Published On: Sat, Sep 14th, 2013

عورت کی خوب صورتی

01عورت کی خوب صورتی کا اندازہ اس کے جما لیاتی حسن سے لگایا جاتا ہے، جو اس کے سر سے لے کر پاﺅں تک
پھیلا ہوا ہے، اس جمالیاتی حسن میں کمر کی خوبصورتی کا بہت زیادہ حصہ ہوتا ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کمر اوپری اور نچلے حصے کے درمیان واقع ہوتی ہے اور ان دونوں حصوں کی خوب
صورتی میں اس وقت بھر پور انداز میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے جب یہ خود اپنی خوبصورتی شیپ میں ہو۔ کمر پتلی اور شیپ میں ہو تو نہ صرف خوبصورتی لگتی ہے بلکہ حاملہ خواتین بھی خود کو سبک محسوس کرتی ہیں، موٹی کمر کی حامل خاتون کو چلنے پھرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ دیر تک کھڑی بھی نہیں رہ سکتی ہے۔

جہاں کہیں بھی عورت کی خوبصورتی کی بات آتی ہے تو اس کی کمر کو تمام باتوں پر فوقیت دیتے ہیں کمر کی خوبصورتی بیرون ملک کے میگزین میں دیکھی جا سکتی ہے۔ ان ممالک میں لڑکیاں اور خواتین خصوصی ورزش کرتی ہیں، تاکہ ان کی کمر شیپ میں رہے۔ شعراءکرم نے بھی اپنی شاعری میں عورت کے جسم اور چہرے کی خوبصورتی پر اشعار کہنے کے ساتھ ساتھ کمر کی شان میں بھی قصید ہے کہے ہیں اس سلسلے میں بعض شعراءنے اپنے تخیلات کا ضرورت سے زیادہ استعمال کیا اور مبالغہ آرائی کی حد تک چلے گئے۔

پسلی اور ناف کے درمیان جو حصہ ہوتا ہے۔ اسے کمر کہتے ہیں جب لڑکی جوان ہوتی ہے تو کمر سے اوپر نیچے کا حصہ پھیل جاتا ہے اور کمر سکڑ کر چھوٹی ہو جاتی ہے۔ کمر کی خوبصورتی اور پتلا پن پورے جسم کے حسن کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اور اسے ہی مدنظر رکھ کر جسم کے دیگر حصوں کی کشش کا تعین کیا جاتا ہے۔
خوبصورت کمر کی حامل ہونے کیلئے آپ کیلئے ضروری ہے کہ آپ پیٹ اور کولہوں پر گوشت کی زیادتی نہ ہونے دیں، کیونکہ یہ بتدریج پوری کمر کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، اور کمر اور کولہے میں فرق نہیں رہتا ہے۔ ایسا عام طور پر کھانے پینے میں بے اعتدالی کا مظاہرہ کرنے سے ہوتا ہے، اس لئے اپنی غذا پر نظر رکھیں اور میٹھی اشیاءاور مرغن غذا سے بچیں۔ اپنے موٹاپے سے جان چھڑانے کیلئے غیر فطری طریقہ ہرگز ہرگز نہ استعمال کریں ان طریقوں سے آپ کی صحت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے ایسے طریقے مغرب میں استعمال کئے گئے اور نتیجے میں بے شمار خواتین کی صحت خراب ہو گئی۔

پتلی کمر کے حصول کیلئے مختلف قسم کے بیلٹ ایجاد کئے گئے ہیں اور اسی طرح کے بے شمار آلات تیار کئے گئے تاکہ کمر کے آس پاس چربی کو جمع ہونے سے روکا جا سکے۔ خواتین کو ان آلات کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ ان سے انہیں بے انتہا فائدہ پہنچا ہے ان کی وجہ سے ان کی کمر اپنی شیپ میں رہتی ہے، اور جسم کا اوپری اور نچلا حصہ اپنے قدرتی اور بھر پور تصور میں نظر آتا ہے۔

ایک صحت کے ماہر کے مطابق تیرا کی، دور تک دوڑ لگانا کے علاوہ گھریلو کاموں سے بھی ورزش کا پہلو نکالا جا سکتا ہے۔ مثلاً چکی پیسنا، کنویں سے پانی نکالنا اور وہاں سے گھر تک لانا وغیرہ کمر کو پتلی بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ طب میں کہا گیا ہے کہ اگر دودھ میں جلیبی ڈال کر کھائی جائے تو اس سے بھی کمر سلم ہو جاتی ہے۔ پپیتا کا کثرت سے استعمال کرنے سے بھی کمر پتلی ہو جاتی ہے۔

