Published On: Tue, Jun 11th, 2013

ججز کیس میں پرویز مشرف کی ضمانت منظور

musharrafاسلام آباد ہائی کورٹ نے اعلی عدلیہ کے ججوں کو حبس بےجا میں رکھنے کے مقدمے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی ضمانت سے متعلق درخواست پر فیصلہ سُناتے ہوئے اُن کی ضمانت کی درخواست منظور کرلی ہے اور اُنہیں پانچ لاکھ کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔
اس مقدمے میں سرکاری وکیل کا کہنا ہے کہ وہ عدالت میں ملزم کی ضمانت کی درخواست کی مخالفت کے لیے نہیں بلکہ اس مقدمے میں عدالت کی معاونت کرنے کے لیے آئے ہیں۔

یاد رہے کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے تین نومبر 2007 میں ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو اُن کے اہلخانہ سمیت گھروں میں نظر بند کردیا تھا۔ نظر بندی کے دوران اعلیٰ عدلیہ کے کچھ ججوں نے غیر آئینی قرار دیے جانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے ساتھ کام کرنا شروع کردیا تھا، جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد چیف جسٹس سمیت باقی چند ججوں کی نظر بندی ختم کردی تھی۔

جسٹس محمد ریاض کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سابق فوجی صدر کی ضمانت کی درخواست کی سماعت کی۔ اس مقدمے کے تفتیشی افسر مبارک علی نے مقدمے کا نامکمل چالان عدالت میں پیش کیا جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں تفتیشی افسر اس مقدمے میں دلچسپی نہیں لے رہے۔

عدالت میں پیش کیے گئے نامکمل چالان میں صرف وکلا کے بیانات کو شامل کیا گیا ہے جس میں اُنہوں نے کہا کہ تین نومبر 2007 میں ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اُنہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ اس کے علاوہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد شائع ہونے والی خبروں کو بھی مقدمے کے چالان کا حصہ بنایا گیا تھا۔

عدالت نے تفتیشی افسر کو ایمرجنسی کے نفاذ کی خبر دینے والے رپورٹر اور ججز کالونی میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی تصاویر شائع کرنے والے فوٹو گرافر کے بیانات ریکارڈ کرنے کے علاوہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے اہلخانہ کے بیانات ریکارڈ کرنے کا حکم دے رکھا تھا۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>