Published On: Sat, Sep 7th, 2013

بلوچستان میں پاک فوج کا ایک بھی سپاہی آپریشن نہیں کر رہا۔ آرمی چیف

downloadآرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ایک بار پھر وضاحت کی ہے کہ بلوچستان کے کسی بھی علاقہ میں پاک فوج کا ایک بھی سپاہی آپریشن نہیں کر رہا یہ صرف ایف سی ، پولیس اور لیویز کر رہی ہیں پاک آرمی صرف کنٹونمنٹس میں موجود ہے اور کوئی نئی چھاؤنی بھی گزشتہ تینسال کے دوران نہیں بنائی گئی پاک فوج بلوچستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے پاکستانی آرمی بلوچستان میں قیام امن کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہے ایک مضبوط اور خوشحال بلوچستان ہی پاکستان کی مضبوطی کا ضامن ہے پاکستان کا دفاع ایک مضبوط اور خوشحال بلوچستان ہے بلوچستان میں ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے اور ڈاکٹر مالک اس مقصد کے لیے انتہائی موزوں شخصیت ہیں ان خیالات کا اظہار آرمی چیف نے ملٹری کالج سوئی میں یوم والدین کی تقریب سے خطاب میں کیا بلوچستان کے وزیر اعلی ڈاکٹر عبد المالک بلوچ بھی اس موقع پر موجود تھے ۔جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ یوم والدین کے موقع پر ملٹری کالج سوئی میں موجود ہونا میرے لیے باعث مسرت ہے کالج کے طلباء کی بہترین کارکردگی دراصل ہمارے خوابوں کی تعبیر ہے اڑھائی سال قبل کالج کے قیام کا مقصد نہ صرف معیاری تعلیم کی روشنی کو بلوچستان کے اس علاقہ تک پہنچانا تھا بلکہ بلوچستان کی نوجوان نسل کو موقع فراہم کرنا تھا کہ وہ قومی دھارے میں شامل ہو کر پاکستان اور صوبہ بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں آج اس کالج کے طلباء کی بہترین کارکردگی اس بات کی گواہی ہے کہ ہماری منزل دور نہیں اور اس کالج کا مستقبل انتہائی روشن اور تابناک ہے جنرل کیانی نے کہا کہ ملک کے پہلے ملٹری کالج کا قیام 88 سال قبل جہلم میں عمل میں آیا اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں ملٹری کالج جہلم کا طالب علم رہا ہوں گزشتہ پانچ میں ہم نیے دو مزید کالج قائم کئے ان میں ایک مری اور دوسرا سوئی میں سوئی میں کالج کا قیام کئی وجوہات کی وجہ سے دشوار کام تھا لیکن ہم نے یہ فیصلہ کیا اور آج کالج کی کارکردگی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے آج کا ملٹری کالج سوئی مستقبل کی فوجی قیادت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا ان کا کہنا تھا کہ معیاری تعلیم کی بھی خاندان یا قبیلہ اور قوم کی ترقی کے لیے ایک لازمی شرط ہے ملٹری کالج سوئی معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبا کی شخصیت کو نکھارنے پر بھی خصوصی توجہ دے رہا ہے تاکہ مستقبل میں یہ طلباء پاکستان کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں میں کالج کے طلباء کو مبارکباد اور اساتذہ اور انتظامیہ کی ان کی انتھک کاوشوں پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنرل کیانی نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے اللہ تعالی نے اس خطہ کو بے پناہ وسائل سے نوازا ہے ایک مضبوط اور خوشحال بلوچستان ہی پاکستان کی مضبوطی کا ضامن ہے افواج پاکستان نے اپنے محدود وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے صوبہ میں امن کے قیام اور معاشی اور تعلیمی ترقی کے لیے اپنی تمام تر کوشش کی ہے تعلیم کے فروغ کے لیے فوج نے بلوچستان میں جن منصوبوں کا آغاز کیا ہے ان میں ملٹری کالج سوئی کے علاوہ چملانگ ایجوکیشن پروگرام ، کوئٹہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ، بلوچستان پبلک سکول اور فنی تعلیم کے لیے بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنیکل ایجوکیشن ، گوادر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور آرمی انسٹی ٹیوٹ آف منرولوجی کا قیام شامل ہیں آج بلوچستان کے 20 ہزار سے بچے آرمی اور ایف سی کے صوبہ میں قائم اداروں میں زیر تعلیم ہیں چملانگ سکیم سے مستفید ہونے والے طالب علموں کی تعداد چار ہزار ہے اس وقت 600 بلوچ بچے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پاک فوج کی زیر سرپرستی زیر تعلیم ہیں ان طلباء میں لڑکیوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے جو انتہائی اطمینان سے اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں کوئٹہ میڈیکل کالج کا قیام 2011 ء عمل میں آیا آج وہاں دو کلاسیں شروع ہیں اور ہر سال وہاں 100 طلباء کو داخلہ ملتا