یہاں یہ بات نوٹ کریں کہ سوتے وقت چار انچ اونچائی کا تکیہ استعمال کریں جو نرم بھی ہو۔ میٹریس اسی وقت استعمال کریں جب بستر سخت ہو یعنی گدے دار نہ ہو۔ پیٹھ کے بل فرش پر بیٹھ جائیں اور دونوں ٹانگیں سیدھی کر لیں اب دونوں ہاتھوں کو کولہے کے نیچے لے جائیں۔ (ہتھیلی فرش کی طرف ہو) اب اپنی ٹانگیں اوپرکو اٹھا کر سامنے کی طرف لائیں اور پاﺅں کے انگوٹھے سے پیشانی چھونے کی کوشش کریں۔ چند سیکنڈ تک اسی حالت میں رہنے کے بعد اپنی ٹانگیں اصل پوزیشن پر لے آئیں اس عمل کو پانچ بار کریں۔ یہ ورزش آپ ابتداءمیں پورے طور پر نہیں کر سکیں گی اس لئے بتدریج اپنے پاﺅں کے انگوٹھے اور ماتھے کے درمیان فاصلہ کم کریں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کریں۔

پیٹھ کے بل فرش پر لیٹ جائیں اپنے ہاتھ سر کے نیچے لے جائیں اور دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پھنسا لیں۔ اب ٹانگوں کو فضا میں اٹھا کر اس طرح حرکت دیں جیسے آپ سائیکل چلا رہی ہوں۔ دو میٹر لمبی چھڑی لیں اور اسے کاندھے پر اس طرخ رکھیں کہ چھڑی کا درمیانی حصہ کاندھے پر ٹکے، اب چھڑی کے دونوں کناروں سے ہاتھوں کو پھنسائیں اور جس قدر ممکن ہو خود کو ٹیڑھا کرنے کی کوشش کریں۔ اب سیدھی ہو جایں اور اسی انداز میں اپنے آپ کو آگے کی طرف جھکائیں۔ واپس سیدھی پوزیشن پر آجائیں۔ اور ایک بار پھر پیچھے کی طرف مڑیں یہ عمل کم از کم پانچ بار کریں۔

سیدھی فرش پر لیٹ جائیں۔ ٹانگوں کو پھیلا لیں پھر انہیں اوپر اٹھائیں اور دونوں ہاتھوں کو پھیلائیں اور انگلیوں کی مدد سے پاﺅں کو چھونے کی کوشش کریں۔ اس ورزش میں آپ کے جسم کا سارا وزن آپ کی کمر پر پڑتا ہے۔ اس ورزش کو پانچ بار کریں۔

۔ سیدھی کھڑے ہو جائیں، ہاتھوں کو سر سے اوپر اٹھا کر ہتھیلیوں کو آپس میں ملا لیں، اسی حالت میں کمر کے بال دائیں جانب مڑیں اور گہری گہری سانس لیں اپنی پوزیشن پر واپس آکر یہی عمل بائیں جانب کریں اس ورزش کو بھی پانچ بار کریں۔ اس طرح کھڑی ہوں کہ دونوں ٹانگوں کے درمیان تھوڑا فاصلہ ہو، کمرے کے بل جھک کر دائیں ہاتھ سے بائیں پاﺅں کو چھونے کی کوشش کریں۔ اس دوران آپ کا بایاں ہاتھ اوپر کی طرف ہو، یہی عمل اپنے بائیں ہاتھ اور دائیں پاﺅں کے ساتھ کریں، جب کہ دایاں ہاتھ اوپر کی طرف ہو، یہ ورزش بھی پانچ بار کریں۔

جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے کہ آپ یہ تمام ورزش ابتدا میں پورے طور پر نہیں کر سکیں گی، روزانہ کی مشق سے آپ انہیں بھر پور انداز میں کر سکیں گی اپنے جسم کو اسی حد تک پھیلائیں کہ جس حد تک بغیر تکلیف کے یہ پھیل جائے زبردستی کرنے کی کوشش نہ کریں اور نہ ہی جلد بازی کا مظاہرہ کریں۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>