Published On: Wed, Sep 4th, 2013

کراچی کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے طاقت کا استعمال کرنا پڑے گا، نواز شریف

Nawaz Sharifوزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ کراچی کی بد امنی ٹھیک کرنے اور اسے امن کا گہوارہ بنانے کے لیے حکومت کو طاقت کا استعمال کرنا پڑے گا کراچی ملک کا سب سے اہم شہر ہے اسے امن کا گہوارہ بنانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے پیدا کرنا چاہتے ہیں کراچی میں امن ہوگا تو پورے ملک میں امن ہوگا امن و امان کے مسئلے کے حل کے لیے کوئی سیاست نہیں کروں گا انہو ںنے یہ بات اپنی سربراہی میں گورنر ہاؤس کراچی میں ہونے والے سندھ کی آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اجلاس میں ن لیگ کی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ،پرویز رشید ،اسحاق ڈار جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے تاج حیدر ،عبدالقادر پٹیل ،مولا بخش چانڈیو عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے شاہی سید متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے بابر غوری ،حیدر عباس رضوی جماعت اسلامی کی جانب سے محمد حسین محنتی جبکہ سنی تحریک کی جانب سے ثروت اعجاز قادری شریک ہوئے جبکہ پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ فنگشنل کا کوئی بھی رہنما اجلاس میں شریک نہ ہوا ۔ اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کو بے امنی کو ٹھیک کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنا پڑے گا کراچی کو امن کا گہوارہ بنانے میں سب کا فائدہ ہے امید کرتا ہوں کہ کراچی میں امن کے لیے تمام جماعتیں میرا ساتھ دیں گی اور میرے لئے تمام جماعتوں کے مینڈیٹ کا احترام کرتا ہوں انہوں نے کہا کہ حکومت کو بے امنی ٹھیک کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنا پڑے گا وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ کراچی میں امن کے لیے تمام جماعتیں میرا ساتھ دیں گی کراچی کو امن کا گہوارہ بنانے میں سب کا فائدہ ہے سب ہی وہاں امن کے خواہاں ہیں کراچی پرامن ہوگا توآئندہ نسلیں خوشحال ہوں گی کراچی میں امن کے لیے کوئی جماعتیں پسندیدہ یا ناپسندیدہ نہیں سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا مقصد کراچی میں امن لانا ہے قیام امن کے لیے سندھ حکومت ہر طرح کی مدد کرنے کو تیار ہے اگر ملک میں بد امنی ہے تو کوئی سرمایہ کاری نہیں ہوگی اگر سرمایہ کاری نہیں ہوگی توملک کیسے ترقی کرے گا انہو ںنے کہا کہ کراچی کے مسئلے کے حل کے لیے مختلف تجاویز دی جار ہی ہیں کوئی ٹارگیٹڈ آپریشن کا مطالبہ کر رہا ہے تو کوئی فوج بلانے کا قیام امن کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں گے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی سمیت کن مسائل کا سامنا ہے پاکستان کو مسائل سے نکالنے کیلئے سب کو مل کر بیٹھنا ہوگا۔وزیراعظم نواز شریف سے ایم کیو ایم کے رہنما بابر غوری، حیدر عباس رضوی، جماعت اسلامی کے محمد حسین محنتی، سنی تحریک کے ثروت اعجاز قادری، اے این پی کے شاہی سید سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماں نے ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان، وزیر داخلہ چوہدری نثار اور پرویز رشید سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ سیاسی جماعتوں کے رہنماں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں، میرے لئے کوئی جماعت پسندیدہ یا ناپسندیدی نہیں، تمام جماعتیں قابل احترام ہیں۔ سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا مقصد کراچی میں امن لانا ہے، کراچی میں امن کے لئے اتفاق رائے پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی سب سے اہم شہر ہے، اگر ملک میں بدامنی ہو گی تو کوئی سرمایہ کاری نہیں ہو گی، اور اگر سرمایہ کاری نہیں ہو گی تو ملک کیسے ترقی کرے گا۔ کراچی پرامن ہو گا تو آئندہ نسلیں خوشحال ہوں گی۔ نواز شریف نے یقین دلایا کہ امن و امان کے مسئلے کے حل کے لئے کوئی سیاست نہیں کروں گا، قیام امن کے لئے سندھ حکومت کی ہر طرح کی مدد کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی سمیت کئی مسائل کا سامنا ہے۔ کراچی کے حل کے لئے مختلف تجاویز دی جا رہی ہیں، کراچی میں کوئی ٹارگٹڈ آپریشن کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے تو کوئی فوج کو بلانے کا۔ پاکستان کو مسائل سے نکالنے کے لئے سب کو مل کر بیٹھنا ہو گا۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے نیول ہیڈ کوارٹر میں پی این ایس اصلت 22 فریگیٹ کی پاک بحریہ کے بیڑے میں شمولیت کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ جان کرخوشی ہوئی ہے کہ اسالٹ (ASALT )کو مقررہ مدت میں ہی مکمل کر لیا گیا۔ آٹھ سال کے مختصر عرصے میں چاروں جہازوں کو قابل استعمال بنانے کے اس قدر مشکل کام کو سرانجام دینایقینی طور پر قابل تحسین ہے۔میں کراچی اور ہوڈونگ(Hudong) شپ یارڈزکے محنتی انجینیرز اور کارکنوں کو انکی پیشہ ورانہ مہارت اور جان فشانی پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔آپکی مخلصانہ کوششوں نے یہ سب کچھ ممکن بنایا۔ میں وزارت دفاعی پیداوار اور نیول ڈائریکٹریٹ کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنی محنت سے اس پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ میں اس موقع پر چائنا شپ بلڈنگ ٹریڈنگ کمپنی کے تمام کارکنوں اور خاص طور پر اسسٹنٹ پریزیڈنٹ مسٹر وانگ ڈیجی) Dieje (Mr. Wang کا چوتھے فریگیٹ کی پاکستان تعمیر میں دلچسپی لینے اور تمام ممکنہ تعاون فراہم کرنے کے لئے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور چین 1950 سے ایک دوسرے کے ساتھ ایک آزمودہ اور دیرینہ دوستی کے رشتے میں منسلک ہیں۔ پاکستان اس رشتے کو ایک پائدار ،ہمہ جہت اور گہری دوستی کے طور پر اہمیت دیتا ہے جو ہمیشہ ہر امتحان پر پوری اتری ہے۔اس لازوال دوستی کی وسعت اور آپس کے باہمی اعتماد کو چین کے سابقہ وزیر اعظم ہوجن تاؤ نے بلند ترین پہاڑوں سے اونچا اورگہرے ترین سمندروں سے گہرا قرار دیا تھا۔ اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہے کہ چین کے ساتھ دوستانہ تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور ہے۔ پاکستان چین کی تمام شعبوں میں پرعزم امداد اور تعاون کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ کراچی شپ یارڈ پر ٹیکنالوجی ٹرانسفر پروگرام کے تحتF-22P فریگیٹ کی تعمیر دونوں ممالک کے درمیان لازوال دوستی کی بہترین مثال ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون وقت کے ساتھ مزید مضبو ط ہوگا جو خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو تقویت دینے کا باعث بنے گا۔ یہاں پر میں چین کاگوادر بندرگاہ کو بھی ترقی دینے کے لئے تعاون کا اعتراف کرتا ہوں جس کی وجہ سے نہ صرف پاکستان کی میری ٹائم صنعت مضبوط ہوگی بلکہ بلوچستان میں ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ مجھے یقین ہے کہ جب ساحل مہران سے خنجراب تک ریل اور روڈ کی سہولت میسر آجائیگی تو یہ بندرگاہ خطے میں تجارت اور اقتصادی لحاظ سے ایک گیم چینجر(game changer) ثابت ہوگی . انہوں نے کہا کہ پاکستان اہم تہذیبوں اور تجارتی شاہراہوں کے سنگم پر واقع ہے۔ موجودہ حالات میں پاکستان کی جغرافیائی اور اقتصادی اہمیت کے پیش نظر اورخطے بلکہ عالمی امن اور سلامتی کی خاطر سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ اسی خاطر ہم ان عناصر کے خلاف بھر پور طریقے سے بر سر پیکار ہیں جو عالمی امن کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ میں بحیرہ عرب کے عالمی معیشت کے لئے اہم ترین آبی گزرگاہ کی حفاظت کرنے پر پاکستان نیوی کی کوششوں کامعترف ہوں۔ محدود وسائل کے باوجو دعالمی دہشت گردی اور قزاقی کا مقابلہ کرنے پر پاکستان نیوی کی کوششیں قا بل ستا ئش ہیں۔وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کی سٹریٹیجک محل وقوع سے صرف میری ٹائم سیکٹر کو ترقی د ینے اور اسکی حفاظت کے لئے ایک مستعد نیوی کی صورت میں استفادہ کیا جا سکتا ہے جوعالمی تجارت کی حفاظت کے لئے ہمارے ساحلوں پر مصروف عمل رہے۔ حکومت کوپاکستان نیوی اور میری ٹائم سیکٹرکی ضروریات کا بخوبی اندازہ ہے اور انکی صلاحیت کار کو بڑھا نے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائیگی۔انہوں نے کہا جہاز تو صرف دھات کا ایک ڈھانچہ ہو تا ہے لیکن اس کی روح اور دھڑ کن تو اس کا عملہ ہوتا ہے۔وہ افسران اورعملہ جو اس جہاز پر سفر کرینگے ان سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایک crew کی حیثیت سے آپ بہت اہم ہیں کیونکہ آپ اس جہاز کے مستقبل کا لائحہ عمل متعین کرینگے۔سبقت اور برتری آپکی کارکردگی کا معیار ہو نا چاہئے اور مجھے یقین ہے کہ آپ کارگردگی کے ایسے اعلیٰ معیار مقرر کرینگے جو دوسروں کے لئے انشاء اللہ قابل تقلید ہونگے۔ اس عمل میں آپکو اپنے احساس فرض اورپیشرؤوں کے عزم و استقلال سے رہنمائی حاصل کرنی چاہئے۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>