ہے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 152 طلبا یہاں زیر تعلیم ہیں جبکہ بولان میڈیکل کالج میں پچاس طلباء کو سالانہ داخلہ ملتا تھا اب دونوں کالجوں میں ہر سال بلوچستان کے 150 طلباء میڈیکل کی تعلیم حاصل کریں گے آرمی انسٹی ٹیوٹ آف منرولوجی کے قیام کا مقصد بلوچستان کے جوانوں کو بلوچستان ہی کی معدنی ترقی میں حصہ دار بنانا ہے ہم چاہتے ہیں کہ بلوچستان کے لوگ صرف مزدور ہی نہ بنیں بلکہ مختلف شعبوں میں اہم عہدوں پر فائز بھی ہوں اس سکول سے فارغ ہونے والے گریجویٹس کو فوری نوکری بھی مل جاتی ہے پاکستان آرمی بلوچستان کی معاشی ترقی میں بھی حتی الوسعیٰ معاونت فراہم کر رہی ہے کاسا ماربل پراجیکٹ ، چملانگ کول مائنز کے علاوہ دیگر کئی چھوٹے بڑے منصوبوں کے ارجراء کے باعث ہزاروں افرا کو روزگار ملا ہے اس میں بلوچستان حکومت کا بھی بہت بڑا حصہ ہے ان کا کہنا تھا کہ کاسا ماربل میں فوج نے صرف جو کام کیا وہ اس قدر ہے کہ کاسا میں بہت زیادہ گہرائی پر ماربل ہے لیکن قبائل کے آپس کے کچھ اختلافات کی وجہ سے وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے آرمی نے ان قبائل کو آپس میں راضی کیا اور اسکا فائدہ مقامی قبائل کو ملنا شروع ہوا ان کا کہنا تھا کہ ڈیرہ بگٹی میں صحت کے مراکز ، ڈسپنسریوں کی تعمیر و ترقی ، کوہلو میں سڑکوں کی تعمیر ، پانی و بجلی سکیمیں اور ہسپتالوں کا قیام ، سبی سے رتنی اور شہداد پور تک شاہراہیں پاک فوج کے بلوچستان کے عوام سے گہرے تعلق کا واضح ثبوت ہیں ان کا کہنا تھا کہ میں وزیر اعلی بلوچستان سے ملاقات کی ان کا خیال ہے اور میں ان سے متفق ہوں کہ بلوچستان میں سب سے اہم شاہراہ گوادر سے لے کر رتو ڈیرو تک بننی چاہیے بلوچستان میں بہت بڑی نہر بن رہی ہے وہ بننی چاہیے اس نہر کو سب سے بڑا فائدہ بگٹی قبیلہ کو ہو گا ہم نہر کی جلد تعمیر کی تکمیل کے لیے بلوچستان حکومت کی مدد کریں گے ان کا کہنا تھا کہ پاک آرمی صوبہ میں امن و امان کی صور تحال بہتر بنانے میں ہر ممکن تعاون فراہام کر رہی ہے اس میں بلوچستان پولیس کو جدید طرز پر تربیت اور موثر ہتھیاروں کی فراہمی شامل ہے اس وقت بلوچستان میں فوج کا ایک بھی سپاہی کہیں پر آپریشن نہیں کر رہا یہ صرف ایف سی ، پولیس اور لیویز کر رہی ہیں پاکستان آرمی اپنی کنٹونمنٹس میں بیٹھی ہوئی ہے ملٹری کالج سوئی بھی پہلے چھاؤنی تھی بعد میں اسے ختم کر کے کالج بنایا گیا اس کے علاوہ دو تین سال قبل دو تین چھاؤنیاں بنانے کا اعلان ہوا تھا لیکن وہ ہم نے نہیں بنائیں ایف سی حکومت کے ساتھ مل کر اپنا کام مکمل کر رہی ہے افواج پاکستان ملکی یکجہتی اوریگانگت کو اولین ترجیح دیتی ہے 2007 ء تک پاک فوج میں بلوچستان کی نمائندگی صرف 1.7 فیصد تھی جو کہ آبادی کے تناسب سے کم از کم چار فیصد ہونا چاہیے تھی بلوچستان کے نوجوانوں کو مساوی نمائندگی دینے کے خاص پروگرام کا اجراء کیا گیا جس کے تحت 2010 ء سے لے کر اب تک تین سال کے اندر 12000 کے قریب نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کیا گیا اس طرح فوج میں بلوچستان کی نمائندگی 1.7 فیصد سے برھ کر 3.5 یعنی دگنی ہو چکی ہے جوکہ آبادی کے تناسب سے بلوچستان کے عوام کا حق ہے ہم اس کو اور بہتر بنائیں گے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بلوچستان فوج میں افسروں کی تعداد 760 ہو گئی ہے بلوچستان کی ترقی اصل میں پاکستان کی ترقی ہے پاک فوج اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے اوراس سلسلہ میں اپنا کردار ادا کرتی رہے ہے اور کرتی رہے گی ان کا کہنا تھا کہ کالج علاقہ کا بہت بڑا سامایہ ہے کیونکہ والدین کے لیے اولاد کو تعلیم دلوانے کے علاوہ کوئی بڑا کام نہیں ہو سکتا آرمی چیف نے وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی تقریب میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں خوشحالی اور ترقی کے ایک ئے سفر کا آغاز ہو چکا ہے مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر عبد المالک اس کی رہنمائی کے لیے ایک موزوں ترین شخصیت ہیں اور اللہ تعالی ان کو کامیاب کرے ان کا کہنا تھا کہ آج یوم دفاع پاکستان ہے اور یہ محض اتفاق نہیں کہ میں آج کا دن ملٹری کالج سوئی میں گزار رہا ہوں بلکہ اصل وجہ وہ یقین ہے کہ پاکستان کا دفاع ایک خوشحال اور مضبوط بلوچستان ہے اور بلوچستان کی نوجوان نسل اس کی ضمانت ہے اللہ تعالی کالج کو مزید ترقی اور بلوچستان کے عوام کو امن اور خوشحالی نصیب فرمائے

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>