Published On: Fri, Sep 13th, 2013

پاکستان نے ڈرون حملوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کیلئے تیاری شروع کردی

download.ترجمان دفترخارجہ اعزاز احمدچوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان نے ڈرون حملوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کیلئے باقاعدہ تیاری شروع کردی ہے۔ پاکستانی قید سے طالبان قیدیوں کی رہائی کا مقصد افغان مفاہمتی عمل میں تعاون کرنا ہے، پاک بھارت وزائے اعظم کی ملاقات نیویارک میں ہوگی، وزیراعظم محمدنوازشریف 16سے18 ستمبر تک ترکی کا دورہ کرینگے، شام کے بحران کا حل مذاکرات کے ذریعے سیاسی طریقے سے ڈھونڈنا چاہیے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز اپنی ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ پاکستان نے افغان مفاہمتی عمل میں تعاون کا وعدہ کیا تھا اسی حوالے سے افغان اعلیٰ امن جرگے کے کہنے پر طالبان قیدیوں کی رہائی عمل میں آئی ہے اور اسی جذبے کے تحت ملا برادرز سمیت7 افغان قیدیوں کو چند دنوں میں رہا کیا جائیگا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ آج 13 ستمبر کو مشیر خارجہ سرتاج عزیز اپنے بھارتی ہم منصب سے ملاقات کرینگے۔انہوں نے کہاکہ افغان طالبان کو رہا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ قیدی افغان مفاہمتی عمل کا حصہ بن کر اسے آگے بڑھائیں۔ ایک سوال پر اعزاز احمد چوہدری نے کہاکہ پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات نیویارک میں ہوگی۔ اس حوالے سے ملاقات کی تاریخ طے کرنے کیلئے دونوں ممالک کے حکام باہمی رابطے میں ہیں۔ اس ملاقات سے دوطرفہ تنازعات حل کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ ملاقات پاکستان اور بھارت کے مفاد میں ہے۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اورافغانستان کے درمیان مختلف سطح پر روابط موجود ہیں۔ اس کا مقصد افغانستان میں امن واستحکام لانا ہے اسی کوشش کے تحت دونوں ممالک کی پارلیمانی دفاعی کمیٹیوں کے مذاکرات ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم محمدنوازشریف16 سے18 ستمبر تک ترکی کا دورہ کرینگے اور ترک قیادت سے ملاقاتیں کرینگے۔ دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان معیشت ،تجارت، توانائی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ شام کے بحران پر پاکستان کا موقف اصولی ہے۔ ہم شام میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہیں شام کے بحران کا حل مذاکرات کے ذریعے سے سیاسی طریقے سے نکالا جائے۔ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے اقوام متحدہ کی رپورٹ کا انتظار ہے۔ فریقین میں سے کسی بھی کیمیائی ہتھیار استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔ شام کے خلاف کوئی بھی ایکشن اقوام متحدہ کے قوانین کے تحت ہونا چاہیے۔ شام میں پاکستانی سفارتخانہ مکمل طورپر کام کررہا ہے ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ افغان امن ومفاہمت کے عمل میں پاکستان مداخلت نہیں کرے گایہ عمل افغان حکومت کی سربراہی میں ہونا چاہیے ہم صرف اس عمل میں معاونت فراہم کرینگے۔ پاکستان نے 26 افغان طالبان قیدی رہا کردیئے ہیں جبکہ مزید 7 قیدی ملا برادر سمیت جلد رہا کردیئے جائینگے۔ ایک سوال پر ترجمان نے کہاکہ آل پارٹیز کانفرنس میں ڈرون حملوں کا مسئلہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کی تجویز آئی ہے۔ وفاقی حکومت نے یہ تجویز وزارت خارجہ کو بھیجی ہے تاکہ اس کا جائزہ لیا جاسکے۔ وزارت خارجہ نے فوری طورپر جنیوا اور نیویارک میں اپنے سفارتخانوں کو الرٹ کردیا ہے اور اس حوالے سے کام شروع کردیاگیا ہے ہم یقیناً اس تجویز پر عمل درآمد کرینگے۔ ڈرون حملوں کے حوالے سے ہمارا اصولی موقف ہے کہ یہ حملے بین الاقوامی قوانین اور پاکستانی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں۔ یہ حملے غیرمفید ہیں، دنیا بھر میں ہمارے موقف کو سراہا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ڈرون حملوں کے حوالے سے کوئی معاہدہ موجود نہیںہے اور نہ ہی مفاہمت ہے ایک سوال پر ان کاکہنا تھا کہ گوانتاناموبے جیل سمیت دنیا بھر میں قید پاکستانی شہریوں کی رہائی ہماری اولین ترجیح ہے اور اس کیلئے ہم متعلقہ حکومتوں سے رابطے میں ہیں۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>