Published On: Sat, Jul 27th, 2013

’پیپلز پارٹی کا بائیکاٹ جمہوری تقاضوں کے منافی‘

cn_nawaz_sharifوزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے صدارتی انتخاب کا بائیکاٹ جمہوری تقاضوں کے منافی قدم ہے۔
پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ انتخاب میں حصہ لے کی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرے۔
وزیراعظم نے جمعہ کو اسلام آباد میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز اور اراکین پارلیمان سے ملاقات میں صدارتی انتخاب پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کے انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ قابل تعریف ہے اور اس سے جمہوریت مزید مستحکم ہو گی۔
اس سے پہلے مسلم لیگ نون کے ترجمان سینیٹر سید مشاہد اللہ خان نے اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی کے صدارتی انتحاب کے بائیکاٹ کے فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قانون اور آئین پارٹی کے چند رہنماؤں کی مرضی سے نہیں چلے گا۔
نجی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے کوئی غیر معقول بات اور دھونس دھاندلی نہیں کی ہے۔
’پہلے ہم الیکشن کمیشن کے پاس گئے اور ہماری درخواست مسترد ہو گئی، اس کے بعد ہم سپریم کورٹ میں گئے اور اگر پیپلز پارٹی کو فیصلہ پسند نہیں آیا تو وہ بھی سپریم کورٹ چلی جاتی اور وہاں بات تو کرتی، آپ کیا چاہتے ہیں یعنی کہ آئین اور قانون اعتزاز احسن اور رضا ربانی کی مرضی سے تو نہیں چلے گا‘۔
دوسری جانب تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ تحریکِ انصاف صدارتی انتخاب میں حصہ لے گی۔
انھوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’ہمیں عدالت کے رویے سے شکایت ہے۔ ہم نے عدلیہ کی بحالی کے لیے دو لانگ مارچ کیے، میں خود جیل گیا، لیکن اسی عدلیہ کی نگرانی میں ہونے والے انتخابات میں تاریخ کی بدترین دھاندلی ہوئی۔ لیکن اس کے باوجود ہم ن لیگ کو کھلا میدان نہیں دے سکتے، اس لیے تحریکِ انصاف نے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
عمران خان نے اس موقعے پر تحریکِ انصاف کے صدارتی امیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین احمد کے بارے میں کہا کہ ہمارے صدارتی امیدوار کا ماضی بے داغ ہے۔ انھوں نے کہا کہ جسٹس وجیہ الدین نے مشرف کا پی سی او قبول کرنے کی بجائے استعفیٰ دے دیا تھا۔
تحریک انصاف کے رہنما اور صدارتی امیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین کے مطابق ان کی جماعت صدارتی انتخابات میں بھر پور انداز میں حصہ لے گی اور میدان نہیں چھوڑے گی۔
انھوں نے پیپلز پارٹی کے فیصلے پر کہا کہ ’بائیکاٹ مسائل کا حل نہیں ہے اور ہم نے دیکھا ہے کہ انتخابی عمل کا بائیکاٹ اکثر فائدہ مند سے زیادہ نقصان دہ ہی ثابت ہوتا ہے‘۔
جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین نے نجی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی صدارتی انتخاب میں تحریک انصاف کے امیدوار کی حمایت کرنے کی بجائے خاموش بیٹھ جاتی ہے تو اسے بھی ماضی میں مسلم لیگ نون کی طرح ایک غیر فعال یا فرینڈلی اپوزیشن کہا جائے گا۔
’یہ معاملہ بہت اہمیت کا حامل ہے اور پیپلز پارٹی کو ہم سے بات چیت کرنی چاہیے اور اس سلسلے میں ایک مشترکہ لائحہ عمل وضع کرنا چاہیے‘۔

پیپلز پارٹی کے فیصلے پر جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مایوسی ظاہر کی ہے۔ ان کے ترجمان کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگرچہ انتخاب سے باہر ہونا پیپلز پارٹی کا حق تھا لیکن انہیں اس فیصلے پر مایوسی ہوئی ہے۔
ترجمان جان اچکزئی کی جانب سے میڈیا کو جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق’ پیپلز پارٹی کا فیصلہ مایوس کن ہے اور انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔عدالت عظمیٰ کی جانب سے بہت سے فیصلوں کے بارے میں ہمیں بھی تحفظات رہے ہیں لیکن پیپلز پارٹی کا فیصلہ تناسب کے اعتبار سے سخت ردعمل ہے۔‘
جماعت اسلامی کے مطابق پیپلز پارٹی کو حزبِ اختلاف کی تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر یہ فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔
جماعت اسلامی کے امیر منور حسن کے مطابق اکیلے فیصلہ کرنے سے ویسے ہی فیصلے کی کمزوری واضح ہو جاتی ہے۔

(بی بی سی نیو ز)

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>