Published On: Mon, Jul 22nd, 2013

پشاور:ضمنی انتخابات کے لیے سیاسی جوڑ توڑ

130516110544_maunala-fazal-ur-rehmanپاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ضمنی انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں میں سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے۔
جنوبی اضلاع میں قوی اسمبلی کے دو حلقوں پر جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بھائی اور بیٹے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل امیدواروں کی کوشش ہے کہ متحد ہو کر میدان میں اترا جائے۔یہ دونوں نشستیں مولانا فضل الرحمان نے خالی کی ہیں۔
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے پچیس ٹانک کم ڈیرہ اسماعیل خان کی نشست پر مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے مولانا اسد محمود پہلی مرتبہ سیاسی میدان میں اترے ہیں۔ مولانا اسد محمود کی عمر لگ بھگ تیس سال ہے اور انھوں نے ملتان کے ایک مدرسے سے تعلیم حاصل کی ہے۔
ان کے مدمقابل پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار داور کنڈی ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اب تک کسی امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا۔
ایسی اطلاعات ہیں کہ اس حلقے میں قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی اس مرتبہ انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے ہیں۔ عام انتخابات میں اس حلقے سے مولانا فضل الرحمان لگ بھگ ستر ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے تھے جبکہ ان کے مدمقابل کنڈی خاندان کے دونوں امیدواروں نے ایک لاکھ کے قریب ووٹ حاصل کیے تھے۔
پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار داور کنڈی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مرتبہ فیصل کنڈی ان کے حق میں دستبردار ہو گئے ہیں۔
اس بارے میں فیصل کریم کنڈی سے رابطے کی کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ اس حلقے میں سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کا امکان ہے۔
ادھر قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ستائیس پر مولانا فضل الرحمان کے بھائی اور سابق ایم این اے مولانا عطاء الرحمان انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔
ایسی اطلاعات ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کی کوشش تھی کہ ان کے بھائی بلامقابلہ منتخب ہو جائیں لیکن اب حالات قدرے مختلف ہیں۔
مقامی سطح پر کہا جا رہا ہے کہ مولانا عطاءالرحمان کے مقابلے میں مشترکہ امیدوار سامنے لایا جائے۔
نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق اس وقت اختر منیر خان اور پاکستان تحریک انصاف کے نامز امیدوار دیگر امیدواروں کے ہمراہ میدان میں موجود ہیں۔ اختر منیر نے عام انتخابات میں مسلم لیگ نواز کی ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے حلقہ کے لیے انتخاب میں حصہ لیا تھا لیکن ضمنی انتخاب کے لیے انھیں ابھی تک جاعت کا ٹکٹ نہیں ملا ہے۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>