Published On: Tue, Jul 30th, 2013

اینگرو وپیک کی ایل این جی درآمد پرحکومت کیساتھ مذاکرات کی تردید

engro-640x330کراچی: پورٹ قاسم پر ایل این جی ٹرمینل تعمیر کرنے والی کمپنی اینگرو وپیک نے ایل این جی کی درآمد کے لیے حکومت کے ساتھ مذاکرات اور اربوں ڈالر کی ایل این جی کی درآمد کے لیے معاہدے کی اطلاعات کو غلط قرار دے دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق اول تو یہ کہ یہ ایل این جی حکومت پاکستان نے خریدنا ہے ، اینگرو ووپیک ٹرمنل نے نہیں۔تجویز یہ ہے کہ اینگرو ووپیک ٹرمنل اپنے موجودہ ٹرمنل پر جو کہ پورٹ قاسم پر واقع ہے اور آپریشنل ہے ، اس ایل این جی کو آف لوڈ کروائے گا اور اسے دوبارہ گیس کی شکل میں لایا جائے گا۔اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ ٹرمنل کے استعمال کی لاگت آر ایل این جی کی قیمت کی کسر ہوتی ہے۔نہ تو کسی قسم کے مذاکرات ہوئے اور نہ ہی اینگرو ووپیک سے کوئی معاہدہ ہوا؛ نہ ہی اینگرو کارپوریشن حکومت کے ساتھ کسی قسم کے کسی معاہدے میں شریک ہے۔ اینگرو کارپوریشن اور اس کے ذیلی اداروں کا ایک بے حد مضبوط کارپوریٹ ڈھانچہ ہے ، جس کے تحت کاروبار کے بین الاقوامی معیارات کے مطابق اخلاقیات کی پاسداری کی جاتی ہے اور قوانین کا احترام کیا جاتا ے۔اس سے ہٹ کر کوئی بھی عمل اور خلاف قانون گردانا جاتا ہے۔ دوم یہ کہ حکومت پاکستان فاسٹ ٹریک ایل این جی لانے کی نیت رکھتی ہے ، جس کے لئے ایک ٹرمنل کی خدمات کے حصول کے لئے ٹینڈر دئیے جا رہے ہیں۔فاسٹ ٹریک کو محدود مقدار میں توانائی کی قومی ضرورت کو فوری طور پر پورا کرنے کے لئے درآمد کیا جائے گا ۔ اینگرو ووپیک پاکستان میں واحد کمپنی ہے جس کے پاس مختصر ترین وقت میں آر ایل این جیکو آف لوڈ کرنے کے لئے بنیادی ڈھانچہ، اضافی گنجائش، افرادی قوت اور صلاحیتیں اور ما حولیاتی اور ریگولیٹری اجازت موجود ہے۔اگر کسی اور ادارے کے پاس یہ سہولت دستیاب ہے تو اسے اس کا اعلان کرنا اور وزارت پٹرولیم اور قدرتی وسائل سے رابطہ کرنا چاہیے۔حکومت نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ پی پی آر ایکے قوانین کا بغور جائزہ لے گی اور اگر یہ قوانین اجازت دیتے ہیں تو اینگرو سے براہ راست مذاکرات کئے جائیں گے ورنہ نہیں۔اینگرو ووپیک ٹرمنل اس خیال سے متفق ہے اور خود بھی یقین دلاتا ہے کہ پی پی آر ایکے قوانین کی پاسداری اور حکومت کے ساتھ کئے جانے والے تمام معاہدوں میں شفاف انداز میں کام کرے گی۔ تیسرے یہ کہ اس امر پر توجہ دینا ضروری ہے کہ اینگرو ووپیک ٹرمنل ایل پی جی اور کرائیوجینک ایتھلین کی بحفاظت ہینڈلنگ کو یقینی بناتا ہے جس کے لئے اینگرو ووپیک ٹرمنل کے پاس مناسب طریقہ اور سسٹم موجود ہے۔اینگرو ووپیک ٹرمنل جو صحت اور انسانی اور ماحولیاتی تحفظ کو اہمیت دیتا ہے اور بین الاقوامی معیار کا خیال رکھتا ہے، نے پہلے ہی کوانٹیٹیٹو رسک انیلیسز( کیو آراے) اور پورٹ قاسم چینل کی کمپیوٹر سیمیولیشن چینل اور انوائرنمنٹ اسٹڈی (ای ایس آئی اے) مکمل کروا لیا ہے جسکے بعد سندھ انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) کی جانب سے این او سی جاری کر دیا گیا ہے۔مزید یہ کہ ووپیک ایسوسی ایشن کی مدد سے اینگرو ووپیک ٹرمنل کے پاس روٹرڈیم اور میکسیکو میں دو ایل این جی ٹرمینلز کا اضافی تجربہ بھی ہے۔مزید یہ کہ پورٹ قاسم کے پاس صلاحیت اور اسی سائز اور اس سے بڑے اسی حجم کے ویسلز کو بحفاظت ہینڈل کرنے کا FOTCOاور QICTمیں کئی سال کا آپریشنل تجربہ ہے۔پورٹ قاسم اتھارٹی نے اینگرو ووپیک ٹرمنل پر فلوٹنگ اسٹوریج اور ری گیسیفیکیشن ویسل کی آف لوڈنگ کی اجازت دے دی ہے۔ یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ ایسکوبار ارجنٹینا اور ساؤتھ ہیون UKمیں ایل این جی کے سیف پیسیج اینگرو ووپیک ٹرمنل کے مقابلے میں 50%چھوٹے ہیں۔ PQAاور MP&NR کی انتظامیہ نے ان ٹرمنلز کا دورہ کیا ہے۔چوتھے یہ کہ اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ ایل این جی کی منظوری ای سی سی نے گزشتہ برس MP&NR اور ایس ایس جی سی کے مابین بات چیت کے بعد دی تھی۔جس کے بعد سوئی سدرن نے دسمبر 2012میں ای او آئی جاری کیا جسکا جواب دینے والی اینگرو ووپیک واحد کارپوریشن تھی۔اکتوبر 2012میں ای سی سی کی منظوری کے باوجود ابھی تک ایس ایس جی سی نے اس ضمن میں کوئی پیش رفت نہیں کی ہے۔یہ موجودہ حکومت کو کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے اس مسئلے پرسنجیدہ اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ملک میں توانائی کے حصول کے لیے متعدد حل فراہم کیے جا سکیں۔ چونکہ پاکستان مسلسل توانائی کے بحران کے خاتمے کے لیے حل تلاش کر رہا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر ملک میں مائع قدرتی گیس درآمد کی جائے تاکہ توانائی کے اس بحران سے نمٹا جا سکے اور بجلی کی پیداوار ، ٹیکسٹائل انڈسٹری اور سی این جی سیکٹر کے لیے اس گیس کو استعمال کیا جا سکے۔بطور کمپنی ہم مسلسل بہترین خدمات اور شفاف اور اخلاقی انداز میں اپنی پیشہ ورانہ مہارتوں کی فراہمی کے لیے کوشاں رہتے ہیں تاکہ پاکستان کے شہریوں کی ایمانداری سے خدمت کی جا سکے۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>