Published On: Tue, Aug 27th, 2013

پاکستان، افغانستان تجارتی حجم میں اضافے،معاشی تعلقات کے فروغ کے معاہدے پر دستخط

Pakistan, Afghanistan پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2014 ء میں افغانستان سے امریکی و اتحادی افواج کے پرامن انخلاء کے لئے دوطرفہ تعاون پر اتفاق ہو گیا ہے ۔ افغانستان میں قیام امن ، مفاہمتی عمل و مذاکرات کی کامیابی اور تمام افغان گروپوں میں قومی دھارے میں لانے کے لئے پاکستان سے مزید تعاون مانگ لیا گیا ہے ۔ افغانستان میں قیام امن ، مفاہمتی عمل و مذاکرات کی کامیابی اور تمام افغان گروپوں میں قومی دھارے میں لانے کے لئے پاکستان سے مزید تعاون مانگ لیا گیا ہے ۔ دونوں ممالک نے علاقائی استحکام و ترقی اور مسائل پر ہم آہنگی کے فروغ کے لئے بات چیت اور رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے ۔ پاک افغان تجارتی راہداری کے معاہدے پر پیشرفت پر بھی اتفاق ہوا ہے ۔ پاک افغان تجارتی حجم میں اضافے اور معاشی تعلقات کے فروغ کے معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں ۔ معاہدے کے تحت خاطر خواہ اقدامات کئے جائیں ۔ پیر کو اسلام آباد وزیر اعظم محمد نواز شریف اور افغان صدر حامد کرزئی کے درمیان ون آن ون ملاقات میں ہوا ۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک گھنٹہ سے زائد وقت تک ملاقات جاری رہی ۔ افغان صدر نے پاکستان میں پرامن انتقال اقتدار اور نواز شریف کی جانب سے وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے پر مبارک با د دی ۔ اعلی سطح پر وفود کے درمیان مذاکرات میں تجارت ، معیشت ، مواصلات ، توانائی ، سیکورٹی کے معاملات پر دوطرفہ تعاون کا جائزہ لیا گیا ۔ وفود کی سطح پر مذاکرات میں پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام بھی شریک تھے ۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف اور افغان صدر حامد کرزئی کے درمیان ملاقات میں علاقائی صورت حال امن و سلامتی ، مفاہمتی عمل کی کامیابی کے لئے افغان گروپوں سے مذاکرات اور اس میں پاکستان کے ممکنہ کردار ، سرحدی امور ، افغانستان تعمیر نو ، اتحادی افواج کی افغانستان سے دستبرداری ، پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات افغانستان کے دفاع کو مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا سرکاری ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے افغان صدر کو معاشی تجارتی اقتصادی روابط میں فروغ کے لئے پاکستان کی طرف سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرا دی ۔ افغان صدر کو خطے میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے پاک افغان تجارتی راہداری کے منصوبے سے بھی آگاہ کیا گیا ۔ وزیر اعظم نے واضح کیا کہ پاکستان افغان عوام کی مرضی اور خواہش کے مطابق افغانستان کی تعمیر و ترقی وار اس کی سلامتی کے معاملات میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے وزیر اع٘ظم نے کہا کہ عالمی برادری کو افغانستان کی تعمیر نو کے لئے اپنے وعدوں کی پاسداری کرنا ہو گی ذرائع کے مطابق نواز شریف نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کسی ملک کے معاملات میں دخل اندازی پر یقین نہیں رکھتا ۔ آزاد و خود مختار خارجہ پالیسی کے تحت ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہین عوامی عناصر سے متعلق معاملات میں پیش رفت چاہتے ہیں پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان میں تمام افغان قومی دھارے میں شامل ہوں ۔ حکومتی سطح پر رابطوں کو فروغ ملنا چاہئے افغانستان میں امن و سلامتی کے لئے کوشاں ہے ۔ زرائع کے مطابق ملاقات میں سرحد کے آر پار غیر قانونی کے مداخلت کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی خطے میں امن و سلامتی کے لئے افغان صدر نے پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے افغان صدر نے کہا کہ اپنے برادر اسلامی ملک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں افغان عوام کے لئے پاکستان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے ۔ پاک افغان قیادت کے درمیان ون آن ون ملاقات کے بعد وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے ۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار مشیر خارجہ امور و قومی سلامتی سرتاج عزیز ، معاون خصوصی طارق کاظمی عسکری قیادت اور افغانستان کے خزانہ ، تجارت خارجہ گرینڈ افغان جرگہ کے سربراہ اور دیگر اعلی عہدیدار شریک ہوئے ۔ بعدازاں دونوں اطراف سے وزراء نے معاہدوں اور مفاہمت کی یاداشتوں پھر دستخط کئے ۔ وزیر اعظم نواز شریف افغان صدر حامد کرزئی بھی موجود تھے ۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>