Published On: Tue, Sep 10th, 2013

برطانوی کمپنیوں کا شام کو زہریلے کیمیکلز کی فروخت کا انکشاف

uk delivered chemicals to syriaلندن: ایک برطانوی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ برطانوی کمپنیوں نے گذشتہ چھ سال کے دوران شام کو زہریلے کیمیکلز فروخت کئے تھے اور انھیں اعصاب شکن زہریلی گیس میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا جس کے حملے کے نتیجے میں دمشق کے نواح میں گذشتہ ماہ ایک ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ برطانوی روزنامے ڈیلی میل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانوی حکومت نے جولائی 2004 سے مئی 2010 کے درمیان دو کمپنیوں کو برآمدی لائسنس جاری کیے تھے اور ان کے تحت شام کو سوڈیم فلورائیڈ فروخت کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ یہی کیمیکل مہلک گیس سیرن کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ برطانوی حکومت نے ہفتے کی رات پہلی مرتبہ شام کو یہ کیمیکل بھیجنے کا اعتراف کیا ہے۔ اس طرح برطانیہ نے شام کو یہ کیمکل فروخت کر کے خطرناک مواد کی تجارت پر پابندی کے بین الاقوامی پروٹوکول کی خلاف ورزی کی ہے۔ برطانوی کمپنیوں نے شام کی ایک کاسمٹیکس کمپنی کو جائز مقاصد کے لیے سوڈیم فلورائیڈ فروخت کیا تھا لیکن انٹیلی جنس ماہرین کا خیال کیا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت نے اس کیمیکل کو خطرناک کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال کیا تھا۔ زہریلی سیرن گیس فلورین اورسوڈیم فلورائیڈ کے ہائیڈروجن، آکسیجن اور فاسفورس کے آمیزے سے تیار ہوتی ہے اور اس کو دنیا کا سب سے خطرناک کیمیائی جنگی ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔ یہ اعصابی نظام کے علاوہ اعصاب اور اہم اعضا کو تباہ کر دیتی ہے۔ برطانوی پارلیمان کی اسلحہ برآمدی کنٹرول کمیٹی کے رکن تھامس ڈوچرٹی نے اخبار کے اس انکشاف کو ہولناک قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بشارالاسد حکومت کا اس مواد پر ہاتھ نہیں پڑنا چاہیے تھا۔ ان کے بقول جب برآمدی لائسنس جاری کئے گئے تھے تو ان کے خیال میں درحقیقت کوئی کیمیکلز مہیا نہیں کیے گئے تھے۔ رکن پارلیمان نے ڈیلی میل کو بتایا کہ معیاری طریق کار یہ ہے کہ لائسنس مئی 2010 میں جاری کیے گئے تھے اور یہ مصنوعات کی تیاری اور ان کی ڈلیوری سے چار سے پانچ ماہ قبل حاصل کئے گئے تھے۔ اس لیے ہم 2010 کے آخر میں برطانیہ سے سوڈیم فلورائیڈ کی برآمد کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس ضمن میں حکومت کو بہت سنجیدہ سوالات کا جواب دینا ہے۔ اخبار نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا ہے کہ برطانیہ کے محکمہ تجارت، ایجادات اور مہارتوں (بی آئی ایس) نے 2012 میں برآمدی لائسنس جاری کیے تھے اور انھیں شام کو کیمیائی ہتھیار بھیجنے کے لیے استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ اس محکمے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ”یہ لائسنس برطانیہ کی دو برآمد کنندہ کمپنیوں کو جاری کیے گئے تھے اور انھوں نے شام کی دوتجارتی کمپنیوں کو سوڈیم فلورائیڈ مہیاء کرنا تھا۔ اس میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ اس کو کاسمیٹکس کی پیداوار کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس لیے اس کو شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام سے جوڑنے کا کوئی جواز نہیں ہے”۔

About the Author

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>