Published On: Fri, Aug 30th, 2013

پاکستانی سیاست میں سعودی مداخلت کا انکشاف

nawaz-kingنیشنل سکیورٹی کے مشیر طارق عزیز نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب نواز شریف کی مہم کے لیے بھاری مقدار میں فنڈنگ کر رہا ہے
اسلام آباد  پاکستان کے انگریزی روزنامے ڈان نے وکی لیکس کےاشتراک سے خفیہ امریکی مراسلے شائع کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نےسعودی عرب سے کہا تھا کہ وہ نواز شریف کی مہم کے لیے فنڈز دینا بند کر دیں۔
اسلام آباد میں تعینات امریکی سفیر کے ایک مراسلے کے مطابق صدر پرویز مشرف کے نیشنل سکیورٹی کے مشیر طارق عزیز نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب نواز شریف کی مہم کے لیے بھاری مقدار میں فنڈنگ کر رہا ہے تاکہ پیپلز پارٹی کو شکست دی جا سکے۔ طارق عزیز کے مطابق آئی ایس آئی کے سربراہ ندیم تاج نے سعودی سفیر کو فون کر کے درخواست کی کہ اس سلسلے کو بند کیا جائے، اور کہا کہ یہ حکومت پاکستان کی سعودی عرب سے نواز شریف کی جلا وطنی سے واپس آنے کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ مراسلے کے مطابق طارق عزیز نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں ممکنہ اتحاد پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔
طارق عزیز کا کہنا تھا کہ اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں اتحاد ہو جاتا ہے تو اس صورت میں پرویز مشرف کے پاس کیا مواقع ہونگے؟
امریکی سفیر کے مطابق اس سے پہلے طارق عزیز نے پیشنگوئی کی تھی کہ مشرف کی جماعت قومی اسمبلی میں چھیاسٹھ نشستیں جیت سکتی ہے تاہم ان کا اب کہنا تھا کہ مشرف کی جماعت کی پنجاب اسمبلی میں اکثریت بھی مشکل ہو گی۔
اس کے علاوہ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ندیم تاج اور طارق عزیز نے آصف علی زرداری پر زور دیا تھا کہ وہ وزارت عظمیٰ کے لیے خود امیدوار نہ بنیں کیونکہ اس کی وجہ سے پیپلز پارٹی تقسیم ہو سکتی ہے اور جماعت کو قومی اثر و رسوخ کم ہو سکتا ہے۔آصف علی زرداری نے چودہ فروری سال دو ہزار آٹھ میں خود وزیراعظم بننے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔
طارق عزیز نے آصف علی زرداری کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ مخدوم امین فہیم کو وزیراعظم بنایا جائے لیکن آصف زرداری کا کہنا تھا کہ امین فہیم ایک کمزور انتظامی شخصیت ہیں اور ان کے پاس نظام حکومت چلانے کی خصوصیات نہیں ہیں۔ بعد میں طارق عزیز نے امریکی سفیر کے سامنے تسلیم کیا کہ آصف زرداری نے ٹھیک کہا ہے کیونکہ مخدوم امین فہیم جب وزیرِ مواصلات تھے تو وہ اپنا زیادہ وقت کراچی میں واقع اپنے گھر میں گزارتے تھے اور دفتر ہفتے میں چند دن کے لیے ہی آتے تھے اور دفتر بھی دن کے درمیانی حصے میں آتے تھے۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>