Published On: Wed, Aug 28th, 2013

بلوچستان امن و امان کیس، لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے 2 ہفتے کی مہلت

Supreme-Court-with-flag سپریم کورٹ آف پاکستان نے بلوچستان کے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے دو ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے ایف سی اور سیکورٹی اداروں کو حکم دیاہے کہ وہ لاپتہ افراد کو بازیاب کرا کر عدالت میں پیش کریں ۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ کسی کو غیر قانونی حراست میں رکھنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اگر کوئی ملزم ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ۔ عدالت نے حکم دیا کہ مزید تاخیر کے بغیر لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے ۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ آئندہ سماعت پر ایف سی ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے پیش رفت نظر آنی چاہئے جبکہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ لاپتہ افراد کی گمشدگی میں ایف سی اور دیگر سیکورٹی اداروں کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہین جس گھر سے کوئی بندہ جاتا ہے وہ اں آگ لگی ہوتی ہے لاپتہ افراد کی نعشیں کراچی سے مل رہی ہیں یہ بڑی الارمنگ صورت حال ہے لاپتہ افراد کا مسئلہ بڑا سنجیدہ ہے اس سے ملک کی بڑی بدنامی ہو رہی ہے جبکہ جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا تین سال گزر گئے اب کوئی نتیجہ نکلنا چاہئے اور لوگوں کو ریلیف ملنا چاہئے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس شیخ عظمت سعید پر مشتمل تین رکنی بینچ نے بلوچستان کے لاپتہ افراد اور امن و امان کے کیس کی سماعت کی ۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل شاہ خاور نے بیان دیا کہ آئی جی ایف سی اعجاز شاہد نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سی آئی ڈی کو جو بھی ایف سی اہلکار چاہیں وہ دیئے جائیں گے جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ تین سال بہت ہوتے ہیں اب تو پیش رفت کی ضرورت ہے شاہ خاور کا کہنا تھا کہ بہت جلد لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالہ سے کامیابی ملے گی ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اب ہم کیا امید رکھیں جب تین سال تک کچھ نہیں ہوا ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے آئی جی ایف سی ، آئی جی پولیس ، چیف سیکرٹری سمیت تمام اعلی حکام سنجیدہ ہیں گزشتہ رات اس حوالہ سے سٹیک ہولڈرز کا اجلاس بھی ہوا ہے ۔ اس کی تفصیلات بھی عدالت کو دی جائیں گیں جلد ہی لاپتہ افراد کی بازیابی میں کامیابی حاصل کر لیں گے ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تین سالوں میں کچھ نہیں ہوا اب کیا ہو گا اس موقع پر شاہ خاور کا کہنا تھا کہ پہلے میجر جنرل عبداللہ خٹک آئی جی ایف سی تھے وہ اب تبدیل ہو گئے ہیں اس پر جسٹس جواد خواجہ کا کہنا تھا کہ یہ کوئی بہانہ نہیں کہ کون آئی جی ایف سی ہے ہمیں پیش رفت چاہئے لاپتہ افراد کے کیس میں پیش رفت چاہئے بہت ہو گیا اب لوگوں کو ریلیف ملنا چاہئے شاہ خاور کا کہنا تھا کہ سماعت سے قبل چیف سیکرٹری کی صدارت میں اعلی سطحی اجلاس میں لاپتہ افراد سے متعلق 12 اکتوبر کے عدالتی حکم کا مکمل جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ لاپتہ افراد کے کیسز کا فردا فردا جائزہ لیا جائے چیف جسٹس نے کہا کہ آرڈر یہ تھا کہ آج لاپتہ افراد کو بازیاب کرائیں ۔ جسٹس جواد خواجہ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت لاپتہ افراد کے متعدد کیسز میں تفتیشی ٹیم کو جواب نہیں دیتی چیف جسٹس نے شاہ خاور سے استفسار کیا کہ آج کیا مثبت چیز دے رہے ہیں ۔ جسٹس جواد کا کہنا تھا کہ جہاں معاملہ چھوڑ کر جائین چاہے ایک ماہ بعد واپس آئیں معاملہ وہیں کھڑا ہوتا ہے یقین دہانی تو کتنی اہمیت دیں جب صورت حال تبدیل نہ ہو ۔ شاہ خاور کا کہنا تھا کہ کل جو ہمارا رابطہ ہوا وہ انتہائی اہم ہے یہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جس گھر سے کوئی بندہ جاتا ہے وہاں آگ لگی ہوتی ہے بعض اوقات ہم لوگوں کے لئے آنکھین بند کر لیتے ہیں تاکہ ان کے بچے گھر آ جائیں ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ صوبائی اداروں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے کوئی پیش رفت نہیں کی ان کا کہنا تھا کہ ایف سی کے پاس جتنے بھی لاپتہ افراد ہیں انہیں منظر عام پر لایاجائے ۔ اگر وہ کسی جرم میں ملوث ہیں تو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے ان کو اس طرح لاپتہ کیا جانا قانون کے خلاف ہے قانون سے کوئی بھی بالاتر نہیں ہے چیف جسٹس کا کہنا تھا صوبائی حکومت سے جو امیدیں تھیں وہ پوری ہوتی نظر نہیں آئیں ۔ حکومت ہمارے ساتھ تعاون کرے تاکہ یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ حل ہو اور 75 کے قریب لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایا جائے ایف سی کے پاس پانچ ایسے افراد ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایف سی کے پاس ہیں انہیں بھی منظر عام پر لا کر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کی گمشدگی میں ایف سی اور دیگر سیکورٹی اداروں کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں ان تمام افراد کو فوری بازیاب کرا کر عدالت میں پیش کیا جائے ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ 70 لاپتہ افراد کے کیسز میں ایف سی اور دیگر ایجنسیوں کے خلاف ثبوت موجود ہین ۔ اور ان الزامات سے فورسز کی بھی نیک نامی متاثر ہو رہی ہے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم ڈیڑھ سال قبل جہاں سے چلے تھے وہیں کھڑے ہیں لاپتہ افراد کو بازیاب نہیں کیا جا رہا اور وفاقی حکومت بھی کوئی تعاون نہیں کر رہی چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم کبھی نہیں کہیں گے جس نے مجرمانہ اقدام کیا اس کو چھوڑ دیں ۔ چیف جسٹس نے شاہ خاور سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک تاریخ بتا دیں ہم انتظار کر لیتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ آئی جی ایف سی کی آمد سے ہمیں امید ہو گئی تھی کہ اب کچھ نتیجہ نکلے گا جسٹس جواد کا کہنا تھا کہ سرکاری اداروں کے پاس 506 لوگ ہیں جن کی فہرست فراہم کی گئی ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ بڑا سنجیدہ مسئلہ ہے اس سے ملک کی بڑی بدنامی ہو رہی ہے ۔ لاپتہ افراد کی نعشیں کراچی سے مل رہی ہیں یہ بڑی الارمنگ صورت حال ہے کسی کی کٹی انگلی نہیں ملتی چاہئے یہ تو نعشیں مل رہی ہیں جو بھی شخص کر رہا ہے وہ ملک کی خدمت نہیں بلکہ دشمنی کر رہا ہے چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ معاملہ وفاق کے ساتھ اٹھایا ہے جبکہ کراچی سے نعشیں ملنے پر سندھ حکومت سے بھی بات کی ہے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جرائم میں ملوث لوگ ملک کو بدنام کر رہے ہین جن کے گھر نعشیں جاتی ہین ان سے پوچھیں کیا گزرتی ہے عدالت نے ایف سی ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دو ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کرا کر پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے مزید سماعت دو ہفتوں کے لئے ملتوی کر دی ۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>