Published On: Tue, Sep 3rd, 2013

آنکھوں کی قدرتی چمک برقرار رکھنے کے ٹوٹکے

eye-1صحت کسی وجہ سے خراب ہو تو اس کا سب سے پہلا اثر آنکھوں پر ہی پڑتا ہے جس سے ان کے اندر پھیکا پن پیدا ہوجاتا ہے۔ آنکھوں کی چمک برقرار رکھنے کیلئے متوازن غذا اور صحت کا ٹھیک ہونا ضروری ہے۔ وقت پر سونا اور جاگنا بھی آنکھوں کی صحت پر اچھا اثر ڈالتا ہے
روشن ستاروں جیسی چمکتی آنکھیں شخصیت کی دلکشی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں تبھی لڑکپن سے ہی ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی آنکھیں روشن اور چمکدار دکھائی دیں وہ جلد کی حفاظت کے ساتھ ساتھ آنکھوں کی خوبصورتی اور دلکشی برقرار رکھنے کیلئے ٹوٹکوں پر عمل کرتی دکھائی دیتی ہیں مگر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ صنف نازک کی بڑھتی ہوئی مصروفیات کے باعث اب اسے اپنی جلد اور بالوں کیلئے بہ مشکل ہی وقت ملتا ہے۔ البتہ آنکھوں کی خوبصورتی کے حوالے سے وہ پریشان ضرور ہوتی ہے مگر عملاً کچھ اقدام کرنے کی فرصت نہیں پاتی‘ حالانکہ دنیا بھر میں خوبصورتیاں‘ رنگینیاں اور جمالیاتی حسن آنکھوں ہی کی بدولت ہیں۔ شاعروں نے بھی آنکھوں کو اپنی شاعری کا موضوع بناتے ہوئے انہیں جھیل سی آنکھیں‘ غزالی آنکھیں اور خدا جانے کیا کیا قرار دیا ہے۔
آج کل آنکھوں کا میک اپ بھی خواتین میں بہت مقبول ہے اور ان کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے نت نئے میک اپ ٹولز اور مصنوعات مارکیٹ میں موجود ہیں‘ مگر یہ حقیقت ہے کہ آنکھوں کے اندر دلکشی تبھی پیدا ہوتی ہے جب ان کی صحت اچھی ہو‘ مصروفیت کے موجودہ دور میں کام کی زیادتی‘ نامناسب غذا‘ دوران خون کی کمی اور ذہنی دباؤ کے باعث اکثر خواتین کی آنکھوں کی خوبصورتی ماند پڑتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ پریشانیوں اور خوف و تھکن سے بھی آنکھوں کے پٹھے اور اعصاب بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ پانی کی کمی‘ موسمی تبدیلیاں‘ آب و ہوا‘ تیز دھوپ اور چمکیلی سفید برف آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ بہتر ہے ایسے میں سن گلاسز کا استعمال کیا جائے۔ بعض خواتین کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے بن جاتے ہیں جو اس بات کی نشانی ہیں کہ آنکھوں کی مناسب دیکھ بھال یا انہیں مناسب نیند یا آرام نہیں مل رہا ہے۔ آنکھوں کی چمک ماند پڑنے اور ان کے گرد حلقے بننے سے خواتین کو بہت تشویش ہوتی ہے کیونکہ ان کی وجہ سے چہرے کی دلکشی میں کمی واقع ہوجاتی ہے اور میک اپ کے بعد بھی چہرہ فریش نہیں لگتا ہے۔ سیاہ حلقوں سے نجات کیلئے تو چند آسان ٹوٹکے یہ ہیں جو خواتین برس ہا برس سے آزما رہی ہیں۔ دو عدد کاٹن بالز ٹھنڈے دودھ میں بھگو کر انہیں دس منٹ کیلئے روزانہ اپنی آنکھوں پر رکھیں۔ استعمال شدہ ٹی بیگز ٹھنڈے پانی میں بھگولیں اور انہیں روزانہ پندرہ سے بیس منٹ تک آنکھوں پر رکھیں۔ اس سے آئی بیگز سے بھی چھٹکارا حاصل ہوگا۔ ککڑی‘ کھیرے یا آلو کے قتلے کاٹ کر آنکھوں پر رکھیں آنکھیں فریش ہوجائیں گی اور روزانہ ایسا کرنے سے حلقے بھی ختم ہوجائیں گے۔
آنکھوں کی چمک برقرار رکھنے کے ٹوٹکے:صحت کسی وجہ سے خراب ہو تو اس کا سب سے پہلا اثر آنکھوں پر ہی پڑتا ہے جس سے ان کے اندر پھیکا پن پیدا ہوجاتا ہے۔ آنکھوں کی چمک برقرار رکھنے کیلئے متوازن غذا اور صحت کا ٹھیک ہونا ضروری ہے۔ وقت پر سونا اور جاگنا بھی آنکھوں کی صحت پر اچھا اثر ڈالتا ہے۔ تازہ دودھ‘ کچی سبزیاں‘ خشک اور تازہ پھل آنکھوں کی صحت پر انتہائی خوشگوار اثر ڈالتے ہیں۔ وٹامن ’’اے‘‘ کا استعمال بھی آنکھوں کیلئے انتہائی مفید ہے۔ یہ وٹامن مچھلی کے تیل‘ دہی‘ مکھن‘ انڈے کی زردی‘ گاجر‘ آم‘ پپیتے‘ ٹماٹر اور سبز پتوں والی سبزیوں کے علاوہ مختلف پھلوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ آنکھوں کو چمکدار اور خوبصورت رکھنے کیلئے ہلکی غذائیں استعمال کرنا ضروری ہے۔ مثلاً دودھ‘ مکھن‘ دالیں اور پھلوں کے جوس‘ گاجر کا جوس بھی آنکھوں کی خوبصورتی بڑھانے میں بے مثال کردار ادا کرسکتا ہے۔ بادام بینائی کے لیے بہت مفید ہے۔ روزانہ بادام اور سونف کا استعمال آنکھوں کی صحت اور بینائی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سبزہ اور ہریالی آنکھوں کو تراوت بخشتے ہیں۔ صبح اٹھتے ہی کوشش کریں کہ گھر میں موجود ہریالی کو کچھ دیر کیلئے دیکھیں صبح ننگے پاؤں سبز گھاس پر چلنا بھی آنکھوں کو بیماریوں سے بچانے کیلئے مفید ہے۔ دن میں کئی مرتبہ آنکھوں میں ٹھنڈے پانی کے چھینٹے ماریں۔ اس سے آنکھیں دھل جاتی ہیں۔ جس سے ان کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے۔
روشنی کا خاص خیال رکھیں:اکثر عورتیں سلائی کڑھائی‘ پڑھنے لکھنے اور کمپیوٹر کے استعمال میں خود کو اتنا مگن کرلیتی ہیں کہ آنکھیں باقاعدہ تھک جاتی ہیں اور بینائی بھی متاثر ہوتی ہے بہتر رہے گا کہ ہر گھنٹے بعد چند منٹ کیلئے آنکھیں بند کرکے ان کو ریسٹ دیا جائے اگر لینز یا عینک کا استعمال کرتی ہیں توپھر ایسا کرنا اور بھی ضروری ہے لکھنے پڑھنے اور سینے پرونے کا کام کرتے وقت روشنی کا خاص خیال رکھیں۔
آنکھوں کی صحت میں روشنی کا بھی اہم کردار ہے۔ خاص طور پر پڑھتے وقت اور لکھتے وقت روشنی کا خیال رکھیں کہ روشنی کتاب پر پڑرہی ہو اور کتاب مناسب فاصلے پر ہو۔ لیٹ کر‘ چلتے پھرتے اور چلتی ہوئی گاڑی میں پڑھنے سے اکثر ماہرین امراض چشم منع کرتے ہیں۔ کتاب پڑھتے ہوئے اپنی پلکوں کو بار بار جھپکاتی رہیں ایسا نہ کرنے کی صورت میں آپ کی آنکھیں خشک ہوجائیں گی اور آپ کو ان میں چبھن محسوس ہونے لگے گی۔
آنکھوں کو روشن اور چمکدار بنانےکی ورزش:آنکھوں کو روشن اور چمکدار بنانے کیلئے ایک ورزش بھی اپنائی جاسکتی ہے۔ سر کو سیدھا رکھیں‘ پھر آنکھوں کو زور سے اوپر اٹھائیں‘ تھوڑی دیر تک آنکھوں کو اسی حالت میں رکھیں پھر جہاں تک ممکن ہو نظر نیچے کرلیں کچھ دیر وقفے کے بعد ٹھہریں اور بائیں جانب دور تک دیکھیں تھوری دیر وہیں دیکھتی رہیں‘ پھر دائیں جانب دیکھیں۔ ایک لمحہ یوں ٹھہرنے کے بعد چاروں طرف گھمائیں۔ اس ورزش سے آنکھیں چند روز کے بعد روشن اور چمکیلی ہوجاتی ہیں۔ پانی زیادہ پینے سے بھی آنکھوں کی چمک میں اضافہ ہوگا۔ آنکھ میں انفیکشن کی صورت میں خود سے تجویز کردہ دوا استعمال نہ کریں۔ اس کے لیے آپ کو صرف ڈاکٹر ہی سے درست مشورہ مل سکتا ہے۔
ماہرین امراض چشم اور ماہرین آرائش حسن کا کہنا ہے کہ آنکھوں کی خوبصورتی برقرار رکھنے کے لیے نیند کا پورا ہونا ضروری ہے۔ کوشش کریں کہ اپنی تمام نیند رات کو ہی پوری کرلیں‘ کیونکہ عموماً دن میں تو سونے کیلئے مناسب حالات میسر نہیں ہوتے۔ کالج‘ یونیورسٹی‘ ورک پلیس‘ گھر میں بچوں اور دوسرے اہل خانہ کی مصروفیات کے باعث ایک اچھی نیند لینا خواب بن جاتا ہے اور اگر کسی وقت سو بھی جائیں تو دن کی نیند بہرحال رات کی نیند کا نعم البدل کبھی بھی نہیں بن سکتی۔
آج کل رات کو دیر سے سونے اور صبح دیر سے اٹھنے کی عادات بڑھ رہی ہیں جس سے آنکھوں کی صحت پر بھی اچھا اثر نہیں پڑتا‘ کیونکہ آدھی رات تو جاگ کر گزار دی جاتی ہے اور دوسرے صبح کو نماز بھی رہ جاتی ہے اور صبح کی سیر بھی نہیں ہوسکتی اور نہ ہی سبز سبز گھاس یا سبزہ دیکھ کر آنکھوں کو سکون پہنچایا جاسکتا ہے۔تقریبات سے واپسی اگردیر سے ہو تو سونے سے قبل ضرور آئی میک اپ اتار کر سوئیں‘ بلکہ بستر کا رخ کرنے سے پہلے آنکھوں کو ایک بار ٹھنڈے پانی سے دھولیں تاکہ آنکھوں کی تھکن میں کمی واقع ہوسکے۔یوں بھی اگر میک اپ اتارنے میں لاپرواہی کی اور سوگئے تو عین ممکن ہے کہ صبح تک میک اپ کے ذرات کی وجہ سے آنکھوں میں انفیکشن ہوچکی ہو‘ وہ سوج جائیں یا پھر سوراخ ہوجائیں۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>