Published On: Mon, Jul 1st, 2013

دنیا بالآخر مذہب کی طرف لوٹ رہی ہے

آج دنیا بھر میں انسان مذہب کی طرف لوٹ رہا ہے۔ سیکولرازم اور الحاد کے نظریات دم توڑ رہے ہیں۔ بطور اجتماعی تحریک کے اب بھی سیکولرازم موجود ہے مگر شخصی و انفرادی زندگی، فکر و عمل اور جذبہ و احساس کی سطح پر دم توڑ رہا ہے۔ اب محض قومی، ملکی جبر، سیاسی نظام یا سماجی ادارے کے طور پر سیکولر تصورات کے ساتھ ایک طرح کی رسمی، خارجی، سطحی اور ظاہری وابستگی قائم ہے۔ جذباتی، شعوری اور شخصیت کے اندرونی احساسات کی سطح پر سیکولرازم کے ساتھ انسانوں کی وابستگی ختم ہو رہی ہے۔ اس وقت دنیا میں ہر جگہ انسان پھر سے مذہب کے تقدس کی شناخت سے بہرہ ور ہو رہا ہے۔ رسل و رسائل کے ذرائع، عالمی مماثلت، اتصال و قرب اور ثقافتی ربط و ضبط نے مذہبی شعور کو تقدس کا آفاقی رنگ دے دیا ہے۔ انسان یوں بھی کسی نہ کسی چیز کے تقدس کا ہر عہد اور ہر ماحول میں قائل رہا ہے۔ دنیا کی تمام اقوام و ملل اپنے اپنے دائرۂ زیست کسی نہ کسی چیز کو ماورائی تقدس سے جوڑے ہوئے ہیں۔ حد یہ کہ سیکولرازم کے ماننے والے بھی خود سیکولرازم کو تقدس کا روپ دے کر ہی مانتے ہیں کیونکہ کسی بھی چیز کو جب تک تقدس کے ہالے میں نہ لپیٹ لیا جائے اس کو تسلیم کرنے اور اس کی توسیع و اشاعت کا امکان نہیں ابھرتا۔

مذہب کا وجود تو ویسے بھی اور کہیں بھی ختم نہیں ہوا۔ ملحدو و سیکولر معاشرے بھی مذہب کے وجود کے ہمیشہ سے قائل تھے۔ اسی لئے اپنے اندر مذہب کو ماننے والے طبقوں، گروہوں کا وجود اور حقوق بھی تسلیم کرتے تھے؛ مگر اپنے لئے مذہب کے تقدس کو پسند نہیں کرتے تھے، مگر رفتہ رفتہ سیکولر دنیا میں بھی تبدیلی آئی اور اب یہ حال ہے کہ مذہب کا تقدس دوبارہ انفرادی ذرائع سے لوگوں کے دلوں میں خود بخود بڑھتا جا رہا ہے اور کیوں نہ ہو کہ مذہب فی الواقع انسانی فطرت کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا تقاضا ہے۔ اس دھرتی کے سینے پر انسان نے جس لمحے قدم رکھا، مذہبی شعور پوری قوت اور تابانی کے ساتھ اس کی فطرت کے تمام گوشوں اور پہنائے وجود کی سب پرتوں میں جگمگا رہا تھا اور جب تک انسان کرۂ ارض کی فضائوں میں سانس لے رہا ہے مذہبی شعور اس کے جیون کے ہر افق پر روشنی بکھیرتا رہے گا۔

دنیا میں اس سے پہلے مذہب کے انکار کی جتنی بھی وجوہات تھیں؛ خواہ اسے آلۂ استحصال سمجھ کر یا جمود و تعطل کا ذریعہ گردانتے ہوئے یا غیرعملی و غیر سائنسی افسانوی تخیل قرار دے کر انکار کیا گیا، بہر آئینہ اب انکار مذہب کی سب وجوہات ختم ہو رہی ہیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ مذہب کے انکار کے بعد زندگی کی حقیقت، انسان کے وجود، کائنات کی تخلیق، نظام فطرت اور موجودات عالم کی جتنی بھی تعبیرات، توجیہات اور توضیحات اپنائی گئیں؛ جتنے بھی نظام، تمدن، نظریئے، فلسفے، تحقیقات اور تہذیبی سانچے وضع کئے گئے، جتنے بھی اخلاقی معیارات اپنائے گئے، جتنی بھی اقدار وجود میں آئیں ،وہ سب ایک عرصہ تک عملی تجربات کے ذریعے بالآخر ناکام ثابت ہو گئیں۔ ان سب کے مقابلے میں مذہب کا اقرار کہیں زیادہ آسان، کہیں زیادہ قابل فہم اور کہیں زیادہ قابل قبول نظر آنے لگا۔ مذہب کے انکار سے فہم و دانش کے لئے جو مسائل پیدا ہوئے ان کا حل انسانی ذہن، فلسفہ، شاعری اور تہذیبی نظریات سب مل کر بھی مہیا کرنے سے قاصر رہے۔ اس کے برعکس یہ حقیقت ہے کہ مذہب کے اقرار سے انسانی مسائل اور حیات و کائنات کے جملہ سوالات بہت ہلکے اور قابل حل نظر آنے لگتے ہیں۔ بناء بریں مذہب کو خواہ کتنا ہی دقیانوسی، فرسودہ اور بے کار سمجھا جائے بہرآئینہ اسے ماننا انکار کے مقابلہ میں زیادہ آسان اور بہتر محسوس ہوتا ہے۔ یہ ہے وہ حقیقت جسے اب دنیا بالآخر پوری قوت کے ساتھ تسلیم کرنے لگی ہے۔

سائنسی تحقیقات اور نظریات جیسے حسیت، مادیت، نظریہ ارتقاء، ہیگل کی جدلیاتی مادیت، کانٹ کے نظریات وغیرہ سب جنہوں نے انیسویں صدی تک انسانی اذہان پر تسلط جمایا ہوا تھا بالآخر سب کے سب خود سائنس ہی کی جدید تحقیقات سے غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ آج کی سائنسی تحقیقات روحانیت، ماورائیت، تجرید اور باطنیت کو پوری طرح ثابت کر رہی ہیں جس سے بالآخر مذہب کا آفاقی تشخص ابھر رہا ہے۔

بشکریہ ماہنامہ دلیلِ راہ

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>