Published On: Sat, Jul 20th, 2013

اوپیک سربراہ کی امریکی سفیر کیساتھ کراچی اسٹاک ایکسچینج آمد

KSE-Stock-640x330 (1)کراچی: صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر یوایس اوورسیزپرائیویٹ انویسٹمنٹ کارپوریشن (اوپی آئی سی) ایلزبتھ ایل لٹل فیلڈ نے جمعرات کو کراچی اسٹاک ایکسچینج کا دورہ کیا اور ٹریڈنگ سیشن کے آغاز کے لیے گونگ بجایا۔ اس موقع پر امریکی سفیر رچرڈ اولسن اور کراچی میں تعینات قونصل جنرل مائیکل ڈوڈمین بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ایلزبتھ ایل لٹل فیلڈ نے کہاکہ پائیدار اقتصادی نمو اور ملازمتوں کی فراہمی کے لیے پرائیوٹ کیپٹل انویسٹمنٹ ایک طاقت ور محرک ہے۔ انھوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اس نجی کیپٹل سرمایہ کاری سے امریکی اور پاکستانی کمپنیوں کے درمیان شراکت قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ اوپیک چیف نے آغاخان یونیورسٹی کے ساتھ آغاخان اسپتال ومیڈیکل کالج کی توسیع کے حوالے سے شراکت کی جانب اشارہ کیا اور زراعت، تعلیم، ٹرانسپورٹیشن، مائیکروفنانس، روڈ ٹرانسپورٹ جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی بات چیت کی۔انھوں نے حکومت کی جانب سے سرمایہ کاری کے تحفظ اور سازگار کاروباری ماحول کی فراہمی کے اشارے دینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اوپی آئی سی ہم خیال مشن کے لیے شراکت دار تلاش کررہی ہے جس سے پاکستانی عوام کی فلاح پر توجہ دی جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ کئی پارٹنرانویسٹرز کی جلد کراچی اسٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ ہوگی۔ انھوں نے توانائی، تعلیم، ہیلتھ کیئر، انفرااسٹرکچر، کمیونی کیشن، مالیاتی خدمات اور دلچسپی کے دیگر شعبوں کے حوالے سے بھی بات چیت کی۔ اس موقع پر امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے کہا کہ کراچی پاکستان کا اقتصادی وتجارتی مرکز ہے، پاکستان میں صنعت وتجارت کا فروغ امریکا کی ترجیح ہے۔ انھوں نے کہاکہ اوپیک چیف کے دورہ پاکستان نے دبئی میں حال ہی میں منعقد ہونے والی یوایس پاکستان بزنس اپرچیونیٹی کانفرنس کی کامیابی کو وسعت دی ہے۔ انھوں نے پاک امریکا باہمی تعلقات میں ’’امداد نہیںتجارت‘‘ کے پہلو پربھی بات کی۔ قبل ازیں منیجنگ ڈائریکٹر کے ایس ای ندیم نقوی نے اپنے استقبالیہ خطبے میں کہا کہ اوپیک چیف کی موجودگی پاکستان کی نجی شعبے کے ذریعے ترقی کی بحالی کا ثبوت ہے، نجی شعبہ روزگار، آمدنی اور ترقی کا انجن ہے۔ بعدازاں اوورسیزپرائیویٹ انویسٹمنٹ کارپوریشن کی سربراہ نے کے ایس ای کی اعلیٰ انتظامیہ کے ساتھ اجلاس میں شرکت کی۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>