Published On: Mon, Sep 2nd, 2013

پاکستان میں خاندانی سیاست کا عروج ، ایک عرصے سے حاوی

Imagesپاکستان میں موروثی سیاست کے باعث سیاست دان اور ان کے بھائی ، بہن ، بیٹیاں اور بیٹے انتخابات میں ایک ساتھ اسمبلی میں پہنچنے میں تو کامیاب ہوگئے لیکن کہیں بیٹا اقتدار میں ہے تو باپ اپوزیشن میں اور کہیں بیٹی اپوزیشن میں بیٹھی ہے تو باپ حکومت میں ہے۔سب سے زیادہ خوش مسلم لیگ نون کے شریف برداران ہیں کیونکہ ایک بھائی کے حصہ وزارت عظمی آئی تو دوسرے کے پاس وزارات اعلی ہے غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق قائم علی شاہ وزیر اعلی سندھ ہیں جبکہ ان کی بیٹی نفیسہ شاہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن میں بیٹھیں ہیں۔اس کے برعکس سابق وزراء آفتاب شیر پاؤ اور مخدوم امین فہیم قومی اسبملی میں اپوزیشن میں ہیں اور ان کے بیٹے صوبائی وزیر ہیں۔آفتاب شیرپاؤ کے بیٹے سکندر حیات شیرپاؤ خیبر پختونخوا اور امین فہیم کے بیٹے جمیل الزمان سندھ میں صوبائی وزیر ہیں۔شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے،بیک وقت اسمبلی کے رکن بننے والے باپ بیٹوں میں وزیر اعلی شہباز شریف اور سابق وزیر اعلی پرویز الہی بھی شامل ہیں التبہ ان میں فرق اتنا ہے کہ شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے جبکہ پرویز الہی خود رکن قومی اسمبلی اور جبکہ ان کے بیٹے مونس الہی رکن پنجاب اسمبلی ہیں۔مسلم لیگ نون کے سینیٹر مشاہد اللہ خان کی بیٹی بھی ریدا خان خواتین کی مخصوص نشست پر قومی اسمبلی پہنچی ہیں۔پنجاب سے مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی نجف سیال اور سعید منہیسں کے بیٹے بھی اس وقت رکن پنجاب اسمبلی ہیں۔سینیٹ کے رکن جعفر اقبال اس اعتبار سے سب سے زیادہ خوش قسمت ہیں کہ ان کی بیٹی رکن قومی اسبملی اور بیٹا رکن پنجاب اسمبلی چنا گیا ہے۔جہاں باپ بیٹے یا بیٹی بیک وقت قومی اسمبلی کے رکن بنے ہیں وہاں ایسے ماں بیٹے یا بیٹیاں بھی ہیں جو ہ اسمبلیوں کی رکن ہیں۔ ان میں پیپلز پارٹی کے فہمیدہ مرزا ، مسلم لیگ نون کی تہمینہ دولتانہ اور طاہرہ اورنگ زیب شامل ہیں۔فمیہدہ مرزا اور تہمیبہ دولتانہ کے بیٹے سندھ اور پنجاب اسمبلی کے رکن ہیں جبکہ طاہرہ اورنگ زیب کی بیٹی کے پاس پنجاب اسمبلی کی رکنیت ہے۔ایک ہی وقت میں رکن قومی اور صوبائی اسمبلی منتخب ہونے والے بھائیوں میں سب سے نمایاں شریف برداران ہیں۔صدر آصف علی زرداری کی بہنیں ڈاکٹر عذرا پیچوہو اور فریال تالپور بھی ایک ساتھ قومی اسمبلی بنیں ہیں،وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعلی شہباز شریف چودہ برس کے بعد بیک وقت قومی اور صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں اس سے پہلے بھی انیس ستانوے میں دونوں بھائیوں کے پاس وزات عظمی اور وزارت اعلی رہی ہیں۔جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان قومی اسمبلی اور ان کے بھائی لطف الرحمان کے پی کے اسمبلی کے رکن بنے ہیں۔وفاقی وزیر سکندر حیات بوسن کے بھائی شوکت حیات بوسن صوبائی اسمبلی رکن ہیں جبکہ گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود کے ایک بیٹے مصطفی محمود قومی اسمبلی اور دوسرے بیٹے مرتضی محمود پنجاب اسمبلی کے رکن ہیں۔سابق صدر سردار فاروق لغاری کے بیٹے اویس لغاری قومی اسمبلی اور ان کے بھائی جمال لغاری رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔سابق وفاقی وزیر اور رکن قومی اسمبلی وزیر رضا حیات ہراج کے بھائی عامر حیات ہراج رکن پنجاب اسمبلی چنے گئے ہیں۔اسی طرح لاہور سے مسلم لیگ نون کے کھوکھر برداران میں سے افضل کھوکھر اور ان کے بھائی سیف الملوک کھوکھر ایک ہی وقت میں رکن قومی اور صوبائی اسمبلی کے طور پر کامیاب ہوئے ہیں۔وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق تو اس مرتبہ بھی رکن قومی اسمبلی بن گئے ہیں تاہم ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق پنجاب اسمبلی کی نشست پر کامیاب نہیں ہوسکے۔مسلم لیگ نون کے رانا تنویر حسین اور ان کے بھائی رانا افضال حسین دوسری مرتبہ بیک وقت رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔اسی طرح صدر آصف علی زرداری کی بہنیں ڈاکٹر عذرا پیچوہو اور فریال تالپور بھی ایک ساتھ قومی اسمبلی بنیں ہیں۔مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی سمیرا ملک اور عائلہ ملک بھی ایک ہی وقت قومی اسمبلی رہ چکی ہے لیکن اب عائلہ ملک تحریک انصاف میں ہیں اور ضمنی انتخاب میں ان کو ٹکٹ ملا تو ان کے بھی اسمبلی میں پہنچنے کے امکانات ہوسکتے ہیں۔جنوبی پنجاب سے آزاد رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے بھی اپنے خالی ہونے والی ایک نشست پر اپنے بھائی کو انتخاب لڑانے کا اعلان کیا ہے۔ –

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>