Published On: Sat, Aug 31st, 2013

قبائلی علاقے کے صرف ایک ضلع میں 16 بچوں میں پولیو وائرس کی دریافت

polio-dropsعسکریت پسندوں کی جانب سے پولیو مہم پر پابندی کے بعد قبائلی علاقے کے صرف ایک ضلع میں 16 بچوں میں پولیو وائرس کی دریافت کے بعد پولیو کی وبا پھوٹ پڑنے کا نیا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔پاکستان میں طبی حکام نے خبردار کیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں پولیو کی بیماری پھیل سکتی ہے۔ ان کا یہ
انتباہ ایک قبائلی ضلعے میں 16بچوں میں اس مرض کی تشخیص کے بعد سامنے آیا ہے۔ افغانستان کی سرحد سے ملحق پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیر ستان میں محکمہ صحت کے اعلی اہلکار ڈاکٹر خیال میر جان نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ہزاروں بچے پولیو کے شکار بن سکتے ہیں۔جان کا کہنا تھا: طالبان کی جانب سے پابندی کے اعلان کے بعد سے 16بچوں میں پولیو کا وائرس پایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مزید 42 بچوں میں یہ وائرس پائے جانے کا خدشہ ہے جن کے طبی ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار ہے۔ طبی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ بیماری متعدی بن سکتی ہے اور پولیو مہم فوری طور پر شروع نہ کی گئی تو یہ بیماری قریبی ضلعوں میں بھی پھیل سکتی ہے۔جان کا مزید کہنا تھا: ہر روز ہمارے پاس پولیو کے شکار بچے لائے جا رہے ہیں۔ ہمیں پولیو کے خلاف مہم شروع کرنی ہو گی بصورتِ دیگر یہ متعدی مرض بن رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بیشتر متاثرہ بچوں کی عمریں پانچ برس سے کم ہیں۔ ڈاکٹر جان نے بتایا کہ ان میں سے نو بچوں کا تعلق میر علی کے علاقے سے ہے جبکہ سات کا میرانشاہ سے۔ پاکستان میں پولیو کے قطرے پلانے والے طبی کارکنوں پر حملے بھی ہو چکے ہیں وزیرستان میں ایک مقامی جنگی سردار حافظ گل بہادر نے جون 2012 میں پولیو کے قطرے پلانے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس نے الزام لگایا تھا کہ پولیو مہم کی آڑ میں جاسوسی کی جاتی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ جب تک امریکا قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے بند نہیں کر دیتا، پولیو مہم پر عائد پابندی برقرار رہے گی۔ بہادر افغان طالبان کا اتحادی ہے۔قبائلی انتظامیہ کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ پولیو مہم شروع کرنے کے لیے شدت پسند گروہوں سے بات کرنے اور مذہبی اسکالروں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس پابندی کی وجہ سے شمالی اور جنوبی وزیر ستان میں دو لاکھ 40 ہزار بچے پولیو کے خطرے میں ہیں۔پاکستان کا شمار ایسے تین ملکوں میں ہوتا ہے جہاں پولیو کے مرض کا خاتمہ ممکن نہیں ہو سکا۔ پاکستان میں 2005 میں پولیو کے 28 کیس سامنے آئے تھے جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد تقریبا 200 ہو گئی تھی۔آفیشلز کے مطابق جنوبی اور شمالی وزیرستان میں طالبان کی پابندیوں کی وجہ سے 240,000 بچے خطرے میں ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے آفیشل کے مطابق شمالی وزیرستان میں پولیو کے متعدد کیس سامنے آئے ہیں جبکہ بچوں میں معذوری بھی سامنے آئی ہے لیکن ہم اب تک (ٹیسٹ کے) نتائج کا انتظار کررہے ہیں کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ وہ کس وائرس سے اپاہج ہوئے ہیں۔آفیشلز کے مطابق جنوبی اور شمالی وزیرستان میں طالبان کی پابندیوں کی وجہ سے 240,000 بچے خطرے میں ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے آفیشل کے مطابق شمالی وزیرستان میں پولیو کے متعدد کیس سامنے آئے ہیں جبکہ بچوں میں معذوری بھی سامنے آئی ہے لیکن ہم اب تک( ٹیسٹ کے) نتائج کا انتظار کررہے ہیں کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ وہ کس وائرس سے اپاہج ہوئے ہیں۔۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>