدر عباس رضوی ،جمعیت علماء اسلام ( ف ) کے امیر مولانا فضل الرحمان ، جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ ، میاں محمد اسلم ،عوامی نیشنل پارٹی کے قائم مقام صدر سینیٹر حاجی عدیل ، پختوانخوا ملی عوامی پارٹی کے صدر محمود خان اچکزئی ، بلوچستان نیشنل پارٹی ( مینگل ) کے سربراہ سردار اختر مینگل ،مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیرپگاڑا ،امتیاز شیخ ، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ ، مسلم لیگ ( ق ) کے صدر چودھری شجاعت حسین ، سینیٹ قومی اسمبلی میں فاٹا کے پارلیمانی لیڈرز جی جی جمال ، سینیٹر عباس آفریدی، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے امیر سینیٹر پروفیسر ساجد میر ، وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف ، وزیر اعلی سندھ قائم علی شاہ ، وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک ، وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ، گورنر خیبر پختونخوا انجینئر شوکت اللہ ، چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام ، وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید ، وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے شرکت کی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کے مستقبل کے حوالے سے سیاستدانوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ قومی سلامتی کے معاملے سے ہمارا حال اور مستقبل وابستہ ہے دہشت گردی پاکستان کا اس وقت اہم ترین معاملہ ہے ۔ ہم اس پر بات کرنا چاہتے ہیں ۔ اس سے قبل بھی سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر آل پارٹیز کانفرنسیں ہو چکی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی نمائندہ جماعتوں سے مشاورت کر رہے ہیں ۔ پاکستان اس وقت دہشت گردی کی گرفت میں ہے پاکستان کے مسائل گھمبیر ہیں انتخابات کے موقع پر بھی ان خطرات کا ذکر کیا تھا کہ کس طرح ان کا مقابلہ کرنا ہے یہ بہت بڑا مشن ہے ۔ ہم سب کو اکٹھے ہونا ہو گا ۔ دہشت گردی ، معیشت اور بجلی کے بحران پر کوئی سیاست نہیں کریں گے ۔ متفقہ فیصلوں کے ذریعے آگے بڑھنا چاہتے ہیں ۔ اگر ہم ایک دوسرے کی مدد کریں گے تو پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام مشکلات سے باہر نکلیں گے ۔ مشکلات درپیش رہیں تو اس کا نقصان ہم سب کو ہو گا ۔ عوام کا نقصان بھی ہو گا ہمیں بھی نقصان ہوگا ۔ ہم بھی فائدے میں نہیں رہیں گے ہم سب کے لئے گھاٹے کا سودا ہو گا اس لئے میرا نظریہ ہے کہ ہم سب کو نئی صبح کا آغاز کرنا ہے ہم سیاست کرتے رہیں گے یہ ہمارا حق بنتا ہے بعض چیزوں کے حوالے سے اتفاق ہونا چاہئے ان پر سیاست نہیں ہو گی ۔ اگر ہم ملک کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے پاک کر دیتے ہیں تو واقعتاً ہم اس سے پاکستان کو اکیسویں صدی میں لے کر جائیں گے خدا نخواستہ ہم نے ذاتی رنجشوں کی وجہ سے نفاق کا مظاہرہ کیا تو پھر پاکستان کا نقصان ہو گا فائدہ کسی کا نہیں ہو گا ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکورٹی اداروں اور عام افراد ہزاروں کی تعداد میں نشانہ بن چکے ہیں ۔ جن کی تعداد چالیس ہزار سے زائد ہے ۔ دہشت گردی نے معیشت کو بری طرح نقصان پہنچایا لوگ پاکستان میں سرمایہ کاری سے گھبراتے ہیں ۔ سرمایہ کار خیبر پختونخوا ، پنجاب ، بلوچستان اور کراچی میں سرمایہ کاری سے گھبراتے ہیں ان میں سے بہت سے دہشت گردی کا شکار ہو چکے ہیں پاکستان میں جگہ جگہ اغواء برائے تاوان کا مسئلہ درپیش ہے ۔ کراچی کے مسئلہ پر ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی نے کوئی مخالفت نہیں کی ۔ اتفاق رائے سے تمام مقامی جماعتوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے فیصلہ کیا سید قائم علی شاہ نے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی ہم سب مل کر اتفاق رائے سے فیصلے کر لیں تو ملک کے بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے جس سے پاکستان میں عوام کا جمہوریت پر مزید اعتماد بڑھے گا لوگ کہیں گے کہ جمہوریت ہی مسائل حل کرتی ہے جمہوریت پر لوگوں کی توقعات اور اعتماد بڑھے گا ۔ جمہوریت اگر عوامی توقعات پر پورا اترتی ہے تو یہ ملک کے لئے بہترین فیصلہ ہو گا اور احسن اقدام ہو گا ۔ ہم جنگی بنیادوں پر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہو گا ۔ تمام صوبوں سے بھرپور تعاون کا ہاتھ بڑھایا ہے ۔ پی پی پی کو سندھ میں مینڈیٹ ملا ۔ بلوچستان میں ڈاکٹر عبدالمالک وزیر اعلی ہیں خیبر پختونخوا میں پرویز خٹک وزیر اعلی ہیں بڑی خوشی کی بات ہے کہ وزیر اعلی سندھ کی رہنمائی سے کراچی میں امن و امان پر فیصلے کیے ۔ گورنر سندھ سے بات ہوئی ۔ کسی کی باتوں میں کوئی فرق نظر نہیں آیا ۔ تمام جماعتیں ہم سے زیادہ پرجوش تھیں کہ کراچی میں آپریشن کیا جائے ۔ تمام جماعتیں اس پر متفق تھیں وزیر اعظم محمد نواز شریف نے جس نے جہاں مینڈیٹ حاصل کیا اس کا احترام کریں گے ۔ گزشتہ دنوں آزاد کشمیر میں کھلبلی مچ گئی اور حکومت گرانے کی کوشش کی گئی اور پھر کوئی ایک صاحب آزاد کشمیر کی وزارت عظمی کے امیدوار بھی بن گئے اور ہماری پارٹی کو بھی ساتھ ملانے کی کوشش کی اور مل کر حکومت گرانے کی کوشش کرنا چاہتے تھے حکمران جماعت میں بھی گروپنگ ہو گئی مگر ہم نے ساری سازش اور مہم کو ختم کر کے رکھ دیااور کہا کہ جس پارٹی کو مینڈیٹ ملا ہے کسی سازش کے تحت اس مینڈیٹ کو ختم نہیں کیا جائے گا ۔ ہم نے وزیر اعظم آزاد کشمیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کوششوں کو ناکام بنا کر نئے جمہوری کلچر کی بنیاد رکھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان جس صوبے اور علاقے میں گڑ بڑ ہے ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کو تیار ہیں ۔ ہم آگے آگے ہوں گے اسی نظریہ پر عمل کر کے دکھائیں گے تاکہ پاکستان میں سکون ہو ۔ ہم ملک میں امن و سکون چاہتے ہیں پرامن انتقال اقتدار احسن انداز میں ہوا ہے ۔ اور جمہوری صدر آئینی مدت مکمل کر کے سبکدوش ہو چکے ہیں ۔ نئے صدر آ چکے ہیں ۔ اس طرح کی روایات دیکھنے کے لئے پچھلے ساٹھ سالوں سے آنکھیں ترس رہی تھیں اور چاہتے ہیں کہ ایسی روایتیں ملک میں ہمیشہ دیکھنے میں آئے کوئی رخنہ نہ پڑے اور نظام کامیابی سے چلتا رہے ۔ یہ جمہوریت کی بھی آزمائش ہے کہ ہم عوامی توقعات پر پورا اتریں ۔ کتنی خوبصورت بات ہے کہ ہم سب اکٹھے بیٹھے ہیں ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑا کوئی جیتا اور کوئی ہارا ۔ لیکن ہم پاکستان کے مسائل حل کرنے کے لئے اکٹھے بیٹھیں ہیں ۔ اختلاف رائے کو مل بیٹھ کر حل کر سکتے ہیں وزیر اعظم نے دہشت گردی کی حالیہ واقعات کی مذمت کی اپنے دورہ چین کا تذکرہ بھی کیا اور کہا کہ چین ہمارا دوست ہے ۔ ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ مسائل کو حل کرنا ہے یا نہیں حل کرنا ۔ فیصلوں پر عملدآمد کے لئے نگرانی کروں گا ۔ مذاکرات کے لئے سنجیدہ ہیں گزشتہ اے پی سی میں یہی فیصلہ ہوا تھا کہ مذاکرات کو ترجیح دی جائے اور اتفاق رائے سے فیصلہ کر کے آگے بڑھنا ہے ۔ اندرونی و بیرونی خطرات پر ڈی جی آئی ایس آئی نے بریفنگ دی ۔ حساس معاملات پر بحث کی گئی ۔ عسکری قیادت نے سلگتے ہوئے سوالات کے جوابات دیئے

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>