Published On: Sat, Jun 8th, 2013

ڈرون حملے پر نواز دورِ حکومت کا امریکہ سے پہلا احتجاج

130529124847_drone_us_304x171_ap_nocreditبی بی سی نیوز: پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کی ہدایت پر امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور رچرڈ ہوگلینڈ کو دفتر خارجہ طلب کر کے ڈرون حملے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو ڈرون حملوں کے بارے میں اپنی حکمت عملی بدلنا ہو گی۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے سنیچر کو جاری ہونے والی پریس ریلز کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کی ہدایت پر ان کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور رچرڈ ہوگلینڈ کو دفتر خارجہ طلب کر کے جمعے کو شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق اس موقع پر امریکی ناظم الامور سے کہا گیا ہے کہ امریکہ کو ڈرونز کے بارے میں اپنی حکمت عملی بدلنا ہو گی۔

’رچرڈ ہوگلینڈ پر واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کی حکومت ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتی ہے اور یہ ملکی سالمیت اور خود مختاری کے خلاف ہیں۔ڈرون حملے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات پر بھی منفی اثرات ڈال رہے ہیں اور خطے میں استحکام کے لیے امریکہ کو پاکستان میں ڈرون حملے بند کرنا ہوں گے۔‘

پاکستان میں وفاق میں حمکراں جماعت مسلم لیگ ن اور قبائلی علاقوں سے متصل صوبہ خیبر پختونخوا میں حمکراں جماعت کا امریکی ڈرون حملوں کے بارے میں موقف سخت ہے۔

جمعے کو وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں 7 افراد ہلاک ہو گئے۔

واضح رہے کہ میاں نواز شریف کے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ پہلا ڈرون حملہ ہے۔ نومنتخب وزیراعظم پاکستان نے ایوانِ زیریں سے اپنے اولین خطاب میں امریکی ڈرون حملے بند کیے جانے کا مطالبہ دہرایا تھا۔

قومی اسمبلی میں بطور وزیراعظم انتخاب کے بعد تقریر کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ’ہم دوسروں کی خود مختاری کا احترام کرتے ہیں تو دوسرے بھی ہماری خود مختاری کا احترام کریں اور ڈرون حملوں کا باب اب بند ہو جانا چاہیے۔‘

اس کے جواب میں امریکی دفترِ خارجہ کی ترجمان جینیفر ساکی نے میاں نواز شریف کو وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی مگر ان کی جانب سے ڈرون حملے بند کرنے کے مطالبے پر محض اتنا کہا گیا تھا کہ’اس کے لیے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے سلسلے میں اپنی سرزمین پر خود ہی دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنے کی استعداد بڑھانے کے لیے اپنے دوست ملکوں کے ساتھ مل کر کام کریں۔‘

اس سے قبل ملک میں انتخابات میں نواز شریف کی جماعت کی کامیابی کے بعد بھی انتیس مئی کو بھی شمالی وزیرستان میں ہی ایک ڈرون حملہ ہوا تھا جس میں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے نائب امیر ولی الرحمان مارے گئے تھے۔

اس ڈرون حملے پر بھی نواز شریف کی جانب سے ایک جاری کیے گئے بیان میں ان حملوں کو بند کیے جانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

حکومتِ پاکستان کا مستقل موقف یہی ہے کہ ڈرون حملوں کے نقصانات ان سے حاصل ہونے والے فوائد سے کہیں زیادہ ہیں اور جہاں ان حملوں میں معصوم شہری ہلاک ہوتے ہیں وہیں یہ ملکی سالمیت کے اصولوں اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

پاکستان ماضی میں بھی ڈرون حملوں کے خلاف شدید احتجاج کرتا رہا ہے اور ڈرون حملوں کے خلاف ملک بھر میں مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے احتجاجی مظاہرے بھی کیے ہیں۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>