Published On: Wed, Aug 9th, 2017

نوازشریف کا قافلہ لاہور کی جانب رواں دواں

900369-nawazconvoy-1502277979-404-640x480اسلام آباد: لاہور جانے کے لیے سابق وزیراعظم نوازشریف کا قافلہ رواں دواں ہے لیکن کارکنوں کے جم غفیر کی وجہ سے سیکنڈوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہورہا ہے۔
سابق وزیراعظم نوازشریف کی قیادت میں ریلی کو آج صبح 10 بجے پنجاب ہاؤس سے لاہور کے لیے روانہ ہونا تھا لیکن ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر کے بعد سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما پنجاب ہاؤس سے نکلے۔ روانگی سے قبل نواز شریف کی سلامتی کے لیے 5 بکروں کو صدقے کے طور پر قربان کیا گیا۔ نوازشریف کو رخصت کرنے کے لیے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی پنجاب ہاؤس کے باہر تھے۔
روانگی سے قبل نواز شریف نے وزرا کو ہدایت کی کہ شاہد خاقان پارٹی کےمخلص اور دیرینہ کارکن ہیں، وزرا اور پارٹی رہنما وزیر اعظم شاہدخاقان سے تعاون کریں۔ انہوں نے شاہد خاقان عباسی سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ ملک کےوزیراعظم ہیں، ہم نے4سال پہلےجو سفر شروع کیا اُسے پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے جہاں میں نے کام چھوڑا وہاں سے تیز رفتاری سے آگے بڑھائیں، تمام وزارتوں کی براہ راست نگرانی کرکے منصوبے جلد مکمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف پنجاب کی جان اور پاکستان کی شان ہیں، انہوں نے پنجاب کو رول ماڈل بنایا ہے لیکن اب بھی انہیں مزید کام کرنے ہیں.
ایکسپریس چوک سے روانگی کے بعد نوازشریف کو مجاہد پلازہ بلیو ایریا، فیصل چوک، زیرو پوائنٹ، آئی ایٹ اور فیض آباد استقبالیہ دیاجائےگا، جس کے بعد ریلی مری روڈ پرفیض آباد، شمس آباد، سکستھ روڈ، رحمان آباد، چاندنی چوک، ناز سینما، کمیٹی چوک اور لیاقت باغ سے گزرے گی، ان تمام مقامات پر ریلی کواستقبالیہ دیا جائے گا۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر مری روڈ سے ملحقہ تمام سڑکیں، پیٹرول پمپ اور دکانیں بھی مکمل طور پر بند کرادی گئی ہیں ۔ نواز شریف کے فیض آباد، شمس آباد اور کچہری میں بھی خطابات متوقع ہیں۔ مریڑچوک، کچہری چوک سے ریلی ٹی چوک جائے گی اور وہاں سے روات سٹی پہنچے گی جہاں پر بھی نواز شریف کا کارکنوں سے خطاب متوقع ہے، اس کے بعد ریلی جی ٹی روڈ سے مندرہ، گجر خان، سہاوا اور دینہ سے گزرتی ہوئی جہلم پہنچےگی، جہاں نواز شریف کارکنوں سے خطاب کریں گے اورپھر سرائے عالمگیر میں رات قیام کریں گے۔
ریلی کے روٹ پر اسلام آباد پولیس، اسپیشل برانچ اور حساس اداروں کے 2500سے زائد اہلکار تعینات ہوں گے۔ ریلی کی فیض آباد تک سیکیورٹی کی ذمہ داری اسلام آباد پولیس کی ہوگی، اس کے بعد پنجاب پولیس سیکیورٹی فراہم کرے گی جب کہ ایمرجنسی صورتحال میں راولپنڈی میں 4 ہیلی پیڈ بھی بنا دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب پنجاب حکومت نے 11 اگست تک لاپور سے راولپنڈی تک جی ٹی روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردی ہے

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>